تحریر: منویر سنگھ
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شری رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے۔ اسی دوران خبر ہے کہ لیڈروں-افسروں کے رشتہ داروں نے ایودھیا میں ضابطوںکی خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین خریدی ہے۔ اس بار مہارشی رامائن ودیاپیٹھ ٹرسٹ بحث کے مرکز میں ہے۔ الزام ہے کہ ٹرسٹ نے دلتوں کی زمین اپنے بااعتماد دلت کو دلائی پھر اسے ٹرسٹ کو عطیہ کرایا دیا۔ پھر اسی زمین کواہلکاروں نے اپنے رشتہ داروں کے نام پر خریدی لی۔ اس میں ایسے افسران بھی ہیں جو ٹرسٹ کے خلاف جانچ کر رہے تھے۔ زمین خریدنے والوں میں بی جے پی کے دو ایم ایل اے بھی شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے ایک کی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔
مہارشی رامائن ودیاپیٹھ ٹرسٹ نے 1990 اور 1996 کے درمیان برہٹا مانجھا اور آس پاس کے علاقے میں بڑے پیمانے پر کئی میں زمینیں خریدیں۔ ان میں سے بہت سی زمینیں ایسی ہیں کہ انہیں خریدنے کے لیے ضابطوں اورقانون کو طاق پر رکھ دیا گیا۔ اترپردیش لینڈ ریونیو کوڈ میں مذکور قوانین کے تحت غیر دلت کو کسی دلت سے زمین خریدنے یا اس زمین کو دلت کی جانب سے آبادی کی زمین میں تبدیل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ لیکن مہارشی رامائن ودیاپیٹھ ٹرسٹ نے اپنا جگاڑ نکالا۔
ٹرسٹ کے لوگوں نے پہلے دلتوں سے اپنے ٹرسٹ کے دلت شخص کے نام پر زمین خریدی۔ پھر اسی زمین کو 1996 میں عطیہ خط کے ذریعے ٹرسٹ کے نام کرالی۔ آسان الفاظ میں،کہیں تو جس دلت شخص کے نام دلتوں سے زمین خریدی گئی، اسی دلت شخص نے مہارشی رامائن ودیاپیٹھ ٹرسٹ کو عطیہ کر دی۔ اس طرح پوری زمین مہارشی رامائن ودیا پیٹھ ٹرسٹ کے نام پر ریونیو ریکارڈ میں درج ہو گئی۔
ٹرسٹ کے نام پر بھی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی
عطیہ کی گئی زمین بغیر کسی رجسٹرڈ عطیہ کے ریکارڈ کے براہ راست ٹرسٹ کے نام پر درج ہو گئی۔ اس طرح ٹرسٹ کو اراضی کی نوعیت بھی نہیں بدلنی پڑی اور اپنے نام پر اراضی کا اندراج کروانے کے لیے رجسٹری کے لیے لاکھوں روپے کے اسٹامپ بھی نہیں دینے پڑے۔
یہ پیپر ایودھیا کے موجودہ کمشنر ایم پی اگروال کے رشتہ داروں کی طرف سے خریدی گئی زمین سے متعلق ہے۔

ایسے سامنے آیا پورا معاملہ
جن دلتوں کی زمین خریدی گئی ان میں سے ایک کا نام مہادیو تھا۔ مہادیو نے بورڈ آف ریونیو یعنی ریونیو بورڈ لکھنؤ سے شکایت کردی۔ الزام ہے کہ ان کی زمین مہارشی رامائن ودیا پیٹھ ٹرسٹ کے نام پر غیر قانونی طور پر منتقل کی گئی ہے۔ اس شکایت کے بعد فیض آباد کے ایڈیشنل کمشنر شیو پوجن اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گوری لال شکلا کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کو ایودھیا کے موجودہ کمشنر ایم پی اگروال نے 2021 میں منظوری دی تھی۔ اس کے بعد افسران کے رشتہ داروں نے ٹرسٹ سے زمین خریدلی۔
پولیس اور افسران کے ان رشتہ داروں نے ٹرسٹ سے خریدی زمین
ایودھیا کے کمشنر ایم پی اگروال کے سسر کیشو پرساد نے 25 بائی 30 مربع میٹر اور ان کی بہن کے شوہر آنند وردھن نے 1260 مربع میٹر زمین خریدی۔ چیف ریونیو آفیسر پرشوتم داس گپتا کے سالے اتل گپتا کی بیوی ترپتی گپتانے زمین خریدی۔ ڈی آئی جی دیپک کمار کیسالی مہیما ٹھاکر کے نام سے خریدی گئی ۔ ایودھیا میں ایس ڈی ایم اور ایڈیشنل مجسٹریٹ آیوش چودھری کی کزن شوبھیتا رانی کے نام پر بھی زمین خریدی گئی ۔ الہ آباد کے کمشنر رہے اما دھر دویدی نے بھی یہ زمین خریدی۔
حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی نے بھی رشتہ داروں کے نام پر زمینیں خریدیں
ایودھیا ضلع کے گوسائی گنج اسمبلی سے ایم ایل اے رہے اندر پرتاپ تیواری عرف کھبو تیواری کے بہنوئی راجیش مشرا کےنام سے زمین خرید ی گئی۔ ایودھیا کے موجودہ بی جے پی ایم ایل اے وید پرکاش گپتا کے بھتیجے ترون متل کے نام پر زمین خریدی گئی۔
خریدی گئی تمام زمین مہارشی ودیا پتی ٹرسٹ سے وابستہ ہے
پولیس، انتظامیہ کے افسران اور حکمراں پارٹی کے لیڈروں کے رشتہ داروں کی طرف سے خریدی گئی تمام زمین مہارشی ودیا پیٹھ ٹرسٹ سے وابستہ ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ زمین خرید وفروخت کو لےکر جو مہارشی ودیا پیٹھ ٹرسٹ کٹہرے میں ہے ، اسی سے افسران اور لیڈروں کے رشتہ داروں نے کیسے زمین خرید لی؟ کیان ان افسروں یا پھر لیڈروںکو اس کا علم نہیں تھا؟سوال ان کی شمولیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ فی الحال زمین کی خریدوفروخت کے معاملے میں حکومت کی جانب سے تحقیقات کے حکم کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں۔ سب ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ان کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے رشتہ داروں کی خریدی ہوئی زمین ان کا ذاتی معاملہ ہے۔
(بشکریہ: آج تک )










