غزہ :
عالمی برادری کے دباؤکے باوجود امریکہ کی شہ پر اسرائیلی لگاتار غزہ پر بمباری کررہاہے جس میں اونچی سرکاری ورہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ محتاط اندازے کے مطابق 100 سے زائد شہری شہید اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں حماس نے تل ابیب ودیگر مقامات پر راکٹ برسائے جس سے اسرائیلی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل کی مخلوط آبادی والے شہروں میں یہودی آباد کاروں اور عربوں کے درمیان خطرناک حد تک اسٹریٹ وار چھڑ گئی ہے جو بڑی خانہ جنگی میں بدل سکتی ہے۔ غزہ کے شہریوں نے آگ وخون کی بارش کے درمیان عیدالفطر منائی اور بمباری وفائرنگ کے باوجود ہزاروں فرزندان توحید نے مسجد اقصیٰ میں نماز دوگانہ ادا کی۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے دستے غزہ کی طرف بڑھتے دیکھے گئے۔ لگتا ہے کہ وہ بڑی کارروائی کی تیاری میں ہے۔ اسلامی ممالک ابھی تک زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز نہتے عرب شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ادھر غزہ کے حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل زہریلی گیس استعمال کررہا ہے ۔
اسرائیلی فوج کی غزہ کی طرف پیش قدمی، جنگ کے بڑھنے کاخدشہ

اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر فوج بھیجنا شروع کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ زمینی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔اسرائیلی افواج کے سربراہان ممکنہ آپریشن کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس کے فوجی ’جنگ کے لیے تیار رہیں۔‘
اگرچہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی میں جلد کمی آئے گی، تاہم بدھ کی رات کو شدید بمباری کے بعد جمعرات کو غزہ کی سرحد پر اسرائیلی افواج اکٹھی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب حماس کے مطابق غزہ میں جاری بمباری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 83 ہوگئی ہے جس میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔ پیر سے جاری پرتشدد واقعات میں اب تک 487 افراد زخمی اور ہزاروں بےگھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے جمعرات کی صبح، جب فلسطینی عید کی نماز کی تیاریاں کر رہے تھے، غزہ پر فضائی بمباری شروع کر دی تھی جس میں شہر کے بیچ واقع ایک چھ منزلہ عمارت بھی تباہ ہو گئی ہے۔گزشتہ شب حماس نے یروشلم اور تل ابیب کی جانب راکٹ داغے تھے جن میں سے زیادہ تر اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی سسٹم نے ناکارہ بنا دیے۔غزہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عید سے پچھلی شب یہاں کے رہائشیوں کے لیے 2014 کے بعد ’سب سے مشکل اور طویل رات تھی۔‘
اسرائیل نے اپنے اہداف میں اب خفیہ اداروں کے دفاتر، بینک اور عسکریت پسند تنظیم حماس کی بحری تنصیبات کو بھی شامل کر لیا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ شب ہونے والی کئی ایسی اموات کی تفتیش کر رہے ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ وہ زہریلی گیس میں سانس لینے کے باعث ہلاک ہوئے۔ ان لاشوں سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔بدھ کو اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے میں حماس کے ایک سینیئر کمانڈر کی ہلاکت اور غزہ میں کئی منزلہ عمارت کی تباہی کے بعد حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر درجنوں راکٹ حملے کیے۔اطلاعات کے مطابق جنوبی اسرائیل کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک کم عمر بچہ بھی شدید زخمی ہوا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ غزہ میں جاری جھڑپوں کی شدت میں جلد کمی آئے گی۔عالمی طاقتیں اس وقت خطے میں جنگ بندی پر زور دے رہی ہیں اور واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کروانے کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ بھی بھیجیں گے۔صدر بائیڈن نے بدھ کو اسرائیلی صدر بنیامن نتن یاہو سے گفتگو کے بعد کہا ‘مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد ختم ہو جائے گا تاہم اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ اگرچہ صدر بائیڈن نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ بات کس بنا پر کہہ رہے ہیں لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ نتن یاہو نے ان سے کہا تھا کہ اسرائیل ‘حماس اور غزہ میں متحرک تمام دہشت گرد تنظیموں پر حملے جاری رکھے گا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے اس سے قبل غزہ میں مکمل جنگ کا خطرہ ظاہر کیا تھا اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا تھا کہ انھیں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے۔
اسرائیل کواس کی زبان میں سبق سکھانے کا وقت آگیا:اردگان

استنبول : ترکی کے صدررجب طیب اردگان اسرائیل اور فلسطینیوں میں جاری تصادم کو لے کر دنیا بھر کے سربراہان مملکت سے گفتگو کررہے ہیں۔ اردگان نے زیادہ تر فون اسلامی ممالک کے سربراہوں سے کی ہیں۔ لیکن بدھ کے روز انہوں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی۔ پوتن کے ساتھ فون پر گفتگو میں اردگان نے کہا کہ اسرائیل کو ایک سخت سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔اردگان نے کہا کہ جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوتا تب تک وہ اپنی پہل جاری رکھیں گے۔ اردگان نے پوتن کو یہ بھی بتایا کہ فلسطینیوں کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی سیکورٹی فورسز بھیجی جائیں۔ ترکی کے صدر نے کہا کہ اسرائیل کے معاملے میں ترکی اور روس کو اقوام متحدہ میں مل کر کام کرنا چاہئے۔
پوتن کے بعد اردگان نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو فون کیا۔ عمران خان اور اردگان کے درمیان اسرائیل کو لے کر ہی گفتگو ہوئی۔
پاکستان کے وزیر اعظم آفس سے کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات میں اسرائیل کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ کے اندر نمازیوں پر حملہ گھناؤنا جرم ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کے معاملات پر مل کر کام کریں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان علاقائی سلامتی کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
ترک صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ترکی مل کر فلسطینیوں کے معاملات پر عالمی برادری کو متحد کریں گے۔ ترک صدر اردگان نے بھی کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات علاقائی سلامتی کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ اردگان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصی اور مسلمانوں پر حملہ فوری طور پر روکا جائے گا۔ اسرائیل کا یہ عمل انسانیت پر حملہ ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ان حملوں کو نہ روکا گیا تو اس زمین پر ایک بھی شخص نہیں ہوگا جس کا بین الاقوامی تنظیموں اور قواعد پر اعتماد رہے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری طور پر اسرائیلی کارروائی روکنی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ سوچنا ہوگا کہ یہ دنیا پانچ ممالک سے آگے بھی ہے۔ ‘
نماز عید کے اجتماع میں ہزاروں فلسطینیوں کی شرکت

مسجد الاقصیٰ میں نماز عید کے اجتماع میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادت پر عید سادگی سے منائی جا رہی ہے ۔فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطین میں عید کی تمام تقریبات منسوخ کردی تھیں۔










