ترکی کے ذرائع ابلاغ نے اسرائیل کے ایک مبینہ منصوبے کے متعلق خدشات کو وسیع پیمانے پر اُجاگر کیا ہے جس کا مقصد شام کو ’تقسیم کرنا‘ یا ’چند حصوں میں بٹا ہوا ملک‘ بنانا ہے۔ترکی کے بعض تجزیہ کاروں نے اسرائیل کے اس مبینہ ’ڈیوڈ کوریڈور‘ منصوبے پر تنقید کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد اسرائیل کو جنوبی شام کے دروز آبادی والے علاقوں اور شمالی شام کے کرد آبادی والے علاقوں سے جوڑنا ہے۔
یاد رہے کہ ترکی شام کی موجودہ حکومت کا ایک بڑا حامی ہے اور وہ دمشق میں طاقت کے ایک مرکزی محور کی حمایت کرتا ہے۔ ترکی شام میں ڈی سینٹرلائزڈ یا وفاقی طرزِ حکومت کا مخالف ہے۔
’ڈیوڈ کوریڈور‘ کیا ہے؟
اگرچہ اسرائیل نے سرکاری طور پر ’ڈیوڈ کوریڈور‘ نامی کسی منصوبے یا سٹریٹجک حکمتِ عملی کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم علاقائی مبصرین اور تجزیہ کار اسرائیل کی جانب سے شام میں فضائی حملوں، گولان کی پہاڑیوں کے قریب اسرائیلی فوجی تعیناتیوں اور جنوبی شام میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ڈیوڈ کوریڈور‘ یا حضرت داؤد کے نام کی مبینہ راہداری اُس مبینہ راستے کو کہا جا رہا ہے جو اسرائیل کو گولان کی پہاڑیوں سے شمالی شام کے کرد علاقوں تک لے جائے گا۔’دی کریڈل‘ میں صحافی مہدی یاغی نے لکھا ہے کہ ’نظریاتی طور پر، اس منصوبے کی جڑیں ’گریٹر اسرائیل‘ کے وژن سے منسلک ہیں۔ یہ ایک توسیع پسندانہ تصور ہے جو صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہرزل سے منسوب ہے۔ یہ وژن مصر میں دریائے نیل سے عراق کے دریائے فرات تک پھیلا ہوا بائبل کے نقشے پر محیط ہے۔‘اسرائیلی حکام، جن میں وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو بھی شامل ہیں، یہ واضح کر چکے ہیں کہ اُن کا ملک اپنی شمالی سرحدوں کے قریب شامی افواج یا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی موجودگی کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے گا، اور اِن اقدامات کا مقصد سکیورٹی اور دروز برادری کی حمایت بتایا گیا ہے۔
ان اسرائیلی اقدامات پر کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں نے منفی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شامی حکومت نے اسرائیل کی فوجی موجودگی اور فضائی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ترکی، ایران، روس اور عرب لیگ کے رکن ممالک نے بھی اسرائیل پر علاقائی سرحدوں کو فوجی اقدامات کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہےترکی کو خدشہ ہے کہ اسرائیل جنوبی شام میں دروز برادری اور شمالی شام میں کردوں کی حمایت سے خودمختار علاقوں کے قیام اور اُن کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگرچہ جنوبی شام میں اسرائیل کی موجودگی کی حدود اور اس کے طویل مدتی مقاصد ابھی غیر واضح ہیں لیکن یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں اور شام کی سالمیت کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال شام پر اثر و رسوخ کے لیے جاری بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کی عکاس ہے، جہاں اسرائیل، ایران، امریکہ اور روس جیسے ممالک خفیہ یا غیر رسمی حکمتِ عملیوں کے ذریعے زمینی حقائق کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ترکی کا ردعمل:
اس تناظر میں ترکی کے سرکاری حمایت یافتہ ذرائع ابلاغ نے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل کی مبینہ کوششوں پر تشویش ظاہر کی ہے کہ وہ شام کو غیرمرکزی اور منقسم ریاست میں بدلنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے 17 جولائی کو کہا ہے کہ ترکی ’شام کی تقسیم کو قبول نہیں کرے گا‘ اور انقرہ نے ’شام کی علاقائی سالمیت، متحد حکومتی ڈھانچے اور کثیرالثقافتی شناخت‘ کی حمایت پر زور دیا۔ (بشکریہ بی بی سی)








