نئی دہلی :
لاک ڈاؤن کی وہ جھنجھوڑ دینے والی تصویر یاد ہے ، جس میں ایک والد اپنے بچے کو کندھے پر اٹھائے سیکڑوں کلومیٹر کے سفر پر نکلا تھا۔ کیمرے سے آنکھ سے آنکھ ملاتی وہ تصویر ہو یادہلی فساد میں ایک مسلم شخص کو گھیر کر مار پیٹ کرتی بھیڑ کی وہ تصویر جس میں لوگوں کے ہاتھوں میںڈنڈے، لوہے کے راڈ تھے، مار کھانے والا شخص لہولہان ہوا زمین پر گرا پڑا تھا۔ دردناک سچائی کو دنیا کے سامنے لانے والی تصویریں جو کسی کے بھی رونگٹے کھڑے کردینے کی طاقت رکھتی ہو ، ان تصاویر کو بنانے والا فوٹو گرافر دانش صدیقی اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ وہ جنگ میں سپاہی کی طرح شہید ہوگئے۔

افغانستان میں طالبات کے حملے میں ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ صحافی پلیتزر ایوارڈ سے اعزاز یافتہ دانش صدیقی کی موت ہوگئی ۔
آخری کہانی اور میدان جنگ
افغانستان کے نیوز چینل ٹولو نیوز نے دانش کی موت کے بارے میں تصدیق کی ہے۔ دانش افغانستان کے ضلع اسپن بولداخ میں افغان اسپیشل فورس کے ساتھ تھے اور وہ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے لئے رپورٹنگ کررہے تھے۔ دانش کی آخری خبر قندھار سے ہی تھی ، جس میں اس نے طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے مابین زبردست لڑائی کے بارے میں بتایا تھا۔
دانش کی بولتی تصویر

حال ہی میں دانش کی وہ تصویر اس وقت منظرعام پر آئی تھی جب دہلی کے ایک شمشان گھاٹ میں لی گئی تھی۔ اس ایک تصویر سے پوری تصویر صاف ہو رہی تھی کہ کیسے کورونای کی دوسری لہر میں بھارت میں بہت زیادہ موتیں ہورہی ہیں۔ دانش کی اس تصویر کے بعد ملک سے لے کر دنیا میں کورونا میں سرکاری لاپروائی اور موت کی اعداد وشمار پر سوال اٹھنے لگے تھے۔










