لکھنؤ : (ایجنسی)
یوپی انتخابات سے قبل سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اپنے پورے پریوار کے ساتھ اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہو گئے ہیں۔ سابق باہوبلی رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اپنی اہلیہ شائستہ پروین کے ساتھ اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی۔ آج شائستہ پروین کو اویسی کی پارٹی میں رکنیت دلائی گئی۔ بتادیں کہ عتیق احمد اس وقت جیل میں بند ہیں۔ مانا جا رہاہے کہ پریاگ راج سیٹ سے اسمبلی انتخاب لڑنے کے لیے ٹکت دے گی ۔
یہی نہیں ، اے آئی ایم آئی ایم کے اس داؤ سے سماج وادی پارٹی کی مشکلیں ضرور بڑھ سکتی ہیں۔ مسلمانوں پر دونوں پارٹیوں کا فوکس کچھ زیادہ ہی رہتاہے ۔ اے آئی ایم آئی ایم کو پریاگ راج میں مضبوط پکڑ رکھنے والے عتیق احمد کی حمایت سے ایس پی کی راہ مشکل ہو سکتی ہے۔ معلوم ہو کہ گزشتہ ایک سال سے عتیق احمد کے خلاف تابڑ توڑ کارروائی چل رہی ہے ۔ کیرلی ، کساری مساری ،چکیا ، سول لائنس، نواب یوسف روڈ، ہائی کورٹ روڈ، لوکر گنج سمیت شہر کے کئی شاپ علاقوں میں موجود ان کی جائیداد کے علاوہ چکیا واقع ان کے اور ان کے بھائیوں اور قریبی سمیت رشتہ داروں کے مکان پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی منہدم کرچکی ہے۔ ابھی کئی جائیداد کی شناخت کی گئی ہے۔ عتیق اور اس کے قریبی کی زرعی اراضی اور پلاٹوں کو بھی یوگی سرکار نے قبضے میں لے لیا ہے ۔
بتادیں کہ سماج پارٹی اور اکھلیش یادو پہلے ہی عتیق احمد سے دوری بنا چکے ہیں۔ پھولپور لوک سبھا سیٹ سے پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے پر عتیق احمد نے پارٹی کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے آزادامیدوار لڑا تھا، حالانکہ ایس پی نے سیٹ پر جیت حاصل کرلی تھی۔
عتیق احمد اس سے قبل 5 بار اسمبلی انتخابات لڑ چکے ہیں اور 5 بار ایم ایل اے بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سال 2004 میں ایک بار رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ وہ دو بار سماج وادی پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ دو بار ڈاکٹر سونے لال پٹیل کے ذریعہ شروع کئے گئے اپنا دل میں بھی رہ چکے ہیں۔ موجودہ وقت میں ان کاپریوار کسی بھی پارٹی میں نہیں تھا۔ اسمبلی انتخاب سے عین قبل سماج وادی پارٹی نے عتیق احمد کو باہر کا راستہ دکھایا تھا۔ انہیں گزشتہ اسمبلی انتخاب میں ٹکٹ نہیں دیاگیا تھا ۔











