غزہ :
اسرائیل اور حماس کے مابین سیز فائر ہوگیا ہے۔ غزہ میں لڑائی رک چکی ہے۔ تاہم ، تشدد بند ہونے سے پہلے 220 سے زیادہ لوگوں کی جان جاچکی تھی۔ اس جنگ کا انجام پہلے سے ہی توقع تھا لیکن پھر بھی اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس کی وجہ کیا سیاسی تھی؟
ایسا لگتا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ سے اسرائیل پی ایم بنجامن نیتن یاہو کو سیاسی فائدہ پہنچا ہے ، جس دن اپوزیشن پارٹیاں صدر سے مل کر بتانے والی تھیں کہ ان کے پاس سرکار بنانے کی اکثریت ہے ،اسی دن 10 مئی کو جنگ چھڑ گئی۔
وہیں غزہ میں حماس کی سیاسی صورت حال اس لڑائی کے بعد مستحکم ہوتی نظر آرہی ہے۔ اسرائیل سے براہ راست ٹکر لینے کے بعد صرف غزہ نہیں بلکہ ویسٹ بینک میں بھی حماس کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔
اسرائیلی سیاست پر کیا اثر پڑا؟

بنجامن نیتن یاہو پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں جتنے کے باوجود سرکار بنانے ناکام رہے ہیں، اب اپوزیشن پارٹیوں کے پاس 2 جون تک کا وقت ہے، حالانکہ جنگ کے بعد بنے ماحول میں نیتن یاہو کو ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔
2021 کے اوائل میں ہونے والے انتخابات اسرائیل میں دو سال سے بھی کم عرصے میں ہونے والے چوتھے انتخابات تھے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں 2 جون تک حکومت بنانے کا دعویٰ پیش نہیں کرتی ہیں تو اسرائیل میں پانچویں بار انتخابات ہوسکتے ہیں۔
اسرائیلی ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک کی طرف سے اپریل میں جاری کئے گئے ایک سروے کے مطابق تب 70 فیصد لوگ مانتے تھے کہ ملک پانچویں انتخابات کی جانب جارہاہے ۔
نیتن یاہو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں ، لیکن وہ اسے ’بغاوت‘ کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ وہ 12 سال سے وزیر اعظم ہیں۔ چار انتخابات ہوچکے ہیں لیکن وہ ابھی بھی اقدار پر فائز ہیں۔ اگر پانچویں انتخابات بھی ہوتے ہیں تب بھی جنگ کے بعد کی صورت حال نیتن یاہو کے لئے مقعول ہے، انہیں ہمیشہ سے ایسی صورت حال کا فائدہ ملتاہے ۔
حماس اور فتح کے مابین تصادم
حالیہ جنگ نے حماس کے لئے فتح پارٹی کی زیرقیادت فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کرنا آسان بنا دیا ہے۔ 2006 میں فلسطینی انتخابات میں حماس کی جیت کے بعد سے فتح کے ساتھ ان کے رشتے تناؤ کا شکار ہے۔
2007 سے فلسطینی قیادت تقسیم ہوچکی ہے۔ مغربی کنارے میں فتح اور غزہ میں حماس کا راج ہے۔ 2021 میں فلسطین میں انتخابات ہونے تھے ، لیکن صدر محمود عباس نے انہیں ملتوی کردیا۔ عباس نے مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں پر اسرائیلی پابندیوں کو اس کی وجہ بتائی۔ تاہم ، مانا جارہاہے کہ عباس نے اپنی گرتی مقبولیت کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔
مشرقی یروشلم کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات اور شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینی پریواروں کو بے دخل کرنے سے فلسطینی اتھارٹی کچھ زیادہ نہیں کرپائی تھی، وہیں دوسری طرف ہماس نے اسے لے کر براہ راست اسرائیل پر راکٹ حملہ کیا، جس سے فلسطینیوں کے درمیان اس کی پوزیشن بہتر ہونے کا امکان ہے۔
حماس اگر جنگ نہیں بھی جیتتا ہے تو بھی صرف اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونے سے ہی اس کی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے ۔










