وشنگٹن :
افغانستان میں طالبان کے اقتدارپر قبضے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کے مواخذے کیلئے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ ر ی پبلیکن جارجیا کی نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین کی طرف سے مطالبہ سامنے آیا کہ وہ متعلقہ آرٹیکلز پر کام کررہی ہیں،کیونکہ جوبائیڈن سے بیزار ہے۔
انہوں نے تسلیم کیاکہ ان کی ٹیم صدر کے مواخذے کے آرٹیکلز پر کام کررہی ہے۔انہوں نے پہلے مواخذے کے آرٹیکلز کا مجموعہ دائر کررکھا ہے،لیکن بطور صدر ان کی ناکامی ناقابل بیان ہے۔
فلوریڈا سینیٹر رک اسکاٹ نے افغانستان کے طالبان کے حوالے کے تناظر میں بائیڈن کی برطرفی کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں ایک سنجیدہ سوال کا سامنا کرناچاہیے کہ جوبائیڈن اپنے عہدے کے فرائض کی انجام دہی کے قابل ہیں یا وقت آگیا ہے کہ 25ویں ترمیم کی دفعات کو استعمال کریں۔
سوشل میڈیا پر #ImpeachBiden ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ میں رہا۔نیویارک کے سابق میئر نے بھی جوبائیڈن، نائب صدر کملا اور اسپیکر نینسی پیلوسی پر تنقید کی۔سابق نیو اڈا جی او پی چیئرمین وومن ایمی ترکانان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والے واقعات کے جوبائیڈن کمانڈر ان چیف نہیں رہ سکتے۔
کابینہ کو فوری طور پر 25ویں ترمیم کا مطالبہ کرنا چاہیے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کانگریس کو ان کے مواخذے کے لئے آگے بڑھنا چاہیے،وہ ہمارے کمانڈ ر ان چیف کے طور پر باقی رہنا قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ٹرمپ نے بھی جوبائیڈن کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ ریپبلیکن امیدوارجیک لیمبورڈی نے بھی کابینہ سے25ویں کا مطالبہ کیا ہے ۔










