ترکی اب بنگلہ دیش میں اپنی اسٹریٹجک گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ کوشش بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ حالیہ پیش رفت نے ہندوستان کے سیکورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ ترکی کی یہ کارروائی ہندوستان کے مشرقی پڑوس میں ایک نیا چیلنج بننے جا رہی ہے۔
*ترکی کی حکمت عملی اور بنگلہ دیش
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکی نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ خبر ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن مبینہ طور پر بنگلہ دیش میں اسلامی گروپوں کو مالی اور انٹیلی جنس مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ترکی کی دفاعی صنعت کے ادارے کے سربراہ ہالوک گورگن نے 8 جولائی کو بنگلہ دیش کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یونس اور فوجی حکام سے ملاقات کی۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور صنعتی تعاون کو بڑھانا ہے۔
بھارت ـ ترکی کے تعلقات میں تناؤ
ترکی کی بھارت مخالف پالیسیاں کوئی نئی بات نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر ترکی کا موقف بھارت کے خلاف رہا ہے اور حال ہی میں ترکی نے بھارت کے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو مدینہ طور پر فوجی مدد فراہم کی تھی۔ 2019 اور 2022 کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور میڈیا جنگ اپنے عروج پر تھی، اب بنگلہ دیش میں ترکی کی بڑھتی ہوئی موجودگی بھارت کے لیے تشویش کی نئی وجہ بن رہی ہے
*/بنگلہ دیش کی فوجی جدیدیت اور ترکی کی حمایت
بنگلہ دیش اپنے ‘فورسز گول 2030’ منصوبے کے تحت فوجی جدید کاری پر کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں ترکی سے ڈرونز، راکٹ سسٹم جیسے TRG-300 اور دیگر ہتھیاروں کی خریداری شامل ہے۔ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکی بنگلہ دیش کو ہندوستان کے خلاف ‘کِل چین سسٹم’ تیار کرنے میں مدد کر رہا ہے، جس سے ہندوستان کی مشرقی سرحد پر خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
نیا بھارت مخالف اتحاد:
یہ صورتحال بھارت کے لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں یونس کی حکومت آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں لگاتار تناؤ بڑھ گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بھارت میں پناہ لینے کے بعد بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف عوامی غصہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ بنگلہ دیش کے پاکستان اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بھی بھارت کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش ترکی، پاکستان اور چین سے ہاتھ ملا کر ایک نیا بھارت مخالف اتحاد بنا سکتا ہے۔
بھارت کا محتاط ردعمل
بھارت نے ابھی تک سرکاری طور پر اس معاملے پر کوئی سخت بیان نہیں دیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی دہلی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت نے اپنی شمال مشرقی سرحدوں پر فوجی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی بات چیت کے راستے بھی کھلے رکھے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان بنگلہ دیش کے ساتھ "مثبت ماحول” میں تمام مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔بنگلہ دیش میں ترکی کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اور فوجی سرگرمیاں ہندوستان کے لیے ایک نیا سیکورٹی چیلنج بن سکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے سفارتی اور سٹریٹجک دونوں سطحوں پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محتاط اور فعال انداز اپنانا ہو گا۔










