مقبوضہ بیت المقدس:
اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت ختم کرنے کے لیے تاریخی دروازے باب المغاربہ کا نام تبدیل کرنے کی سازش شروع کردی۔اس سلسلے میں باب المغاربہ جسے مراکشی دروازہ بھی کہا جاتا ہے، اس کا نام تبدیل کرکے باب ہلیل رکھنے کا منصوبہ تیار کیا گیاہے۔ یہودی آباد کاروں کی خواتین پر مشتمل تنظیم نے مراکشی روازے سے متصل پل پر ایک بینر آویزاں کیا ہے جس پر مراکشی دروازے کوباب ہیکل کا نام دینے کا مطالبہ درج ہے۔ یہ نام خاتون آباد کار’ہلیل ارئیل ‘کی نسبت سے دیا گیا ہے،جو جون 2016ء میں الخلیل شہر میں ایک حملے میں ہلاک ہوگئی تھی۔
باب المغاربہ کا نام تبدیل کرنے کی سازش کے پیچھے مقتولہ کی ماں رینا دیبورا ارئیل ہے جو ’خواتین برائے ہیکل‘ نامی یہودی تنظیم کے بورڈآف ڈائریکٹر کی رکن بھی ہے۔ دوسری جانب فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین نے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو ایک لمحے کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق شیخ محمد حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام مسجد اقصیٰ میں آمد ورفت جاری رکھیں اور مسجد کی مرمت کے کام میں خلل نہ آنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سرپرستی میں یہودی آباد کار قبلہ اول پر منظم دھاوے بول رہے ہیں۔
ان حالات میں فلسطینی عوام کو چاہیے کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہیں اور مسجد اقصیٰ کو ایک لمحے کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑیں۔ادھر مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب شیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ آباد کاروں کا مقبوضہ بیت المقدس میں علم بردار جلوس کھلی شتعال انگیزی ہوگی، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ اپنے ایک بیان میں شیخ صبری نے کہا کہ اشتعال انگیز مارچ کے نتائج اور مضمرات کی تمام تر ذمے داری صہیونی ریاست پرعائد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے یہودی آباد کاروں کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔
شیخ صبری نے مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں پر تشدد کی شدید مذمت کی اور اسے نامہ نگاروں اور فوٹو گرافروں کے خلاف منظم سازش قرار دیا۔ یاد رہے کہ آباد کاروں نے سرکاری سرپرستی میں جمعرات کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں علم بردار جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب یہودی آبادکار ایسا کررہے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی ان کی اس اشتعال انگیزی کے نتیجے میں غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑگئی تھی۔










