لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش کی سیاسی جنگ میں کون جیتے گا اور کون منھ کی کھائے گا، یہ توآنے والے وقت میں پتہ چل ہی جائے گا۔ الیکشن کے موسم میں تمام سیاسی جماعتیںپوری زور لگائے ہوئی ہیں۔ حملے-جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سیاسی پارٹیوں کی نورا کشتی کے درمیان جواصل سوال ہر کسی کے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ یوپی میں الیکشن کون جیتے گا؟ عوام کس پارٹی کو ووٹوں کا انعام دے کرپھرسے اقتدار میں لائیں گے؟ ایسے ہی کچھ سوالات کے ساتھ اے بی پی نیوز سی ووٹر کے ساتھ مل کر میدان میں اترا ہے اور لوگوں سے جواب مانگ رہا ہے۔ وقفے وقفے سے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عوام کا مزاج کس طرف جا رہا ہے۔
29 دسمبر کو جب ہم نے یوپی کے لوگوں سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں یوپی میں الیکشن کون جیتے گا؟ اس سروے میں تقریباً 49 فیصد لوگوں نے کہا کہ بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ 30 فیصد لوگوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی حکومت بنائے گی۔ 8 فیصد لوگوں نے کہا کہ مایاوتی کی جلاوطنی ختم ہو جائے گی۔ جبکہ 6 فیصد لوگوں نے کانگریس کا نام لیا۔ 2 فیصد نے دوسروں اور 3 فیصد نے کہا کہ معلق اسمبلی ہونی چاہئے۔ 3 فیصد لوگوںنے پتہ نہیں میں جواب دیا تھا۔
اس سے پہلے جب 23 دسمبر کو عوام سے یہی سوال پوچھا گیا تھا تو تقریباً 48 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ یوپی میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار ملے گا۔ 31 فیصد لوگوں نے اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی کا نام لیا۔ 7 فیصد نے کہا تھا کہ یوپی میں بی ایس پی کی حکومت بنے گی۔ 6 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ کانگریس کی دہائیوں پرانی جلاوطنی ختم ہو جائے گی۔ 2 فیصد نے دوسروں کو جواب دیا، 3 فیصد نے معلق اور 3 فیصد نے پتہ نہیں میں جواب دیا ۔
16 دسمبر کو بھی یوپی کےعوام سے یہی سوال پوچھا گیاتھا۔ تب تقریباً 47 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ بی جے پی پھر سے یوپی کےاقتدار پر قابض ہوگی۔ 31 فیصد لوگوں نے سماج وادی پارٹی پر بھروسہ جتایا تھا، 8 فیصد نے بی ایس پی، 6فیصد نے کانگریس، 3 فیصد نے دیگر، 3 فیصد نے معلق اور 2 فیصد نے پتہ نہیں کہا۔










