نئی دہلی : (ایجنسی)
دہلی فسادات کے معاملے میں عدالتیں پولیس کےکام کرنے کے طریقہ سے سخت ناراض شروع سےہی نظر آرہی تھیں۔ کئی بار پولیس کو پھٹکارلگائی، لیکن جمعرات کو ایک کورٹ نے وہ ریماکس کئے جو پولیس کو تاعمر یاد رہے گی۔ کورٹ نے تین ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہاکہ دہلی فساد میں پولیس کی تفتیش کا طریقہ کار تاریخ میں ایک سیاہ باب کی طرز پر درج ہوگا۔
عدالت نے گزشہ سال شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق ایک معاملے کی جانچ کو لے کر پولیس کو سخت پھٹکار لگائی۔ کڑکڑ ڈوما کے ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے کہاکہ جب تاریخ تقسیم کے بعدسے قومی دارالحکومت میں سب سےبدترین فرقہ وارانہ فساد کو دیکھے گا، تو پولیس کی ناکامی ہمیشہ تکلیف دہ ہوگی۔ ان کاکہنا تھا کہ پولیس نے جس طرح سے سطحی تفتیش کی وہ شرمسار کرنے والی ہے ۔
عدالت نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین کے بھائی شاہ عالم اور دو دیگر ملزمان کاشف سیفی اور شاداب کو ایک دکان میں لوٹ پاٹ اور توڑ پھوڑ سے جڑے معاملے میں بری کردیا۔ عدالت نے جانچ کو غیر فعال قرار دے کر کہاکہ واقعہ کا کوئی ایسا سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں تھا، جس سے ملزم کی جائے واردات پر موجودگی کی تصدیق ہو سکے۔ کوئی چشم دید گوا ہ نہیں تھا اور مجرمانہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ فروری 2020 میں دہلی کے چاند باغ علاقے میں فسادات کے دوران تینوں کو گرفتار کیا گیا تھا ۔
اے ڈی جے یادو نے اپنے فیصلے میں کہاکہ پولیس نے معاملے میں پانچ گواہ چشم دید کے طور پر پیش کئے۔ ایک خود متاثر تھا، تو دوسرا سپاہی گیان سنگھ ، اس کے علاوہ ڈیوٹی افسر، ایک رسمی گواہ اور تفتیشی افسر کو بطور گواہ پیش کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ افسران نے اپنے ماتحتوں کے کام پر نظر ہی نہیں ڈالی۔ انہوں نے یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کی کہ نیچے کے لوگ کیا اور کیسے کر رہے ہیں۔
اے ڈی جے نے کہا کہ کیس میں ایسا لگتا ہے کہ عینی شاہدین ، شواہد کا سراغ لگانے کی کوئی کوشش کیے بغیرہی صرف چارج شیٹ دائر کر کے معاملہ سلجھا لیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ڈیڑھ سال سےکئی لوگ صرف اس لیے جیل میں بند ہیں کیونکہ پولیس سپلمینٹری چارج شیٹ داخل کرنے میں مصروف ہے ۔ ان کے جیل میں رہنے کے لیے پولیس ہی ذمہ دار ہے ۔











