کابل : (ایجنسی)
گزشتہ روز کابل ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والے افراد کی تعداد 100 سے زائد ہو گئی، جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کم ازکم 95 افغان باشندے اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں، دھماکے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق داعش نے کابل ایئر پورٹ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے گزشتہ روز (جمعرات کو) ہی اپنے شہریوں کو کابل ایئر پورٹ کے قریب جانے سے منع کیا تھا۔

کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے پہلا دھماکہ خودکش تھا جو ایئر پورٹ کے ایبے گیٹ پر ہوا، اس کے نتیجے میں امریکی اور افغان شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔ دوسرا دھماکا ایبے گیٹ سے کچھ فاصلے پر واقع بیرن ہوٹل کے قریب ہوا، اُس میں بھی کئی لوگ زخمی ہوئے۔
بیرن ہوٹل وہ مقام ہے جسے مغربی ممالک اپنے شہریوں کے انخلاء کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ ایئر پورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں دھماکے منظم منصوبہ بندی کے تحت کیئے گئے۔
کابل سے ’جیو نیوز‘ کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد شہر بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور کابل ایئر پورٹ جانے والے راستے پر ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کو مزید حملوں کا خدشہ ہے، ہنگامی طبی امداد دینے والوں کا کہنا ہے کہ کابل کے سرجیکل سینٹر میں 60 سے زیادہ زخمیوں کو لایا گیا ہے اور ہنگامی پروٹوکول جاری کر دیا گیا ہے۔











