اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بنگال پھر قومی قیادت کے آزمائشی سفر پر!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
بنگال پھر قومی قیادت کے آزمائشی سفر پر!
68
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم


آپ جس حکومت سے جائز بنیادوں پر نالاں ہوتے ہیں۔ وہ اجتماعی طور سے آپ ہی کہ تشکیل کردہ ہوتی ہے۔ حکومتیں بظاہر ووٹوں سے اور بباطن سماجی سوچ سے بنتی ہیں۔گویا ووٹوں کا رُخ بدلنے کیلئے سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام دس سال کی محنت اور اس محنت کو آئندہ دس سال پروان چڑھا کر کیا جا سکتا ہے۔غیر منجمد معاشرہ ویسے بھی ہر بیس سال میں اپنی نئی پہچان پیدا کر لیتاہے۔

بصورت دیگر شدید سے شدید ردعمل بھی وہ انقلاب نہیں لا سکتا جو حکومت کی حکمرانی کے طور طریقے بدل سکے۔ ایسے میں مقبول نعروں اور زرد پڑجانے والے چہروں سبز باغ دکھا کر حکومت کا ظاہری خط وخال ہر پانچ سال کے بعد بدلتے رہنے سے بھی سماج میں وہ تبدیلی نہیں آتی جو بنیادی طور ہر اچھی زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والے کو مطلوب ہوتی ہے۔

ہم وطن عزیز میں کاسمیٹک تبدیلیوں اور کنڈیشنڈ ذہن کی عدم تبدیلی کے ستر برسوں سے عینی شاہد چلے آ رہے ہیں۔ ان سات دہائیوں میں ہم نے منظم فسادات بھی دیکھے ہیں اور امن کے لئے خودسپردگی بھی۔ جن لیڈروں کو ہم چنتے ہیں ان کے سیاسی دھندے کیلئے خام مال بن کر رہ جانے کا احساس ہمیں کچوکے تو لگاتا ہے لیکن ہم اپنی محدود سوچ کی وجہ سے ازالے کی دو ٹوک راہ تیار نہیں کر پاتے۔

ایسا کیوں ہے یہ سوچنے کی جن تھوڑے بہت لوگوں کو توفیق ہے وہ یہ دیکھنے کے بعد کہ کایا پلٹ تبدیلی اُن کے بس کا روگ نہیں، بڑی عیاری کے ساتھ خاموشی سے اپنی نجات کی راہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور کہیں دور بیٹھ کر اُن لوگوں کے سکھ دکھ میں شریک رہنے کی اداکاری کرتے ہیں جن کو ساتھ لے کر چلنا بہر حال اُن کیلئے آسان نہیں تھا۔

حالات کو بدلنے کی ساری ذمہ داری بہر طور انہی لوگوں پر ہے جو نامساعدات سے گزر رہے ہیں اور پریشانیاں جھیل رہے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی انفرادی سوچ سے نہیں آ سکتی اور حکومت وقت کی الگ الگ ٹولیوں کی مخالفت بھی کوئی نقش مرتب نہیں کر سکتی۔ کسی بھی منظر نامے کو یکسر بدلنے کیلئے اُس راستے کواجتماعی طور پر ترک کرنا ہوگا جس پر چل کر ناکامی ہاتھ آئی ہے۔ جی پی ایس عہد میں یہ کام اب ناممکن تو نہیں، البتہ مشکل ضرور ہے کیونکہ ہم جس معاشرے کی بات کر رہے ہیں اُس میں پریشانی میں گھرے لوگوں کو ذہنی طور پر ریڈی میڈ حل کی جستجو کا عادی بنا دیا گیا ہے۔

پچھلی سات دہائیوں میں نام نہاد سیکولرسٹوں نے اُس نظریاتی نفرت کا ازالہ ہی نہیں کیا جو کسی میخانے یا قمار بازی کے اڈے سے نہیں پھیلی۔ ہمارے یہاں رنگ اور نسل، ذات اور مذہب کے نام پر سیاست کی ستر برسوں تک بالواسطہ پرورش کی گئی۔ آج حالت یہ ہے اچھے سے اچھے موقع پرست سیکولرسٹ بھی رمضانی ٹوپیاں اتار کر تلک دھاری بنے گھوم رہے ہیں۔آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اپنے والد کی یساری سوچ سے باہر اپنے لئے جو وسط رخی راستہ اختیار کیا تھا وہ نظراً غلط نہیں تھا لیکن عملاً اس راہ پر اُن کے قدم دیوبند میں ڈگمگا گئے۔ اِس طرح ان کی تمام تر ترقی پسندی کو یمینی چمک نگل گئی۔

ملک میں خطرناک فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد اس طرح کسی اعلان کے بغیر محترمہ گاندھی نے رکھی جس پر ایک سے زیادہ سیکولر پارٹیوں نے چل کر موجودہ منظر نامہ مرتب کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ دیر تو ہو چکی ہے مگر ابھی بھی مکمل تاریکی نہیں چھائی۔ روشنی کی کرن مغربی بنگال سے پھوٹی ہے جہاں ہندستانی مسلمانوں نے آزاد ہندستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر فرقہ پرستانہ صف بندی سے کام لیا ہے۔ ہمنوائی کا دم بھرنگ والے حیدرآبادی فرقہ پرست جھولی پھیلائے کھڑے تھے لیکن ملت ہندیہ کے اس اقلیتی گروپ نے اس میں تھوکنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اگر یہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ ہے تو ملک کے نفرت بیزار حلقوں کو چاہئے کہ وہ بلا تاخیر اس انقلاب کے پرچم تلے یکجا ہو جائیں اور بگڑی ہوئی تقدیر کو سنوارنے میں مثبت اشتراک عمل سے کام لیں۔

بنگال نے جو راہ دکھائی ہے اُس رخ پر کوئی بھی پہل نئی نسل کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔موجودہ بزرگ اور ادھیڑ حلقہ نوجوانوں پر اپنے ازکار رفتہ افکار مسلط کرنے کے بجائے قیادت تک انہیں کو سونپ دے۔ سرپرستی کی جائے لیکن اس طرح سے ہرگز نہیں کہ نئی نسل یہ محسوس کرنے لگے کہ ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ کہتے ہیں کہ راہ بدلنا ہے تو مضبوط قدم اٹھاو اور سوچ بدلنا ہے تو نئے ذہنوں کو پیشوائی سونپو۔ وقت آ گیا ہے سماج کے سارے ایسے مربی جنہیں اپنی کوششوں میں ناکامیاں ہی ناکامیاں ہی ہاتھ آئی ہیں وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور نئی نسل کو اپنی محرومیاں سونپنے کے بجائے انہیں روایتی قید و بند سے آزاد کریں تاکہ انہیں ٹھوکر کھا کر از خود سنبھلنے کا شعور حاصل ہو۔

فرقہ وارانہ سیاست اس وقت اپنے عروج پہ ہے اور یہ عروج ہی اس کے زوال کی راہ ہموار کرے گی۔ ضرورت صرف اِس راہ میں پھسلن پیدا کرنے کی ہے جس کی بہترین صورت یہ کہ کسی بھی فرقہ پرستانہ عمل پر شدید ردعمل کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ بصورت دیگر حکومت اپنی ناکامیاں دوسروں کے سر منڈھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ کووڈ-19 اور ویکسین کے محاذ پر مرکز نے جس طرح اپنی ناکامی ریاستوں کے سر منڈھنے کی کوشش کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

عصری منظرنامہ بدلنے کا ماحول تیار کرنے میں جذبے سے زیادہ عقل سے کام لیا جانا چاہئے۔ حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا حکومت چلانے سے زیادہ شعور سے کام لینے کا متقاضی ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال ضرور کیا جائے لیکن ترکی بہ ترکی کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے اُسے انقلابی آلے میں تبدیل کیا جائے۔ وقت آ گیا ہے فلم ’’سماج کو بدل ڈالو‘‘کا عصری تقاضے سے ہم آہنگ نیا ایپی سوڈ تیار کیا جائے جس میں سابقہ فلم کی طرح شدت دکھانے کے بجائے تعمیری رنگ بھرا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں یمینی سیاست کو پھر یساری نہیں بنانا بلکہ اعتدال کی وہ راہ تیار کرنی ہے جس پر چلنے والے ہر شخص کی جیب میں ایک جی پی ایس کا آلہ موجود ہو، تاکہ بھٹکے ہوئے پہلے قدم کو ہی دوبارہ غلط رخ پر اٹھنے سے بچایا جا سکے۔

آئندہ سال اور بھی کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ کوویڈ19- کی دوسری لہر ویکسی نیشن میں تیزی کی وجہ کسی تیسری لہر کو وہ تباہی نہیں مچانے دے گی جو پہلی لہر میں ٹیکہ کاری شروع ہونے کے ساتھ حکومت اور عوام کی مشترکہ غفلت کا شاخسانہ رہی۔یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ غیر سیکولر ووٹوں کی تعداد کتنی ہی کم یازیادہ کیوں نہ ہو، وہ تقسیم نہیں ہوتی لیکن سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا ہر نقصان غیر سیکولر حلقے کے فائدے میں بدل جاتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اِس کا نوٹس پہلے بھی سیاسی جماعتیں لے چکی ہیں، لیکن اُن کے محدود مفادات نے اُنہیں کبھی کوئی سبق حاصل کرنے نہیں دیا۔ بنگال میں بھی یہ سبق از کار رفتہ ہو کر رہ جانے والی جماعتوں اور حیدرآبادی فرقہ پرستوں نے نہیں لیا۔ وہاں اِس سبق سے راست طور پر استفادہ اقلیتی ووٹروں نے کیا اورزبردست کامیابی کے ساتھ کیا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN