کولکاتا :
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بھلے ہی بی جے پی اقتدار پر قابض نہیں ہو پائی لیکن بنگال میں اپنی موجودگی مضبوطی سے درج کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ وہیں اب آگے کی سیاست کے لیے پارٹی نئی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہوگئی ہے۔ اسی کے تحت اب ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے کبھی قریبی رہے شوبیندو ادھیکاری کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر بنا کر پارٹی نے نیا حربہ استعمال کیاہے۔ ادھیکاری کی طرح ہی ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں آئے مکل رائے کے مقابلے ادھیکاری کو اپوزیشن لیڈر صرف اس لئے ہی نہیں بنایا گیا کہ انہوں نے نندی گرام میں ممتا کو شکست دی ہے ، بلکہ مانا جار ہاہے کہ وہ بنگال کی مستقبل سیاست کے خدوخال طے کرنے کے ساتھ ہی کچھ الٹ پھیر بھی کرسکتے ہیں۔
مانا جارہا ہے کہ شوبیندو ادھیکاری ممتا کے قریبی رہے ہیں اور وہ ان سے جڑیں ہربات جانتے ہیں، اس لئے انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے سے ممتا کو گھیرنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ دراصل بی جے پی کی سیاست ہے کہ گزشتہ ممتا سرکار کے مبینہ بدعنوانی کی جو لڑائی اب تک سڑکوں پر لڑی جا رہی تھی ، اسے اب مضبوط طریقے سے اسمبلی کے اندر کچھ اس طرح لڑا جائے گا کہ ہر روز سرکار کو پریشانی اٹھانی پڑے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے پاس اتنی زیادہ اکثریت ہے کہ ان کی سرکار کو 77 ممبر اسمبلی والے اپوزیشن سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے، لیکن ممتا سرکار کو گھیرنے میں پارٹی کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
اے بی پی نیوز کے مطابق ، یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ شوبیندو ادھیکاری کے پاس ٹی ایم سی رہنماؤں کے مبینہ گھوٹالوں سے متعلق دستاویزات بھی ہیں جو سابقہ حکومت میں وزیر تھے ، جو سامنے آنے پر حکومت کی پریشانی بڑھانے کے لئے کافی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ اس حکومت میں وزیر بھی بن چکے ہیں۔ شوبیندو کے ذریعہ بی جے پی کی حکمت عملی یہ ہے کہ مرکزی ایجنسیوں سے ایسے تمام وزراء کے خلاف جانچ کرواکے ممتا حکومت کے لئے پریشانی پیدا کی جائے۔










