اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تنقید برائے تنقید، بحث برائے بحث

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تنقید برائے تنقید، بحث برائے بحث
164
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ثناء ظفر

اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی مگر اب ہم منطق سے زیادہ اپنی انا کے قیدی بنتے جا رہے ہیں۔ احساس اور فکر سے عاری کسی عجیب مقابلے کی دوڑ میں لگے ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے در پے نظر آتے ہیں۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی کئی وجوہات ہیں اور سب سے نمایاں ہے سوشل میڈیا پر آزادی رائے اور اس میڈیا تک بہت آسان رسائی۔ اس میڈیا پر زیادہ تر تبادلہ خیالات لکھ کر کیا جاتا ہے۔ لہذا جو مواد عوام تک رسائی رکھتا ہے، وہاں عوام بے دھڑک اور زیادہ سوچے سمجھے بغیر ہی تبصرہ لکھنے میں کوئی وقت نہیں لگاتی۔

ایسے تبصرے یا کمینٹ تحریر کردہ مواد سے زیادہ لکھنے والے کی اپنی سوچ واضح کرتے ہیں۔ یہ فوری ردعمل چونکہ غیر زبانی ہوتا ہے، اس لیے اکثر مفہوم ہی بدل کر رکھ دیتا ہے اور ایک بڑی بحث شروع ہو جاتی ہے۔

حتی کہ یہ یہاں شائع ہونے والے بلاگز پر بھی زیادہ تر لوگ صرف عنوان یا عنوان کے ساتھ لکھی گئی دو سطریں پڑھ کر ہی فیصلہ کن تبصرہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے اور پورا بلاگ پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔

مختلف تحقیقات کے مطابق ماورائے زبان گفتگو کا اثر بنیادی الفاظ سے کہیں زیادہ ہے۔ یعنی ‘کیا‘ کہا جائے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ ‘کیسے‘ کہا جائے۔ البرٹ مہرا بین ان پہلے چند محققین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے غیر زبانی گفتگو پر تحقیق کی۔ ان کے مطابق الفاظ تو صرف سات فیصد کردار ادا کرتے ہیں۔ 38 فیصد آواز کا اتار چڑھاؤ اور 55 فیصد غیر زبانی اشارے اہمیت رکھتے ہیں۔

چونکہ سوشل میڈیا پر تبصرہ لکھتے ہوئے ہم صرف اور صرف الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے اکثر اوقات ایسی بے مقصد بحث چھڑ جاتی ہے، جس کا مقصد صرف دوسرے کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ احساس، برداشت اور کسی دوسرے کی رائے کا احترام بالکل ہی بھول کر کسی عجیب احساس برتری کو تھپکتے رہتے ہیں۔ یہ رویے تیزی سے کسی بیماری کی طرح پھیل رہے ہیں اور معاشرے کی اجتماعی سوچ میں شدت پسندی نظر آ رہی ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ رویے صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے بلکہ عام زندگی کا حصہ بنتے بھی نظر آ رہے ہیں، جہاں تہذیب اور شائستگی گفتگو سے خارج ہوتی جا رہی ہے۔ مشہور دانشور پروفیسر ڈاکٹر سیدہ عارفہ زہرہ فرماتی ہیں کہ آواز وہ اونچی کرتا ہے، جس کی دلیل نیچی ہو۔ ان کی یہ ویڈیو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئی، جہاں وہ ادب، لحاظ اور برداشت سے دوسرے کی رائے کے احترام کا درس دے رہی ہیں۔ اس قدر خوبصورت گفتگو کرنے والے بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے اگر ہم ذہن کچھ کشادہ کر لیں۔

اس بحث برائے بحث رحجان کی کچھ حد تک ذمہ داری ہمارے تعلیمی نظام پر بھی ہے، جو تربیت سے زیادہ مقابلے پر زور دیتا ہے۔ گھر گھر میں بچوں کو اول آنے والے کی ہی مثال دی جاتی ہے۔ اخلاق، برداشت اور مہذب گفتگو کا سلیقہ تو سب کہیں پیچھے ہی رہ جاتے ہیں۔

میٹھا بولنا، جو شاید اخلاق کی سب سے بلند صفت ہے، وہ کہیں نمبر اور گریڈز کی دوڑ میں گم ہی ہو کر رہ گیا ہے۔ تہذیب، ادب، كتب سے لگاؤ اور سیکھنے کا جنون سب کچھ امتحانی نمبروں اور روپے پیسے میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے جانے انجانے میں اختلاف رائے کو نفرت اور دشمنی کے مترادف سمجھ لیا ہے۔ انفرادی سوچ کا مختلف ہونا تو کسی بھی معاشرے کی طاقت ہونا چاہیے مگر یہ اندھا دھند پیروی، صرف اپنے آپ کو صحیح اور باقی سب کو غلط سمجھنا کیوں اور کب ضروری ہو گیا؟ اس فوری اور شدید رد عمل میں اکثر خبر کی حقیقت جانچے بغیر ہی اس پر خوب بحث بھی کی جاتی ہے اور کھلے دل سے آگے پھیلایا بھی جاتا ہے۔

تنقيد برائے تنقید کا رجحان بھی کچھ بے معنی حد تک بڑھ گیا ہے۔ یہاں تو اگر کوئی یہ کہہ دے کہ اسے لال رنگ پسند ہے تو بہت سے لوگ فورا نیلے اور پیلے کی حمایت کو دوڑ پڑیں گے۔ موضوع مذہب ہو، سیاست ہو، کسی طبقے کے حقوق يا بالکل ہی کوئی بے مقصد بات ہو، ہر صورت میں تنقید اور اپنے آپ کو برتر ثابت کرنا لازم سمجھ لیا گیا ہے۔ سیاسی پارٹی کی اندھی حمایت اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں ہر ایک شخص اپنے لیڈر کو فرشتہ اور مخالف پارٹی کو ابلیس ثابت کرنے پر ایسے بضد ہے کہ ملک وقوم کی بہتری تو شاید کسی خاطر میں نہیں لائی جاتی۔

حال ہی میں ایک مقبول ترین سیاسی لیڈر کے ایک جلسے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر جس جوش وخروش سے دفاع کیا گیا کہ چونکہ دوسری پارٹی بھی یہی کرتی رہی ہے تو ہمارے پڑھے لکھے اور سب کے آئیڈیل لیڈر کو بھی یہ لائسنس حاصل ہونا ہی چاہیے بلکہ زور و شور سے کسی مزاح کے زمرے میں داد بھی دی گئی۔

یہ سوچ اور نظریہ انتہائی پریشان کن صورتحال اختیار کر رہا ہے اور نئی نسل کو صحیح راہ دکھانا بہت ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر دن رات بحث برائے بحث میں الجھ کر ناصرف عوام میں ادب اور لحاظ کا فقدان پایا جاتا ہے بلکہ خود اعتمادی کی کمی بھی بہت واضح ہے کیونکہ نظر ملا کر مہذب اور ٹھوس گفتگو کرنے سے کہیں آسان بلا سوچے سمجھے کمنٹ لکھنا ہے۔

بڑوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کھل کر مختلف موضوعات پر بات کرنے کی بچوں کو اجازت دیں اور بڑھاوا دیتے ہوئے انہیں مثالی رویہ ضرور دیکھائیں، جہاں وہ اختلاف رائے کے باوجود برداشت اور حوصلے سے دوسرے کی بات سنیں اور صرف اس لیے نہ رد کر دیں کہ وہ نقطہ نظر مختلف ہے بلکہ ہر گفتگو سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔

غیر زبانی اور بدن بولی کو اتنی اہمیت دیں کہ اپنا نقطہ نظر مؤثر طریقے سے پیش کرنا سیکھ سکیں۔ بچوں کی جذبانی ذہانت پر توجہ دیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ منطق سمجھنا اور کچھ نیا سیکھنا ضروری ہے صرف اپنے نظریے کا ضد میں دفاع کرنا نہیں۔

کبھی تو بزرگ بھی اپنے نظریے پر اتنے بضد نظر آتے ہیں کہ سلجھاؤ کی صورت مشکل ہوجاتی ہے۔ شائستہ اور بامقصد گفتگو کرنا ایک صلاحیت ہے، جو انسان کو بہت آگے تک لے جاسکتی ہے اور پورے معاشرے کی بہتری کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN