اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھاگوت جی! مسلمان سب سے پہلے تاجر بن کر آئےتھے!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ, مضامین
A A
0
بھاگوت جی! مسلمان سب سے پہلے تاجر بن کر آئےتھے!
284
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: روی کانت

6 ستمبر کو گلوبل اسٹریٹجک پالیسی فاؤنڈیشن ، پونے کے زیر اہتمام ایک تقریب میں موہن بھاگوت نے کہا کہ’ ‘اسلام حملہ آوروں کے ساتھ بھارت آیا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اسے اسی طرح بتایا جانا ضروری ہے ۔‘

اس بیان کا مطلب کیا ہے؟ کیا بھاگوت کا بیان حقیقت میں درست ہے؟ اگر حملہ آوروں کے ساتھ اسلام کی بھارت میں آمد ہوئی ہے ، تو بھی اس تاریخ کو بتایا جانا کیوں ضروری ہے؟

آخر مسلمانوں کے حملے کو کیوں بار بار یاد دلایا جاتاہے؟ اول تو حملہ آوروںکے ساتھ اسلام کی آمدحقیقت میں غلط ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ حملہ آورمسلمان سرداروں نے مقامی بادشاہوں کو شکست دے کراپنا اقتدار قائم کیا۔ یہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسے آریوں نے بھارت کے اصل باشندوں کو شکست دے کر اقتدار اور ثقافت قائم کی۔

اس لئے آر ایس ایس – بی جے پی اور دیگر ہندو وادی تنظیم دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں سے جڑے کسی بھی انتہا پسندی یا دہشت گردی کےواقعہ کو بھارتیہ مسلمانوں سےجوڑے بغیر نہیں رہتے۔

دراصل ، آر ایس ایس-بی جے پی کا نظریاتی وجود مسلم فوبیا پر منحصر ہے۔ کبھی کبھی یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اگر ہندوستان میں مسلمان نہ ہوتے تو بی جے پی-آر ایس ایس جیسی تنظیمیں کس کی مدد سے اپنی سیاست چمکاتی!

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دائیں بازو کا ہندوتوا کا یہ خیال کتنا درست ہے کہ مسلمان حملہ آور بن کر ہندوستان پہنچے؟ بے شک ، یہ خیال ہندوستانی تاریخ نگاری کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تاریخ سازی بطور جدید نظم و ضبط (موضوع) نوآبادیاتی ہندوستان میں شروع ہوئی ۔ جے ایس مل سیرکھے تاریخ دانوں نے یورپی پیٹرن کی بنیاد ہندوستانی تاریخ کو تین حصوں قدیم ،قرون وسطی اور جدید میں تقسیم کیا۔

جے ایس مل نے قدیم دور کو ہندو دور اور قرون وسطی کے دور کو مسلم دور کہا، لیکن اس نے جدید دور کو عیسائی دور نہیں کہا ، جبکہ اس نے حکمرانی مذہب کو وقت کی تقسیم کی بنیاد بنایا تھا۔ درحقیقت یورپی تاریخ میں قرون وسطی کا دور مذہبی اندھے پن کا دور ہے۔ راجا کہ اوپر چرچ کی اقتدار قائم کی تھی ۔عیسائی مذہب کے ضابطہ اخلاق سے حکمرانی اور معاشرہ چلتا تھا ۔

اس نظریہ کی بنیاد پر ہندوستان کا قرون وسطی کا دور بھی مذہبی انتہا پسندی کا دور تصور کیا جائے گا۔ اسی نقطہ نظر سے مغلیہ حکومت کی طاقت کو شریعت اور اسلام کے اقتدار کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

اکبر کی مذہبی رواداری کی پالیسی ہندوستانی تاریخ کے بہترین پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ اکبر ایک فلسفی بادشاہ ہے ، جس نے ایک نیا مذہب ، دین الٰہی شروع کیا۔ ایک طاقتور شہنشاہ ہونے کے باوجود اکبر نے اپنا مذہب کسی پر مسلط نہیں کیا۔ اس کی شادی کی پالیسی بھی قابل غور ہے ۔ اکبر نے راجپوت راجکماریوں سے شادی کی تو شہزادیوں کی شادی راجپوت کرائی۔ مغل دور میں شریعت کے مطابق موسیقی اور پینٹنگ کی ایک قابل ذکر ترقی ہوئی ۔ اسی وقت کبیر ،روی داس جے سی اور تلی داس جیسے عالمی معیار کے مصنّفین ہیں ، جو رائے عامہ بناتے ہیں اور مذہبی عقائد کی تردید کرتے ہیں۔

ہندوتوا کی مقدس کتاب ‘’رام چرت مانس‘ کی ترتیب اکبر دور میں ہوئی۔ یہ تمام اعداد و شمار قرون وسطی کے یورپی فنومیناکو خارج کرتےہیں۔لیکن کچھ ہندوستانی مورخین نے کم و بیش نوآبادیاتی نقطہ نظر سے تاریخ لکھی۔

مورخین نےآریہ ، شک ، ہنز ،یون اور بعد میں ترک ، افغان وغیرہ غیرملکی طاقتوں اور قبائلیوں کی آمد کاتجزیہ کرتےہوئےآریوں کے تناظر میں ’آریوں کی آمد‘درج کیا، جبکہ ترک اور افغانوں کی آمد پر لکھے گئے باب کا پس منظر ’مسلمانوں کا حملہ آور‘ کےطور پر درج کیا۔

رامدھاری سنگھ دنکر نے اپنی مشہور کتاب ’سنسکرتی کے چار آدھائے‘ میں لکھا ہے کہ ’اسلام جب اپنے عروج پر تھا تب بھی وہ بھارت میں آچکا تھا۔ مگر تب اس کی آمد دوست کے ناطے ہوئی تھی۔عرب ،افغانستان اور مصر سے بھارت کا قدیم تجارت تعلق تھا۔ بھارت اور مغربی ساحل کے درمیان وسیع پیمانے پر تعلقات میں عرب سوداگروں کا کافی ہاتھ تھا۔ عرب سوداگروں کا پہلا بیڑا بھارتیہ ساحل پر 636 عیسوی میں آیاتھا۔ اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔ سندھ پر محمد بن قاسم کی چڑھائی 712 عیسوی میں

ہوئی۔ مگر بھارت کے مغربی ساحل پر عرب سوداگربہت پہلے سے آرہے تھے اور موپلا لوگوں نے تبھی اسلام قبول کیا تھا۔ مگر یہ تبدیلی مذہب پیار ومحبت سے کئےگئےتھے۔ جبراً نہیں۔

قرون وسطیٰ کی تاریخ کے مشہور اسکالر ہربنس مکھیا لکھتے ہیں ، ’ترک ہندوستان آئے۔ ایک ویر ،جنگجو ،حکمراں طبقہ کی طرح ،جنہیں نئے علاقے کی تلاش تھی۔ نہ کہ وہ کسی مذہبی یا مشنری جنگجو کی طرح ہاتھوں میں تلوار اٹھائے آئے تھے۔‘

بھارت میں اسلام کی تشہیر وتبلیغ صوفیائے کرام کے ذریعہ ہوا ۔ دراصل ہندو مذہب میں محروم ذاتوں اور دلتوں کےساتھ بھید بھاؤ نےاسلام کو اپنایا ۔

پاکستان کے مشہور مورخ مبارک علی نے ’ اتہاس کار کامتانتر ‘ (ہندی ترجمہ) کتاب میں مسلمانوں کی آمد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا: ’’مسلمان تین مراحل اور تین مختلف عہدوں پر ہندوستان آئے۔ سب سے پہلے عرب تاجروں نے جنوبی ہندوستان آیا اور مقامی حکمرانوں کی چھتری تلے ساحلی شہروں میں آباد ہوا۔ ان تجارتی روابط نے عرب دنیا کو ہندوستان کی بے پناہ دولت اور خوشحالی کے بارے میں معلومات فراہم کیں ، جس سے عرب حکمرانوں نے ہندوستان پر حملہ کرنے اور اس کی دولت پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی، تاجر ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں سامراج کی اور فتوحات کی راہ ہموار کی۔ بے شک ، دونوں خیالات میں انتہا پسند ہیں، مسلم جارحیت ایک کے لیے فخر اور دوسرے کے لیے غلامی ہے، لیکن دونوں سچ سے دور ہیں۔

دراصل بھارت کی تعمیر طویل عمل میں ہوئی۔ اس میں مختلف گروہ آتے گئے اور ملک بنتا گیا۔ اس عمل میں مختلف مذاہب اور ثقافت سے بھارت مالا مال ہے ۔ اس لئے اس ملک کو بنانے میں کم وبیش سب کی قربانی ہے ۔ اس لئے تاریخ کی غلط تشریح اور غلط سوچ ملک کے قطعی مفاد میں نہیں ہوسکتے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN