لکھنؤ : (ایجنسی)
اترپردیش میں 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی پر حملہ تیز کرتے ہوئے کانگریس نے پریاگ راج میں 2019 میں منعقد کمبھ میلہ میں گھوٹالہ کے الزام لگائےہیں۔ کانگریس کے مطابق سی اےجی کی رپورٹ نے یوگی سرکار کا پردہ فاش کر دیا ہے ۔ کانگریس لیجسلیٹو کونسل پارٹی کے لیڈر دیپک سنگھ نے منگل کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران الزام لگایا کہ کمبھ میلے کے انعقاد میں کیا گیا یہ گھوٹالہ اتر پردیش کی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔
جن ستہ کی رپورٹ کے مطابق کانگریس لیڈر نے کہاکہ سرکار نے نہ صرف اتنا بڑا گھوٹالہ ہونے دیا بلکہ اس میں ملوث بدعنوانوں کو ڈھائی سال کا وقت بھی دیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر سرکار نے مناسب وقت پر کارروائی کی ہوتی تو کئی وزراء اور عہدیدار بدعنوانی کے اس معاملے میں جیل گئے ہوتے۔ قانون ساز کونسل ممبر دیپک سنگھ نے کہاکہ سرکار ایک طرف فضول خرچی روکنے اور شفافیت کےدعوے کرتی رہی اور دوسری طرف عوام کے پیسے کو بدعنوانی کا پلیتا لگایا جاتا رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کمبھ میلے کے لیے 2743.60کروڑ روپے مختص ہوئے تھے جس میں جم کر گھوٹالہ ہوا اور پیسے ضائع کیاگیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کمبھ میلے میں جو 32 ٹریکٹر خریدے گئے تھے ان کے رجسٹریشن نمبر میل نہیں کھاتے۔وہ کار، موپیڈ اور اسکوٹر کے نمبر ہیں ۔
سنگھ نے کہا کہ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق ریجنل ٹرانسپورٹ آفس کے ریکارڈ سے میسرز سواستک کنسٹرکشن سے متعلق تصدیق شدہ رپورٹ میں بتائے گئے 32 ٹریکٹروں کے رجسٹریشن نمبروں کی تصدیق سے پتہ چلا کہ 32 میں سے چار ٹریکٹروں کے رجسٹریشن نمبر ایک موپیڈ ، دو موٹرسائیکلیں اور ایک کار کے تھے۔
کمبھ میلے میں ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ سے ہوم (پولیس) ڈپارٹمنٹ کو 65.87 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے ، سی اے جی نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ کیا ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کسی آفت کی صورت میں استعمال ہوتا ہے ، اس لیے مختص فنڈز ضائع کر دیا گیا۔
سنگھ نے بتایا کہ میلے میں ٹین، ٹینٹ ، پنڈال ، بیریکیڈنگ وغیرہ کے لیے 105 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے ، لیکن ان مدوں میں میلہ افسر نے 143.13کروڑ روپے خرچ کئے ۔ وہیں اترپردیش پولیس کے ذریعہ خریدے گئے 10 ڈرون کیمروں پر 32.50لاکھ روپے کی لاگت آئی ،لیکن ان کا استعمال نہیں ہوا۔
(ان پٹ نیوز ایجنسی بھاشا سے )








