اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جنگ میں عام شہریوں کو تحفظ حاصل نیں ہوتا

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
38
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر :ڈاکٹر مبارک علی

عہد وسطیٰ میں جب جنگوں میں قتل عام اور خونریزی ہوئی تو اس مسئلے پرغور کیا گیا کہ اس کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے۔ خاص طور مسیحی مذہب میں اس پر بحث ہوئی کہ عیسائیت امن کا مظہر ہے۔ اس میں جنگ کرنا ناجائز ہے۔ لیکن سیاسی طور پر جب حکمرانوں میں باہم جنگیں ہوئی تو ان جنگوں کو جائز قرار دینے کے لیے مذہبی رہنماؤں نے ضابطہ اخلاق کو تشکیل دیا۔
چوتھی صدی میں St. Augustin نے اس موضوع کی تشریح کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اگر حق کی جنگ ہو تو اس میں مخالف دُشمن کو مارنا یا قتل کرنا جائز ہے۔ کیونکہ حق کی جنگ، ذاتی شہرت یا مال غنیمت کے لیے نہیں ہوتی۔ اس کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے۔ اس لیے مخالف کو ہر صورت میں شکست دینا چاہیے۔
سینٹ آگسٹین (430 AD) نے ‘حق کی جنگ‘ کے بارے میں یہ بھی کہا کہ اگر اس میں مخالف مسیحی نہیں ہے تو اس صورت میں مخالف فوجوں کا قتل عام جائز ہے۔ ان کے لڑکوں کو بھی قتل کر دینا چاہیے۔ کیونکہ بالغ ہونے کے بعد وہ بھی مسیحیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
Saint Augustin کی اسی تھیوری کو عہد وسطیٰ کے مشہور مذہبی رہنما تھامس اکوئنس نے تسلیم کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ ‘حق کی جنگ‘ میں قتل و غارت گری کا مقصد شکست خوردہ قوم کو سزا دینا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ جنگ اخلاقی قدروں پر لڑی جاتی ہے اس لیے اس میں ہونے والی خونریزی جائز ہے۔
‘حق کی جنگ‘ کے بارے میں دوسرے مسیحی رہنماؤں نے بھی اپنے نظریات پیش کیے۔ جن میں جنگ کی خونریزی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مثلاً اگر دُشمن ہتھیار ڈال دے تو پھر اس کے فوجیوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ اگر دُشمن جنگ سے فرار ہو جائے تو اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔ شہری جو غیر مسلح ہوں اور جنگ میں شریک نہ ہوں۔ ان کو قتل کرنا ناجائز ہے۔
رومی سلطنت کے زوال کے بعد یورپ میں فیوڈل ازم کا ظہور ہوا۔ ان فیوڈل لارڈز کے اپنے قلعے ہوتے تھے۔ فوج میں نائٹس یا جنگجو ہوتے تھے۔ SIRF یا کسانوں کو عام فوجی بنا کر انہیں جنگ میں جھونک دیا جاتا تھا۔ لہٰذا عہد وسطیٰ میں یہ فیوڈل لارڈز آپس میں مسلسل جنگیں کرتے رہے۔ جنگوں کے دوران ان کی فوجیں نہ صرف شہروں میں لوٹ مار کرتی تھیں بلکہ چرچوں میں رکھے ہوئے تبرکات کو بھی مالِ غنیمت سمجھ کر لے جایا کرتی تھیں۔ اس صورت حال میں چرچ کے اعلیٰ مذہبی عہدیداروں میں چرچ اور اس کی جائیداد کے تحفظ کے لیے ایک عہدنامہ تحریر کیا، جس میں انہوں نے ”خدائی امن ‘‘ (Peace of God) کا نظریہ پیش کیا۔ 
اس کو مذہبی شکل دے کر فیوڈل لارڈز اور اس کی فوجوں پر پابندیاں عائد کیں کہ وہ چرچ کے تبرکات کو نہیں لوٹیں گے۔ تاجروں اور شہریوں کو تنگ نہیں کریں گے۔ دولت کی لالچ اور زمینوں پر قبضے کے لیے جنگ نہیں لڑیں گے۔ اس نے ایک حد تک تو بے گناہ شہریوں کو تحفظ دیا مگر صورت حال اس وقت بدلی۔ جب 1618ء سے لے کر 1648ء تک یورپ میں جنگ لڑی گئی اور اس تیس سالہ جنگ کا زیادہ تر حصہ جرمنی میں لڑا گیا۔ اس جنگ میں جرمنی کی 40 فیصد آبادی ختم ہو گئی۔ شہر اور گاؤں کو جلا دیا گیا۔ جب 1648ء میں ویسٹ فیلیا معاہدے کے تحت جرمنی میں قومی ریاستوں کا عمل قیام میں آیا تو اس کے ساتھ ہی ایک کانفرنس میں اس پر غور کیا گیا کہ آئندہ جنگوں کو کیسے روکا جائے۔ شہریوں کا تحفظ کیسے دیا جائے اور ریاستوں کے درمیان امن کو برقرار کیسے رکھا جائے۔
سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں جنگ اور شہریوں کے بارے میں جو نظریات سامنے آئے وہ مذہبی رہنماؤں کے نہیں تھے بلکہ سیکولر نظریات رکھنے والے مفکرین کے تھے۔ انہوں نے بین الاقوامی ضابطہ اخلاق کو پیش کیا۔ ان میں ہالینڈ کا فلسفی Hugo Grotius بھی شامل تھا۔ اس نے جنگ کی تباہ کاریوں کو روکنے اور شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے قوانین کی تشکیل کی۔ یہ وہ بین الاقوامی تحریک تھی کہ جس کے نتیجے میں Hague Convention 1899 ہوا۔ جس میں کہا گیا کہ قوموں کے درمیان امن کے معاہدے ہونے چاہییں۔
اس سلسلہ میں دوسرا Geneva Convention ، جو 1949ء میں ہوا۔ جس میں جنگی قیدیوں کو سہولتیں دینے کا کہا گیا۔ لیکن امن اور شہریوں کے تحفظ کا یہ سلسلہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے دوران ختم ہو گیا تھا، حملے کی صورت میں اب شہری بھی ملک کا دفاع کرنے لگے اور اب جنگ دو ریاستوں اور قوموں کے درمیان ہونے لگی۔ مہلک ہتھیار تیار ہونے لگے۔ جنگیں بحری، بری اور فضائی ہو گئی۔ اس صورت حال میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ شہری بھی جنگوں میں مارے گئے۔
دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے ایٹم بمبوں سے جاپان کے دو شہر ہیروشیما اور ناگاساکی کو نیست و نابود کر دیا۔ اسی جنگ کے دوران اتحادی فضائیہ نے جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر بمباری کر کے اس کے شہریوں کا تقریبا خاتمہ کر دیا۔

(مضمون نگار معروف مورخ ہیں ،یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN