نئی دہلی : (ایجنسی)
دلت ٹائمس کی خاتون صحافی سرشٹی جاٹو کو دہلی پولیس نے بدھ کی دو پہر اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ کوریج کے لیے جامعہ نگر پہنچی تھیں۔
سرشٹی کا کہنا ہے ’جامعہ نگر کے دھوبی گھاٹ پر بنی جھگیوں کو ڈی ڈی اے اور پولیس کے کچھ افسران ہٹانے پہنچے تھے، جس کی کوریج کے لیے جب میں وہاں پہنچی تو مجھے اور میرے کیمرہ مین راجو کو حراست میں لے لیا۔‘
حراست میں کیوں لیا گیا اس سوال پر سرشٹی کہتی ہیں ’پولیس نے ہم سے بغیر کچھ پوچھ گچھ کے ہی پہلے ہمارا کیمرہ اور پھر میرا موبائل چھین لیا۔ میرے کہنے پر کہ ہم صحافی ہیں تو انہوں نے کہاکہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ کس نے بھیجاہے ؟ اور آپ کو یہاں آنے کی اجازت کس نے دی؟‘
نیوز لانڈری سے بات کرتے ہوئے سرشٹی نے مزید کہاکہ جب دھوبی گھاٹ پر پولیس اور ڈی ڈی اے کے افسران جھگیاں ہٹانے پر پہنچے تو یہاں لوگ ان کی مخالفت کررہے تھے ۔ اس کے بعد پولیس نے انہیں ڈرا دھمکا کر ان کے گھروںمیں بھیج دیا، لیکن تبھی وہاں پر پتھربھی پھینکے گئے۔ اس دوران جب ہم لوگوں سے بات کررہے تھے تبھی پولیس نے ہمیں گھیر لیا اور کہاکہ آپ یہاں فساد بھڑکانے کی کوشش کررہے ہو۔ پولیس نے مجھ سے یہ بھی کہاکہ ان لوگوں کو پتھر پھینکنے کے لیے بھی میںنے ہی اکسایا ہے ۔
اس کے بعد پولیس نے میرا فون چھین لیا اور مجھے جامعہ نگر تھانہ لے گئی۔ مجھے دوپہر میں قریب ڈھائی سے تین بجے کے درمیان پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور تین گھنٹے بعد چھوڑاگیا۔ تھانہ میں مجھ سے میرے فون سے ویڈیو ڈیلٹ کرنے کو کہا گیا ، جب میں نے ایسا کرنے سے منع کردیا تو انہوں نے خود ہی میرے فون سے ویڈیو اور آڈیو ڈیلیٹ کردیں۔
صحافی کا دعویٰ ہے کہ پولیس اسٹیشن میں پوچھ گچھ کے دوران ان سے بدتمیزی کی گئی۔ وہیں ان کے بار بار پوچھنے پر پولیس نے کہاکہ آپ وہاں فساد بھڑکانے کی کوشش کررہے تھے ۔
اس بارےمیں جب جامعہ نگر تھانہ کے ایس ایچ او سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہاکہ ہم نے کسی کو حراست میں نہیںلیاہے ۔ وہیں جب ان سےاس سے متعلق اگلا سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے ڈی سی پی صاحب سے بات کر لیجئے ، مجھے اس بارےمیں کچھ نہیں معلوم ہے ۔
دوسری جانب جب ساؤتھ ایسٹ دہلی کے ڈی سی پی راجندر مینا سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ ہم نے لڑکی کو حراست میں لیا تھا اور اس کی جانکاری ہم نے گروپ میں شیئر کردی ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کس گروپ میں ؟ تو انہوں نے کہاکہ میں آپ کو وہاٹس ایپ پر بھیج دیتاہوں۔








