اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کانگریس کے پاس کیا راستہ بچا ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کانگریس کے پاس کیا راستہ بچا ہے؟
54
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ابھے کمار

ان دنوں کانگریس پارٹی کے لیڈر ان راجستھان کے خوبصورت شہر اُدے پور میں’’ نو چنتن سنکلپ شیویر‘‘میں حصہ لے رہے ہیں۔ 15 مئی کو شائع ایک خبر کے مطابق، ہندوستان کی سب سے قدیم پارٹی اپنی تنظیم میں دلتوں، آدی واسیوں، پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں کو 50 فیصد نمائندگی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔’ چنتن شیویر‘ میں تشکیل دی گئی سماجی انصاف کوآرڈنیشن کمیٹی کے رکن کے راجو نے بیان دیا ہے کہ کانگریس کا آئین ایس سی؍ ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتوں کو 20 فیصد ریزرویشن دیتا ہے۔ مذکورہ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایس سی؍ ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طبقات کو بلاک کمیٹی سے لے کر کانگریس ورکنگ کمیٹی تک تمام کمیٹیوں کا 50 فیصد حصہ دیا جائے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ان طبقات کی نمائندگی بڑھا کر 50 فیصد سے زیادہ کی جانی چاہیے، حالانکہ فی الحال اسے 50 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب بہوجن – ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیت – سماج کی آبادی کا تقریباً 85 فیصد ہیں، تو وہ سماجی اور سرکاری اداروں میں کیوں نظر نہیں آتے ہیں؟ کیا کانگریس یہ نہیں سمجھتی کہ سماج کی ایک بڑی آبادی کو پالیسی سازی سے دور رکھنے سے ملک کا بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے؟ اگرمحکوم طبقات پارٹی کے اندر جگہ نہیں بنا پائیں گے، پھر وہ کس منہ سے عوام سے اپنی پارٹی کے لیے ووٹ مانگیں گے؟ کانگریس کو اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور پسماندہ لوگوں کو پارٹی میں لانا چاہیے۔جس کی جتنی آبادی ہو اس تناسب سے اس کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ اگر کانگریس نے بہوجنوں کو مناسب حصہ دی اور خواتین ریزرویشن ، جس میں محکوم طبقات سے آنے والی خواتین کے لیے الگ سے کوٹا مختص ہو تاکہ ان کا حق کوئی اور نہ مار لے، کے ایشوز کو انتخابی ایجنڈا بنایا تو اس کا سماجی حلقہ بڑھ جائے گا۔مگر یہ کام جتنا کہنا آسان ہے اتنا ہی کرنا مشکل ہے۔ اگر کانگریس سماجی انصاف کے ان سوالوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے تو اس کے راستے میں کئی کانٹے بھی بچھ جائیں گے۔ اعلیٰ ذات مین اسٹریم میڈیا سب سے پہلے کانگریس کی مخالفت میں سامنے آئے گا ۔ وہ کانگریس پر ملک کو ذات برادری کےدلدل میں دھکیلنے اور اعلیٰ ذاتوں کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام بھی لگائے گا۔ میڈیا کی اس مہم میں تمام اعلیٰ ٰ ذات اور سرمایہ دارانہ قوتیں پس پردہ ر کے پیچھے سے حمایت کریں گی۔ اس لیے کانگریس کو ابھی سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کانگریس ذات پر مبنی مردم شماری کی حمایت میںمہم چھیڑ دیتی ہے تو وہ میڈیا کے الزامات کا جواب دینے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگی۔ جب ریزرویشن پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو وہ پورے اعتماد سے کہہ سکتی ہیں کہ ’اگر آپ کوریزرویشن پر کوئی اعتراض ہے تو ذات پر مبنی مردم شماری کرا لیجیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘ جس دن کانگریس کے لیڈر اس طرح سے بے خوف ہو کر بولنا شروع کر دیں گے، اعلیٰ ذات طاقتوں کی بولتی بند ہو جائے گی۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس واقعی اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہتی ہے؟ یا وہ اسی تذبذب کی حالت میں رہ کر اپنی بچی ہوئی تھوڑی سے زمین بھی کھو دینا چاہتی ہے؟

کانگریس کی شکست اور اس کے تنگ ہوتے سماجی دائرے کے لیے پارٹی کے اندر موجود غیر مساوی سوچ کی حامل طاقتیں بری حد تک ذمہ دار ہیں، جو پارٹی کو ترقی پسند سمت میں بڑھنے سے روکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ سیاست میں پیسہ کا بھی کھیل بڑھ گیا ہےاور اس کاروبات میں بی جےپی سب سے آگےبڑھ گئی ہے۔ بی جے پی کی مالی امداد سے چلنے والے میڈیا نے کانگریس کو’ملک ، ہندو اور ترقی مخالف اور مسلم نواز‘ پارٹی بنا دیا ہے۔ جواہر لعل نہرو اور ان کے خاندان کو ’’مسلمان‘‘ کہہ کر ہندوؤں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ جھوٹ کو دن رات بولا جاتا ہے تاکہ وہ سچ دکھائی دے۔بی جے پی ایک طویل عرصے سے کانگریس کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ لیکن انہیں بڑی کامیابی تب ہی ملی جب وہ اقتدار میں آئی۔ 1977 کی جنتا حکومت کے دوران سنگھ کے نظریات کے حامل صحافی میڈیا ہاؤس میں داخل ہوئے۔ لیکن جب اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی اقتدار میں آئے تو میڈیا سنگھ کے نظریے کا ترجمان بن گیا۔

کانگریس کی اُلجھن یہ ہے کہ اس کے پاس سیکولرازم، سماجی انصاف اور سوشلزم کی وراثت ہے، وہیں دوسری طرف پارٹی کے اندر خود غرض لوگوں کی ایک بڑی تعداد ا ہےجو نرم ہندوتوا کی طرف بڑھنے کی وکالت کرتے ہیں ۔ انہیں لوگوں کے مشورہ میں آ کر اترپردیش کی ایک بڑی خاتوں لیڈر دن رات مندر جاتی تھیں اور انتخابات کے دوران نرم ہندوتوا کارڈ کھیلتی تھیں۔ اب کانگری صدر سونیا گاندھی کو طے کرنا ہے کہ کانگریس کہاں جائے گی۔ دو کشتیوں پر سوار ہونا اسے ڈوبنے کے علاوہ کچھ نہیں دیتا۔ملک کا بہوجن سماج یہ امید کرتا ہے کہ جس طرح کانگریس نے پارٹی کے اندر پسماندہ لوگوں کو حصہ دینے کی بات ادے پور میں کی ہے وہ اس میں آ رہی مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ملک کا بہوجن کا یہ ماننا ہے کہ دو طاقتیں کانگریس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے میں لگی ہوئی ہیں۔ پہلا، وہ گروپ جو سیکولرازم کے بجائے ہندو راشٹر پر یقین رکھتا ہے۔ جس کی زبان پر پر گاندھی سرکاری تقریبات کے دوران آتے ہیں، لیکن گوڈسے ان کے دلوں کی گہرائیوں میں راج کرتے ہیں۔ ایسی طاقتیں ایک مذہب، ایک ثقافت کو ہندوستان کی حقیقی تاریخ مانتی ہیں۔ یہ لوگ اقلیتوں کو ملک کے لیے ‘خطرہ’اور ‘غیر ملکی حملہ آور‘ قرار دیتے ہیں۔ ایسے شدت پسند عناصر معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ بنیاد پرست، مذہبی اور فرقہ وارانہ قوم پرستی کے ذریعے بڑے سرمایہ داروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ گروپ سے لڑنا آسان ہےکیونکہ یہ سامنے سے حملہ کرتے ہیں۔ مگر دوسرا گروپ جو کانگریس کے اندر بیٹھا ہے وہ پارٹی کےنظریہ سے زیادہ ناگپور کے فرمان میں زیادہ یقین رکھتا ہے۔ ایسے فرقہ پرست لیڈروں نے کانگریس کو سب سےزیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان کی اصلی حقیقت آپ کانگریس سے جڑے ہوئے ایک رکن سے ہی سُنیے۔

حال کے دنوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے میرے ایک ساتھی نے مجھے اپنا حال سنایا تو میں خاموش رہ گیا۔ ساتھی کئی سالوں سے کانگریس کے طلبہ تنظیم سے وابستہ تھے۔ ایک دن وہ کانگریس پارٹی کے اندرکسی بڑے عہدے کے لیے انٹرویو دینے گئے۔ ان جیسے اور بھی کےکئی مسلم کارکنان انٹرویو دینے کے لیےپہنچے ہوئے تھے۔ تبھی انہوں نے پارٹی کے ایک سینئر رہنما ، جو ان کا انٹرویولے رہا تھا،کو آپس میں بات کر کرتے ہوئے سنا، ’کیا سب پوسٹ مولے لے جائیں گے‘؟ انٹرویو میں کچھ مسلم چہروں کو دیکھ کر سینئر لیڈر کو یہ ڈر ستا رہا تھا کہ کہیں کانگریس کے اندر مسلمان بھرنہ جائیں گےحالانکہ یہ خوف بے وجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی کانگریس کے اندر مسلمانوں، دلت۔ آدی واسی ، پسماندہ کو ان کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی نہیں دی گئی ہے جب کہ اعلیٰ ذات اپنی آبادی سے کہیں زیادہ بڑےبڑے عہدوں پرقابض ہیں۔ جب جامعہ کے میرے دوست نے یہ بات مجھ کو سنائی تو میرا شک اور بھی پختہ ہو گیا کہ آج بھی کانگریس پارٹی کے اندر ایسے فرقہ پرست لیڈر بھرے پڑے ہیں جو کانگریس کو بی جے پی جیسا بنانے کے لیے دن رات سازش کرتے رہتے ہیں۔


مگر اب کانگریس صدر کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کانگریس واقعی سیکولرازم اور سماجی انصاف کی راہ پر چلنا چاہتی ہے یا پھر یہ باتیں اس کے لیے محض ایک انتخابی جملہ ہے؟

(مضمون نگار جے این یو سے پی ایچ ڈی ہیں اور سماجی انصاف اور اقلیتوں کے ایشوز پر لکھتے ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN