دہلی دہلی : (یجنسی)
سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران لوٹ مار اور کمپلیکس میں آگ لگانے کے الزام میں درج چار ایف آئی آر رد کردیں ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایک ہی قابل ادراک جرم کے لیے دوسری ایف آئی آر اور نئی جانچ نہیں ہوسکتیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سال 2020 میں شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کے خلاف احتجاج کے بعد شروع ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور سرکاری ونجی جائیداد کو سڑکوں کا نقصان ہوا تھا ۔ اس دوران کئی لوگ زخمی ہوئے تھے ۔
شمال مشرقی دہلی فسادات کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ زیر غور جرم کے لیے دوسری ایف آئی آر درج کر کے از سرنو جانچ شروع نہیں کی جاسکتی۔ سی اے اے کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ٹکراؤ سے شروع ہوئے فسادات میںکل 755 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں اور 1,829لوگوں کو گرفتار کیا تھا ۔
فسادات کے دوران مشتعل ہجوم نے اسکولوں ، ٹرینوں ، گاڑیوں اور یہاں تک کہ ایک پٹرول پمپ کو نذر آتش کردیا۔ اس دوران انٹیلی جنس افسر انکت شرما بھی مارا گیا اور اس کی لاش نالے میں پھینک دی گئی۔









