نئی دہلی :
کورونا وائرس دوسری لہر کے بعد بھی ختم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ دوسری لہر کے دوران وائرس کے ڈیلٹا ویرئنٹ ( Delta) نے کہرام مچا یا تھا، اور اب اسی ویرئنٹ کا میوٹیشن ،جسے ڈیلٹا پلس (Delta Plus)کہا جارہا ہے ، تشویش کا باعث بنا ہواہے ، روز اس نئے ویرئنٹ کو لے کر نئی جانکاریاں آتی رہتی ہیں، تو آئے جانتے ہیں اس ویرئنٹ سے متعلق بڑے سوالات کے جواب:
کورونا کی یہ نئی شکل ڈیلٹا ویرئنٹ (B.1.617.2)میں میوٹیشن ہونے کے بعد پایا گیا ہے ۔ سب سے پہلے اس ویرئنٹ کے بارے میں جانکاری انگلینڈ کی پبلک ہیلتھ بلیٹن میں دی گئی تھی۔
یہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں پاگیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ڈیلٹا ویرئنٹ میں پروٹین میوٹیشن کے بعد بنا ہے۔ اسے K417Nنام دیاگیا ہے ۔ یہ اس سے پہلے بیٹا ویرئنٹ میں بھی ملا تھا اور اس کی شناخت سب سے پہلے ساؤتھ افریقہ میں کی گئی تھی۔
یہ نیا ویرئنٹ کہاں – کہاں پایا گیا ہے؟
بھارت میںاب تک 12 ریاستوں میں ڈیلٹا پلس کے 51 معاملوں کا پتہ چلا ہے، جس میں مہاراشٹر سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش، دہلی ،گجرات ، ہریانہ ،کیرل ،پنجاب ،مہاراشٹر، مدھیہ پردیش ، تلنگانہ ،جموں و کشمیر اور مغربی بنگال میں بھی ڈیلٹا پلس ویرئنٹ کے معاملے پائے گئے ہیں۔
کیا ’ڈیلٹا پلس‘ سے کورونا وائر کی تیسری لہر آئے گی؟
اس نئے ویرئنٹ سے کورونا کی تیسری لہر آئے گی، اس کو لے کر ماہرین کی الگ – الگ رائے ہے۔ کچھ کاماننا ہے کہ اگر بھارت می کورونا کی تیسری لہر آتی ہے تو پھر اس کے لیے ڈیلٹا پلس ویرئنٹ ذمہ دار ہو سکتاہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ویرئنٹ سے ایکٹیو کیس 8 سے 10 لاکھ تک جا سکتاہے،جس میں سے 10 فیصد تعداد بچوں کی ہو سکتی ہے ۔
موجودہ ویکسین ’ڈیلٹا پلس‘ پر اثر کریں گی یا نہیں ؟
فی الحال پکے طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ویکسین اس ویرئنٹ کے خلاف اثردار ہے، حالانکہ سائنسداں یہ مان کر چل رہے ہیں کہ ویکسین اس ویرئنٹ کے خلاف اثردار ہوں گی۔ سرکار کاکہنا ہے کہ کو ویکسین اور کووی شیلڈ دونوں ویکسین اس پر اثردار ہے۔ آئی سی ایم آر نے کہا ہے کہ ابھی اس بات کو لے کر اسٹڈی کی جارہی ہے کہ ہمارے یہاں کی ویکسین نئے ویرئنٹ کے خلاف اثر دار ہے یا نہیں۔
اس ویرئنٹ کی زد میں آنے سے کیسے بچیں؟
کورونا وائرس کی نئی قسموں سے بچنے کے لیے آپ کو وہ تمام احتیاطی تدابیر برتنی ہوں گی جو آپ اب تک کورونا وائرس سے بچنے کے لیے برتتے آئے ہیں،جیسے :
گھر سے باہر صرف بہت ضرورت پڑنے پر نکلیں
جب بھی گھر سے نکلیں ڈبل ماسک پہنیں۔
ہاتھوں کو دن میں کئی بار 20 سیکنڈ کے لیے دھوئے۔
لوگوں سے 6 فٹ کی دوری بنائے رکھیں۔
باہر سے لائے گئے سامان پر جراثیم کش دوا کا استعمال کریں۔
اس ویرئنٹ کی علامات کیا ہیں؟
وزارت صحت کے مطابق ڈیلٹا پلس زیادہ متعدی ہے اور اس کا پھیپھڑوں پر نمایاں اثر پڑتا ہے ، جس کی وجہ سے پھیپھڑوں کو جلد نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ یہ امیونٹیکو چکمہ دینے کے قابل ہے ۔ جو لو گ اس ویرئنٹ کی زد میں آئے ہیں ان میں شدید کھانسی، زکام ، سردرد ، گلے میں خراش اور ناک بہنے جیسی علامات پائی گئی ہیں ۔
’ڈیلٹا پلس‘ کتنا خطرناک ہے؟
کورونا وائرس کی ابھی تک جتنے بھی ویرئنٹ آئے ہیں ، ان میں سب سے تیزی سے ڈیلٹا پھیلتا ہے، الفا ویرئنٹ بھی کافی متعدی ہے، لیکن ڈیلٹا اس سے 60 فیصد زیادہ متعدی ہے، ڈیلٹا ویرئنٹ دوسری لہر میں سپر -اسپیڈر تھا اور اب ڈیلٹا پلس کو بھی ایسا ہی مانا جارہاہے ۔
ڈیلٹا اور ڈیلٹا پلس میں کیا فرق ہے؟
ڈیلٹا ویرئنٹ پہلی بار بھارت میں ہی پایا گیا تھا، اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیلٹا ویرئنٹ ہی زیادہ موثر ہو کر ڈیلٹا پلس بن گیا ہے ۔ ڈیلٹا ویرئنٹ کی اسپائک میں K417Nمیوٹیشن جڑ جانے کی وجہ سے ڈیلٹا پلس ویرئنٹ بنا ہے ۔
کیا ڈیلٹا پلس کورونا انفیکشن یا ویکسین سے بنی اینٹی باڈیز کو ختم کرسکتا ہے؟
ویکسین کو اصل طور سے اوریجنل کووڈ اسٹین یعنی الفا ویرئنٹ کے سلسلے میں تیار کیا گیا تھا، اس لئے ڈیلٹا ویرئنٹ اور ابھرتے ہوئے ویرئنٹ کے ویکسین اینٹی باڈی کو پار کر جانے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے ، سائنسدانوں نے ان خصوصیات کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جو نئے ویرئنٹ کو اینٹی باڈی پروٹیکشن سے بچنے میں مدد کرتے ہیں، حالانکہ حال کے دنوں میں ،اسکالروںنے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ کووڈ ویکسین ڈیلٹا انفیکشن کے خلاف موثر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن جہا ں تک ڈیلٹا پلس ویرئنٹ کی بات ہے ، تو سائنسداں ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ موجودہ ویکسین اس سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں یا نہیں، اس پر ریسرچ جاری ہے ۔










