اردو
हिन्दी
جولائی 17, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بوسنیا کا ’قصائی‘آخری سانس تک قید رہے گا

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
بوسنیا کا ’قصائی‘آخری سانس تک قید رہے گا
34
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

اقوامِ متحدہ کی ایک کورٹ نے1995 میں آٹھ ہزار کے قریب بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث سابق بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کی اپنی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔

اُنھیں 2017 میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب پایا گیا تھا۔ عدالت نے اُن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اُن کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

سربرینیکا کا یہ علاقہ اقوامِ متحدہ کی زیر حفاظت ہونا تھا مگر اس کے باوجود یہاں پر سرب فورسز کی جانب سے مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔

یہ دوسری عالمی جنگ سے لے کر اب تک یورپ میں ہونے والا بدترین قتل عام ہے۔

یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ملادچ اپنی باقی قید کہاں گزاریں گے۔

پانچ افراد پر مشتمل اپیلز پینل نے پایا کہ ملادچ اپنی سزاؤں کی منسوخی کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے تاہم پینل کے صدر نے تمام نکات پر اختلافی نوٹ لکھا ہے۔

تاہم اپیلز چیمبر نے استغاثہ کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا ہے جس میں ملادچ پر بوسنیائی مسلمانوں اور بوسنیائی کروئٹ افراد کے خلاف دیگر علاقوں میں جرائم پر ایک اور سزا کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ فیصلہ تکنیکی مشکلات کے باعث تاخیر کا شکار ہوا جو پورے سیشن کے دوران جاری رہیں۔

ملادچ نے اگست میں اپنی اپیل کی سماعت کے دوران ٹریبونل کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی قوتوں کی پیداوار قرار دیا تھا۔ اُن کے وکلا نے دلیل دی کہ وہ قتل عام کے وقت سربرینیکا سے دور تھے۔

‘بوسنیا کا ’قصائی ‘کہلائے جانے والے ملادچ سابقہ یوگوسلاویہ میں اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل میں ٹرائل کا سامنا کرنے والے آخری ملزمان میں سے تھے۔ اُنھیں 16 سال تک مفرور رہنے کے بعد سنہ 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

2017 میں انھیں سربرینیکا میں نسل کشی کا مرتکب پایا گیا مگر 1992 میں اپنی فوج کے ہاتھوں ایک اور نسل کشی کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ اس مہم میں بوسنیائی کروئٹ اور بوسنیائی افراد کو اُن کے گھروں سے نکالا گیا اور بدترین حالات میں قید میں رکھا گیا تھا۔

2016 میں اسی عدالت نے سابق بوسنیائی سرب رہنما رادووان کرادچ کو دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ سربرینیکا قتلِ عام کی منصوبہ بندی کا مرتکب پایا تھا۔

اُنھیں ابتدا میں نسل کشی اور جنگی جرائم پر 40 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اسے سنہ 2019 میں تاحیات قید میں بدل دیا گیا تھا جو وہ اب برطانیہ میں کاٹیں گے۔

اس پر ردِ عمل کیا رہا ہے؟

اس قتل عام میں بچ جانے والے سیمسو عثمانووچ کے خاندان کے 23 افراد قتل ہوئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کے گائے ڈی لونی کو بتایا کہ فیصلے کا مطلب ہے کہ وہ اب بالآخر اپنے آبائی شہر لوٹ سکتے ہیں۔

‘میں پوری زندگی اس لمحے کے لیے جیتا رہا، تاکہ میں بین الاقوامی عدالت سے انصاف دیکھ سکوں۔ مجھے امید تھی کہ میں اپنی بیوی اور بچوں کو سربرینیکا لا سکوں گا، یہی وہ جگہ ہے جہاں میں پیدا ہوا تھا۔

سہیدا عبدالرحمانووچ کے شوہر سربرینیکا میں قتل ہوئے تھے۔ اُنھوں نے یہ فیصلہ پوٹوکاری میں ایک یادگاری مرکز میں دیکھا۔

اُنھوں نے بی بی سی نیوز سربیئن کو بتایا: ‘’وہ مائیں جو اب بمشکل دیکھ یا سُن سکتی ہیں، وہ جو بیمار ہیں اور بمشکل ہی چل سکتی ہیں، وہ بھی یہ فیصلہ دیکھنے آئیں۔ یہ سب کچھ اب بھی ذہنوں میں تازہ ہے، جیسے کل کی بات ہو۔‘

‘’یہ بہت اہم بات ہے کہ اُنھیں تاحیات قید سنائی گئی اور سربرینیکا میں نسل کُشی کے الزام کو برقرار رکھا گیا۔‘

‘سراییوو میں ایک بوسنیائی اخبار نے اس فیصلے پر اپنی آن لائن کوریج کی سرخی لگائی: ’قصائی کے آنسو دیکھیں جب اسے احساس ہوا کہ وہ سلاخوں کے پیچھے ہی ہلاک ہوگا۔‘

مگر ملادچ کے حامیوں کا ردِعمل کافی مختلف تھا۔

سابق جنرل کے بیٹے ڈارکو ملاڈچ نے کہا کہ اُن کے والد کو ‘شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔’ اُنھوں نے ان سماعتوں کو ایک ‘چلتی پھرتی سرکس‘قرار دیا۔

بوسنیائی سرب علاقے کے موجودہ صدر زیلجکا ویجانووچ نے کہا کہ ٹریبونل نے ایک مرتبہ پھر ‘خود کو سرب مخالف عدالت ثابت کر دیا ہے جو جنگی جرائم کی ذمہ داری ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے نہیں بلکہ ملزم کی نسل کو دیکھتے ہوئے عائد کرتا ہے۔

انصاف کے لیے طویل انتظار

تجزیہ: اینا ہولیگن
نامہ نگار، دی ہیگ

جب میں منیرہ سوباسچ سے ملنے سربرینیکا کے قتلِ عام والے مقام سے کچھ ہی دور اُن کے گھر پر تھی، تو اُنھوں نے کہا تھا کہ ‘اُس کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں۔

راٹکو ملاڈچ ایک سیاسی منصوبے کے نفاذ کے ذمہ دار تھے۔ اعلیٰ ترین سطح پر بنایا گیا منصوبہ یہ تھا کہ بوسنیائی مسلمانوں کی آبادی کے چند حصوں کو ختم کر دیا جائے۔

یہ نسلی صفایا جب شروع ہوا تو پڑوسی کو پڑوسی کے خلاف کر دیا گیا۔ پھر بالآخر پوٹوکاری میں اقوامِ متحدہ کے محفوظ قرار دیے گئے اڈے پر راتکو ملادچ کے آدمی چڑھ دوڑے۔

یہیں پر منیرہ کے 17 سالہ بیٹے کو اُن کے بازوؤں سے چھین کر ہلاک کر دیا گیا جب اُن کا بیٹا اُنھیں تسلی دے رہا تھا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔

منیرہ کے خاندان کے 22 افراد اس قتلِ عام میں ہلاک ہوئے۔

It’s been a long journey to justice for Munira Subašić.

She traveled to The Hague to look the man she considers her teenage son’s ‘executioner’ in the eye as, she hopes, he’s jailed for life.https://t.co/ahzwryaEFB#Mladic https://t.co/lnHOGwM80A pic.twitter.com/krBmPmNLoM

— anna holligan 🎙 (@annaholligan) June 8, 2021

راتکو ملادچ نے 16 سال مفرور رہ کر گزارے۔ کئی لوگوں کو خدشہ تھا کہ وہ اپنے خلاف حتمی قانونی فیصلہ نہیں دیکھ پائیں گے۔

منیرہ اس لمحے کو دیکھنے کے لیے دی ہیگ آئیں تاکہ اُنھیں سکون مل سکے۔

استغاثہ کو امید ہے کہ اس ٹرائل سے خطے سمیت دنیا بھر میں یہ پیغام جائے گا کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل نہیں ہے۔

اپیل کے دوران کیا ہوا؟

اگست میں سماعت کو ملادچ کی صحت اور کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔

وہ کارروائی کے دوران اپنے مؤقف پر قائم رہے اور عدالت اور استغاثہ پر حملے کرتے رہے۔

سربرینیکا کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے بوسنیائی مسلم فوج کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ سربرینیکا اور محفوظ قرار دیے گئے دوسرے علاقوں سے دور رہا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ ایسے کسی علاقے کی خلاف ورزی کے لیے تنِ تنہا ذمہ دار نہیں ہیں۔

مگر استغاثہ کی وکیل لاریل بیگ نے کہا کہ ملادچ کو ‘بیسویں صدی کے بدترین جرائم میں سے ایک کا مرتکب پایا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ‘ملادچ سربرینیکا کے آپریشن کے انچارج تھے۔ اُنھوں نے اپنی کمانڈ میں موجود فورسز کے ذریعے ہزاروں مردوں اور لڑکوں کو قتل کیا۔

وکیلِ دفاع دراگان آئیویٹچ نے اپنے مؤکل کے کردار سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مسٹر ملادچ ولن نہیں ہیں۔ وہ اقوامِ متحدہ کو انسانی سطح پر سربرینیکا میں وہ کام کرنے کے لیے مدد دیتے رہے جو وہ نہیں کر سکی۔

نسل کشی کیسے ہوئی؟

1991 سے 1999 کے درمیان یوگوسلاویہ کی سوشلسٹ ریاست انتہائی پرتشدد انداز میں ٹوٹ کر مختلف حصوں میں بٹ گئی۔ اس سے سربیا، مونٹینیگرو، بوسنیا اینڈ ہرزیگوینا، کروئشیا، مقدونیہ اور سلووینیا نے جنم لیا۔

تمام تنازعات میں سب سے زیادہ خونی جنگ بوسنیا کی تھی کیونکہ یہ نسلی اور مذہبی اعتبار سے سب سے زیادہ منقسم معاشرہ تھا۔

یوگوسلاو فوجی دستوں نے کروئشیا سے نکل کر اپنا نام بوسنیئن سرب آرمی رکھ لیا، اور بوسنیا میں سرب اکثریتی علاقہ قائم کر لیا۔

نسلی صفائے کے دوران 10 لاکھ کے قریب بوسنیائی اور کروئٹ افراد کو اُن کے گھر سے نکالا گیا اور سرب بھی اس میں متاثر ہوئے۔ جب تک 1995 میں جنگ ختم ہوئی، تب تک کم از کم ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

1995 میں جنگ کے خاتمے کے بعد ملادچ مفرور ہوگئے اور سربیا میں ہی گمنام زندگی گزارتے رہے جہاں اُن کا خاندان اور سیکیورٹی فورسز کے چند عناصر اُن کی حفاظت کرتے رہے۔

بالآخر سنہ 2011 میں شمالی سربیا کے ایک دیہی علاقے میں اُن کی موجودگی کا پتہ لگایا گیا جہاں سے اُنھیں گرفتار کیا گیا۔

(بشکریہ :بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN