نئی دہلی(ایجنسی)
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی فسادات سے متعلق پولیس کی غیر ذمہ دارانہ تفتیش پر عدالت کے اظہار برہمی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو پہلے دن سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ دہلی پولس نے جانبدارانہ تفتیش کی اور مسلمانوں کو گرفتار کیا، عدالت نے خود اس بات کو نوٹ کیا کہ دہلی پولس نے نہایت ناقص تفتیش کی ہے۔ خصوصی جج کے تبصرے سے ہمارے موقف کو تقویت ملی ہے کہ دہلی فسادات میں مسلمانوں کی جان و مال کو لوٹا گیا اور پھر انہیں ہی گرفتار بھی کرلیا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ دہلی فسادمیں جو مظلوم ہیں جس پر ظلم ہوا پولس نے اسے ہی ظالم اورمجرم بناکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا جبکہ اس فسادکی سازش رچنے والے آج بھی آزادگھوم رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تفتیش اور گرفتاری کے نام پر قانون وانصاف کی جس طرح بے حرمتی ہوئی ہے اس کی تصدیق عدالت کے اس سخت تبصرہ سے بھی ہوجاتی ہے کہ دہلی پولس کی اس ناقص تفتیش کے لئے دہلی فسادتاریخ میں یادرکھاجائے گا۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ 92مسلم ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے۔











