اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جمہوری نظام میں کیا فوج کا جنرل نریٹیو طے کرسکتا ہے ؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
جمہوری نظام میں کیا فوج کا جنرل نریٹیو طے کرسکتا ہے ؟
96
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

پربھو چاولہ

اقتدار لالچ کا وہ ناقابل برداشت ظرف ہے ، جو بڑے اور اعلیٰ لوگوں کے من کو کبھی نہیں بھرتا۔ اسٹیبلشمنٹ کے ذہین لوگ اپنی سلطنت سے باہر بھی طاقت اور وقار بڑھانے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ عام طور پر سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنی جاگیر بڑھانے کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔ غیر معمولی طور پر ایک جنرل اس میں شامل ہو گیا ہے۔

سینک یونیفارم میں اولیور ٹوئسٹ ، جنرل بپن راوت ، ہمارے موجودہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو بہت جلد بازی ہے ، وہ ایک فوجی میکیاویلی ہیں ، جو سازش کے بعد اور خفیہ بات چیت کرکے آزادی کے بعد سب سے طاقتور سپاہی بن بیٹھے ہیں۔

وہ اس وقت چیف آف ڈیفنس اسٹاف ہیں، اس کے ساتھ ہی وزیر دفاع کے چیف ملٹری ایڈوائزر ، ملٹری امور کے سکریٹری اور نیوکلیئر کمانڈ اتھارٹی کے ملٹری ایڈوائزر بھی ہیں۔ وہ تین سال تک چیف آف آرمی اسٹاف رہے اور ایک ڈسپلنڈ سپاہی کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔

مودی حکومت نے ان کی مدت کار 65 سال کی عمر تک بڑھا دی۔ وہ 31 دسمبر 2019 کو ریٹائرہونےکے ایک دن پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنا دئےگئے۔ اس پرومشن کےبعد وہ اولیو گرین یونیفارم میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور اورسکریٹری دونوں کے عہدے پر فائز رہنےوالے تنہا افسر بن گئے ۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تعیناتی کو فوجی اسٹیبلشمنٹ میں بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن وہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور کئی جیتوں کو حاصل کرنے والی ڈسپلنڈ فوج کے سربراہ کے بجائے کسی راجا کے پولیٹکل سکریٹری زیادہ لگ رہے ہیں ۔

طلباء کی تحریک پر تنقیداورسی اے اے کےخلاف تحریک کرنے والوںکے خلاف دھار دار الفاظ کااستعمال کرکے انہوں نے اپوزیشن کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار دے دیا جو ان کے پیشہ ور انہ رویہ پر سوال اٹھاتے رہےہیں ۔ سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ان سے کہا کہ’ وہ فوج پر توجہ دیں اور اپنے کام سے مطلب رکھیں ۔‘ انہوںنے چدمبرم کےمشورے کو زیادہ ہی لفظی معنی میں لے لیا ، ان کےمخالفین کا کہنا ہے کہ راوت کا کام زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنا ہے۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا کام فوج کے تینوں شعبوں – زمینی، فضائیہ اور بحریہ کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا اور نئی چیزیں حاصل کرنا ، فوج کی تعیناتی کو دیکھنا اور اثاثوں کا صحیح استعمال کرنا ہے۔ وہ اپنے صواب دید کا استعمال کرنے کی فوجی روایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنےعزائم کو چھپاتے نہیں ہیں۔ گزشتہ ہفتہ انہوں نے اپنے مستقبل کے کام کاج کا روڈ میپ خود تیار کرلیا۔ محکمہ دفاع کی قیادت میں تبدیلی کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے ، وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کہا۔ لیکن بپن راوت نے عوامی طور پر اس کا اعلان کردیا۔

یہ کام ابھی جاری ہے۔ فی الحال ، جنرل کو ایک جھٹکا لگا ہے کیونکہ سینئر سکیورٹی حکام نے شدید اعتراضات کئے ہیں۔ سروس کے درمیان دشمنی کے باوجود ، تھیٹر کمان کا تصور جلد نافذ کیا جائے گا۔ لیکن جنگی منصوبہ ابھی تک نہیں بنایا گیا۔ وزارت دفاع اس وقت مطالعہ کر رہی ہے کہ سی ڈی ایس سسٹم 67 ممالک میں کیسے کام کر رہا ہے۔

امریکہ میں سی ڈی ایس براہ راست صدر کو رپورٹ کرتا ہے ، جو کمانڈر انچیف ہوتا ہے۔ برطانیہ میں سی ڈی ایس پارلیمنٹ کو رپورٹ کرتا ہے۔ بھارت میں پارلیمانی نظام ہے جو کابینہ کے ذریعے کام کرتا ہے لہٰذا معاملہ قدرے پیچیدہ ہے۔ پوری دفاعی اسٹیبلشمنٹ وزیر دفاع کو رپورٹ کرتی ہے۔ تینوں سروس چیفس اور سی ڈی ایس اسے فوجی معاملات پر مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی قومی سلامتی کا مشیر وزیراعظم کو مشورہ دیتا ہے ، ان کا عہدہ کابینہ کے ایک وزیر کے برابر ہوتا ہے۔دوسری طرف راوت نے دفاعی خریداری کے نظام کو مکمل طور پر محفوظ کر کے شفافیت لائی ہے۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ بھارت کی جنگی کمان سنبھالنے اور انتظامی اختیار برقرار رکھنے کے جارحانہ لالچ کی وجہ سے مشکلات کے شکار ہیں۔

جمہوری نظام سے طے کئے ہوئے درجہ بندی سے اقتدار کے بھوکے جنرل کی جارحانہ ٹکراؤ کئی بدنما مثالیں قائم کررہی ہیں ۔ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کی انتظامیہ میں بغاوت کے ذریعے راوت بھارت کے اس ادارے کو کمزور کر رہے ہیں جو ان چند اداروں میں سے ایک ہے جس میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی خواہشات کی وجہ سے کمزور ہوا ہے۔

(بشکریہ : دی نیو انڈین ایکسپریس ،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN