نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں 10 اکتوبر کو مجوزہ احتجاج سے پہلے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والی متعدد میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے اور ٹرینوں کی آمدورفت محدود کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان اقدامات کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا حکومت اور انتظامیہ کو بڑے احتجاج کا خدشہ ہے؟ تاہم حکام کی جانب سے ان انتظامات کی وجہ احتجاج کے دوران ممکنہ بھیڑ اور امن و امان کی صورت حال بتائی گئی ہے۔ ماخذ: ٹائمز آف انڈیا
نظام الدین اور نئی دہلی اسٹیشنوں پر ٹرینیں کیوں منسوخ؟
ریلوے کے حکم کے مطابق 10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر پہنچنے والی متعدد میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت مخصوص اوقات میں ان اسٹیشنوں پر پہنچنے والی ٹرینیں اپنے ابتدائی اسٹیشنوں سے ہی روانہ نہیں ہوں گی۔
ریلوے حکام کے مطابق اسٹیشنوں کے آس پاس شدید ٹریفک جام اور بھیڑ کے خدشے کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ احتجاج سے پہلے سامنے آیا ہے، لیکن ریلوے حکام نے ٹرینوں کی منسوخی کو براہ راست احتجاج سے جوڑنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے اپنی ٹرین کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں اور متبادل انتظامات رکھیں۔ یہ پابندی تمام ٹرینوں یا پورے ملک کی ریلوے خدمات پر لاگو ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ تفصیلات یہاں پڑھیں
دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں پر کیا پابندی ہوگی؟
احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) سے 9 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 10 اکتوبر کو حالات معمول پر آنے تک 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرینوں کی آمدورفت کی رفتار اور فریکوئنسی بھی محدود کی جا سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری دہلی میٹرو سروس بند کر دی گئی ہے۔ مسافروں کو چاہیے کہ وہ اپنے روٹ، متعلقہ اسٹیشن اور تازہ ترین DMRC اعلانات کی تصدیق کر کے ہی سفر کریں۔ ماخذ: اکنامک ٹائمز
احتجاج کی اجازت نہیں، پھر بھی مظاہرین دہلی آنے پر بضد
10 اکتوبر کو جنتَر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج میں کئی اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کے بھی شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے عمل پر اٹھائے گئے سوالات سے متعلق ہے۔
دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت نافذ امتناعی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے مجوزہ احتجاج کی اجازت نہیں دی۔ پولیس کے مطابق بڑے اجتماع اور نئی دہلی کے حساس علاقوں میں مظاہرین کی نقل و حرکت کے باعث امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ CJP کے رہنما ابھیجیت دپکے نے پابندیوں کے باوجود احتجاج کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ ماخذ: انڈین ایکسپریس
23 ہزار مرکزی اہلکار تعینات، سرحدوں پر بھی نگرانی
احتجاج کے پیش نظر مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 221 کمپنیاں، یعنی تقریباً 23 ہزار اہلکار، دہلی پولیس کی مدد کے لیے دستیاب کرائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین مظاہرین کی بڑی تعداد کے امکان کے پیش نظر اضافی خواتین نیم فوجی اہلکار بھی تعینات کیے جانے کی اطلاع ہے۔
پولیس نے جنتَر منتر، پارلیمنٹ اور نئی دہلی کے حساس علاقوں کی جانب جانے والی سڑکوں پر کثیر سطحی بیریکیڈنگ شروع کر دی ہے۔ دہلی کی سرحدوں اور آمدورفت کے اہم مقامات پر بھی نگرانی بڑھائی گئی ہے۔ پولیس کے اندازے کے مطابق دہلی اور آس پاس کی ریاستوں سے 50 ہزار سے زائد افراد کے شہر پہنچنے کا امکان ہے؛ یہ ایک اندازہ ہے، حتمی تعداد نہیں۔ ماخذ: انڈین ایکسپریس
شراب کی دکانیں بھی بند، معمولات زندگی پر اثر کا امکان
دہلی میں 9 اور 10 اکتوبر کو خوردہ شراب کی دکانیں بند رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ حکام نے یہ فیصلہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر کیا ہے۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں تمام کاروباری اداروں، دفاتر یا عوامی خدمات کو مکمل طور پر بند کرنے کا کوئی عمومی حکم سامنے نہیں آیا ہے۔
میٹرو اسٹیشنوں پر پابندی، ٹرینوں کی منسوخی، سڑکوں پر بیریکیڈنگ اور اضافی فورسز کی تعیناتی سے دارالحکومت میں سفر کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر سے پہلے ریلوے اور میٹرو کی تازہ ترین ہدایات دیکھ لیں۔
حکومت خوفزدہ ہے یا امن و امان کی تیاری؟
ٹرینوں کی منسوخی، میٹرو اسٹیشنوں پر پابندی اور ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی نے 10 اکتوبر کے احتجاج کو اہم بنا دیا ہے۔ تاہم ان اقدامات کو حکومت کے خوف کا ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ سرکاری طور پر انتظامیہ نے ان کا جواز ممکنہ بھیڑ اور امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت بتایا ہے۔
اب سب کی نظریں 10 اکتوبر پر ہیں کہ احتجاجی جماعتیں پابندیوں کے باوجود کتنی تعداد میں جمع ہوتی ہیں، پولیس کس طرح صورت حال کو سنبھالتی ہے اور آیا اس احتجاج کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور SIR کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع میں کوئی نیا موڑ آتا ہے یا نہیں۔










