فنانشل ٹائمز‘ نے ایک سینیر برطانوی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ لندن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ روکنے کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ تجویز کیا ہے۔
برطانوی اہلکار نے وضاحت کی کہ اس تجویز میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح سیاسی افق کا تعین کیا گیا ہے اور برطانوی تجویز میں حماس کے سینیر رہ نماؤں بہ شمول یحییٰ سنوار کی غزہ سے روانگی بھی شامل ہے۔
اہلکار نے وضاحت کی کہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اس تجویز پر اسرائیلی اور فلسطینی رہ نماؤں سے تبادلہ خیال کیا۔
برطانوی سیکرٹری خارجہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ نکاتی منصوبے کی تجویز پیش کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔
یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب مغربی ممالک غزہ میں مستقل جنگ بندی اور سیاسی عمل کی طرف دباؤ کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔
اس اقدام کے بارے میں جس پر وزیر خارجہ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اس ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران اسرائیلی اور فلسطینی رہ نماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا میں غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی کی بات چیت کو یقینی بنانے اور جنگ کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کیمرون نے اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح "سیاسی افق” قائم کرنے اور جنگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک فلسطینی حکومت کی تشکیل کی تجویز پیش کی، بشرطیکہ حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور اسرائیل کے خلاف حملے روکنے کا عہد کرے۔اس تجویز میں غزہ سے حماس کے سینیر رہ نماؤں بشمول یحییٰ سنوار کی پٹی سے دوسرے ملک روانگی شامل







