اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آسام: لاکھوں مسلمانوں کے بے وطن ہونے کا اندیشہ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
آسام: لاکھوں مسلمانوں کے بے وطن ہونے کا اندیشہ
137
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: شکیل اختر

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے موری گاؤں کے عبدالقادر بنگالی نسل کے لاکھوں باشندوں کی طرح کئی نسلوں سے ریاست میں آباد ہیں۔ ان کے پاس سنہ 1941 سے اب تک کے سبھی دستاویزات موجود ہیں لیکن انھیں غیرملکی یعنی بنگلہ دیشی قرار دیا گيا ہے۔ انھیں فارنرز ٹرابیونل میں اب ثابت کرنا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں:’ہمارا جنم یہیں ہوا۔ ہم نے سارا ریکارڈ جمع کیا ہے۔ سنہ 1941 سے اب تک کا۔ میں نے سنہ 1950 کا حج کا پاسپورٹ بھی دیا ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے فارنر ڈکلیئر کر دیا۔‘

اسی ریاست میں گوالپاڑہ کی مرجینا بی بی ہندوستانی شہری ہیں لیکن پولیس نے انھیں ایک دن بنگلہ دیشی بتا کر گرفتار کر لیا۔ وہ آٹھ ماہ تک حراستی مرکز میں رہ کر آئی ہیں۔ مرجینا کہتی ہیں:’میرے چچا نے سارے کاغذات دکھائے، سارے ثبوت پیش کیے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں بنگلہ دیشی ہوں۔ جیل میں میرے جیسی ہزاروں عورتیں قید ہیں۔‘ مرجینا ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد جیل سے رہا ہوئی ہیں۔

آسام میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 34 فیصد ہے۔ ان میں اکثریت بنگالی نسل کے مسلمانوں کی ہے جو گزشتہ 100 برس کے دوران یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ یہ لوگ بیشتر غریب، ان پڑھ اور زرعی مزدور ہیں۔

ملک میں سرگرم ہندو تنظیم آر ایس ایس، برسر اقتدار جماعت بی جے پی اور اس کی ہمنوا مقامی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آسام میں لاکھوں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن آ کر بس گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ دو عشرے سے ووٹر لسٹ میں ان لوگوں کو ’ڈی ووٹر‘ مشکوک شہری لکھنا شروع کیا ہے جو شہریت کے دستاویزات یا ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

غیر قانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی شناخت کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آسام کے سبھی شہریوں کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے۔

’نیشنل رجسٹر فار سٹیزنز‘ یعنی این آر سی کی حتمی فہرست جون میں جاری کی جائے گی۔ این آرسی کے سربراہ پرتیک ہجیلا نے بتایا کہ شہریوں کی اس فہرست میں ان لوگوں کو شامل نہیں کیا جائے گا جنھیں ڈی ووٹر یا غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سبھی شہریوں کی ’فیملی ٹری‘کی جانچ ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ 29 لاکھ خواتین نے پنچایت سرٹیفکیٹ دی ہیں اور ان کی بھی گہرائی سے چھان بین ہو رہی ہے۔

این آرسی کے سربراہ پرتیک ہجیلا نے بتایا کہ اس فہرست میں ان لوگوں کو شامل نہیں کیا جائے گا جنھیں ڈی ووٹر یا غری ملکی قرار دیا گیا ہے۔ پرتیک کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں شہریت اور قومیت سے کتنے لوگ باہر ہو جائیں گے یہ بتانا مشکل ہے۔

‘یہ عمل ایک امتحان کی طرح ہے۔ اس کا پہلے سے نتیجہ بتانا مناسب نہیں ہے۔ یہ میں ضرور بتا سکتا ہوں کہ اس عمل کے بعد جو بھی تعداد سامنے آئے گي وہ قطعی اور درست ہوگی۔

سول سوسائٹی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حتمی فہرست آنے کے بعد لاکھوں بنگالی مسلم بے وطن ہو سکتے ہیں۔

جسٹس فارم کے عبدالباطن کھنڈکار کہتے ہیں: ’ڈی ووٹرز اور ڈکلیئرڈ فارینرز کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہے۔ اور ان کے بچوں کی تعداد 15 لاکھ ہوگی۔ یہ سبھی فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ کم از کم 20 لاکھ بنگالی نسل کے باشندے شہریت اور قومیت سے محروم ہو جائيں گے۔‘

شہریت سے محروم کیے جانے والوں کو ملک سے نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ انھیں بنگلہ دیش بھیجنے کے لیے پہلے ان کی قومیت کی شناخت طے کرنی ہوگی۔

دوئم یہ کہ بنگلہ دیش سے اس قسم کا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ یہ ثابت کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا کہ یہ بے وطن ہونے والے باشندے بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ صورت حال ہے۔

آسام کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار نیلم دتا کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر مشکلات پیدا ہوں گی لیکن اگر کسی شہری کو غیر ملکی قرار دیا جائے تو اس کے لیے قانونی راستہ بچا ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’آسام میں بنگلہ دیشیوں کے آباد ہونے کا سوال ایک سیاسی سوال ہے۔ اسے بی جے پی آئندہ پارلیمانی انتخابات میں اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرے گی۔‘

حکومت نے ممکنہ طور پر بے وطن ہونے والوں کو حراست میں رکھنے کے لیے حراستی کیمپ بنانے کی غرض سے بعض مقامات پر زمینیں حاصل کی ہیں۔ ریاست میں جورہٹ، ڈبروگڑھ، گوالپاڑہ، سلچر، تیج پور، اور کوکراجھار کی جیلوں میں پہلے ہی حراستی کیمپ بنے ہوئے ہیں۔

گذشتہ مہینے شہریوں کی پہلی فہرست جاری ہوئی تھی۔ کچھار ضلعے کے حنیف خان نے فہرست آنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ انھیں اندیشہ تھا کہ اگر ان کا نام اس میں نہیں آیا تو انھیں گرفتار کرکے بنگلہ دیش ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ اس فہرست میں ان کا نام نہیں تھا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر رنجیت داس کہتے ہیں کہ شاید انسانی بنیادوں پر حکومت ہند انھیں رہنے دے

شہریوں کی فہرست کی تیاری کے لیے پوری ریاست میں ہر جگہ دستاویزات کی چھان بین جاری ہے۔ حکمراں بی جے پی کو یہ اندازہ ہے کہ شہریت سے باہر ہونے والوں کی تعداد خاصی بڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا اس کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر رنجیت داس کہتے ہیں:’ان لوگوں کا نام ووٹر لسٹ سے باہر ہو جائے گا۔ انسانی بنیادوں پر حکومت ہند انھیں رہنے دے گی۔ شاید ان کا ووٹنگ کا حق ختم ہو جائے گا۔ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ کچھ تو راستہ نکالنا ہوگا۔‘

ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے رہنما ترون گگوئی نے ہی شہریت کا قومی رجسٹر بنانے کی ابتدا کی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ ریاست میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کا سوال محض سیاسی نعرہ ہے۔ کانکریس کے رہنما اور آسام کے سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے زمانے میں اس فہرست کی تیاری کی ابتدا ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا:’بی جے پی تین سال سے اقتدار میں ہے۔ کتنے بنگلہ دیشی اس نے پکڑے؟ میرا خیال ہے کہ این آر سی کی فہرست میں زیادہ لوگ باہر نہیں ہوں گے۔ اگر زبردستی کسی کو غیر ملکی قرار دیا گیا تو ہم لوگ مزاحمت کریں گے۔ یہ جمہوریت ہے۔ یہاں قانون کی بالادستی ہے۔‘

پورے آسام میں بنگالی مسلمان شدید بے یقینی کی گرفت میں ہیں۔ شہریت کی دوسری اور آخری فہرست جون کے اواخر میں آنے والی ہے۔ آسام کے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت اور قومیت کا مستقبل اسی فہرست پر منحصر ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں، بشکریہ : بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN