اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اپنی قیادت کی ضرورت سے انکار ذہنی غلامی کی انتہا !

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اپنی قیادت کی ضرورت سے انکار ذہنی غلامی کی انتہا !
42
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کلیم الحفیظ-نئی دہلی

انسان جب اپنے مقام بلند کو بھول جاتا ہے تو انتہائی پستی میں جا گرتا ہے۔ مسلمانوں کے مقام و منصب کے تعلق سے قرآن میں کیا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس سے ہم سب واقف ہیں ۔قرآن نے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں کو’’ خیر امت ‘‘ کے لقب سے نوازا ہے یعنی کہ تم بہترین امت ہو،تم کو سارے انسانوں کی لیڈر شپ کے لیے برپا کیا گیا ہے تم تمام انسانیت کو معروف کا حکم دیتے ہو،انھیں برائیوں سے روکتے ہو۔ایک جگہ فرمایا گیا کہ تم ہی سربلند رہوگے اگر تم مومن ہو۔سورہ نور میںارشاد ہوا’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں’’ خلیفہ‘‘ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وہ امن وامان سے بدل دے گا۔‘‘قرآن کی ان واضح تعلیمات کے باوجود اگر ایک مسلمان سیاست داںببانگ دہل یہ کہتا ہے کہ ’’کچھ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ،بھارت میں اپنی قیادت کی بات کرتے ہیں ،جنھیں اپنی قیادت بنانا ہے وہ پاکستان جائیں ،یہاں ہمارا نیتا ہندو ہی رہتا ہے‘‘تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سیاست داں کو نہ اپنے دین کا علم ہے ،نہ اپنی تاریخ کا علم ہے اورنہ اپنے مقام کا احساس ہے ۔

میں یہ بات واضح کردوں کہ میں کسی غیر مسلم لیڈر شپ کے وجود کا انکار نہیں کررہاہوں ،میں مہاتما گاندھی ،پنڈت جواہر لال نہرو،لال بہادر شاستری سے لے کر موجودہ دور کے ملائم سنگھ ،لالو یادو،سونیا گاندھی کو دیش میں ان کے اپنے طبقوں کا لیڈر مانتا ہوں ،مجھے تسلیم ہے کہ ان کی لیڈر شپ میں درجنوں مسلمان سیاست دانوں نے کام کیا ہے اور کررہے ہیں ۔لیکن میں اسی کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر،شیخ محمود الحسن،مولانا ابو الکلام آزاد سے لے کر موجودہ دور میں بیرسٹر اسد الدین اویسی،مولانا بدرا لدین اجمل قاسمی،محمد اعظم خاں کو بھی بھارت واسیوں کا لیڈر اور رہنما مانتا ہوں ۔لیکن میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ بھارت میں مسلمانوں کا قائد ہمیشہ ہندو ہی رہا ہے اور بھارت کی یکجہتی کے لیے آئندہ بھی ہندو کی لیڈر شپ میں ہی مسلمانوں کو کام کرنا چاہئے۔میں سیکولر ملک کے سیکولر آئین کی روشنی میں وہ بات تو نہیں کہتا جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے کہی ہے کہ ’’سیاست بھی نماز کی طرح دین کا حصہ ہے اگر نماز کا امام غیر مسلم نہیں ہوسکتا تو سیاست کا امام غیر مسلم کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘لیکن ماضی کی مسلم قیادت کا انکار اور موجود ہ حالات میںمسلم سیاسی قیادت کی ضرورت سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے۔

لگتاہے کہ ہمارے سیاسی رہنمامہاراشٹر میں رہتے رہتے شیوسینا کی زبان بولنے لگے اور اپنے خطے کی دوراندیشی کو بھول گئے۔ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستان جانے کی دھمکیاں اکثر ہندو شدت پسندوں کی زبان سے ملتی رہی ہیں،جس پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی مگر ا یک مسلم سیاسی لیڈرکی آخر وہ کونسی مجبوری ہے جس کے چلتے اسے دشمنوں کی زبان بولنا پڑی ،کاش وہ سوچتے کہ ان کے اس بیان سے خود ان کی پارٹی کو کس قدر نقصان پہنچے گا۔محض فانی دنیا کے عارضی مفاد و منصب کی خاطر خلاف دین وشریعت اوربھارتی مسلمانوں کی تضحیک کا سبب بننے والا بیان دینا کہاں کی دانش مندی ہے۔ہم غلامی کرتے کرتے یہ بھی بھول گئے کہ ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں اور یہاں کے آئین نے ہر قوم اور ہر گروہ کو اپنا لیڈر چننے کی آزادی عطا کی ہے۔ہم یہ بھی فراموش کر بیٹھے کہ جس مہاشے کی قیادت میں رہ کر کام کرنے کی بات کی جارہی ہے خود وہ ’مہاشے ‘صرف سات فیصد یادووں کے لیڈر ہیں۔دراصل غلامی کا طوق انسان کو سگ دنیا بنا دیتا ہے۔دنیا کی حرص اسے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف کھڑا کردیتی ہے ،جھوٹی شان و شوکت کا فریب اپنوں کے خون سے ہاتھ لال کرادیتا ہے ۔حرص دنیا اور دنیا خراب ہوجانے کا خوف ہی کسی سے ایسی بے ہودہ باتیں کراتا ہے۔

کیا ابھی بھی وقت نہیںآیا ہے کہ بھارتی مسلمان اس بات پر غور کریں کہ ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ اپنی روشن تاریخ سے روبرو ہوکر اپنے مستقبل کو سنواریں،جس قوم نے اسی خطے پر سات سو سال تک قیادت کی ہو،جس قوم کو منصب امامت خود خالق کائنات نے عطا کیا ہو،جس کو پیدائشی طور پر سیادت کی خصوصیات سے نوازا گیا ہو اسی قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنی قیادت کے بارے میں سوچنے کو بھی تیار نہیں ،وہ خود اپنے آس پاس سے کتنی بے خبر ہے ؟ کہ اسے نہیں معلوم کہ تین فیصد آبادی والے گروہ نے بھی اپنا لیڈر چن لیا ہے؟ جب کہ خود اسے یہ تعلیم دی گئی تھی کہ تنہا نماز پڑھنے کے مقابلے جماعت کی نماز کا ثواب 27درجے زیادہ ہے،جسے کہا گیا تھا کہ اپنے اوپر اجتماعیت کو لازم کرلو ،جو جماعت سے بالشت بھر بھی الگ رہا وہ جاہلیت کی موت مرا،جس کو سفر تک کے لیے تاکید کی گئی تھی کہ اگر دو لوگ بھی ہوں تو اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں،اسی قوم کا ایک لیڈر جس پر قوم کو ناز تھا،جس سے امید تھی کہ وہ قوم کی نیا پار لگائے گا اسی نے قوم کو امامت کے منصب سے معزول کرکے ان لوگوں کی غلامی میں دے دیا جنھوں نے آج تک مسلمانوں کا کوئی بھلا نہیں کیا ۔

جس گروہ کو ساری دنیا کی امامت کرنا تھی ،جس کے کاندھوں پر ذمہ داری تھی کہ وہ سارے انسانوں کی قیادت کرے اور جس نے تاریخ کے ایک طویل حصے تک یہ فریضہ انجام بھی دیا وہ گروہ ذہنی غلامی کی اس قدر پستی میں چلاجائے گا کہ اپنے وجود کا ہی انکار کربیٹھے گا۔آج یہ کہنے والے کہ ہمارا لیڈر ہندو ہی رہتا ہے کیا کل وہ یہ نہیں کہہ سکتے بھارت میں تو ہمارے مائی باپ ہندو ہی تھے اور ہندو ہی رہیں گے۔افسوس ہوتا ہے اور دل دکھتا ہے ،مستقبل تاریک نظر آتا ہے جب کسی مسلم لیڈر کے منھ سے غیروں کی غلامی کی بو آتی ہے۔آخر کس چیز کی کمی ہے مسلمانوں میں ،کیا ان کا دین کمزور ہے یا نا مکمل ہے جس میں قیادت کے آداب نہ بتائے گئے ہوں ،کیا ان کے پاس آخری رسول کی شکل میں مکمل قائد اور لیڈر نہیں ہے کہ انھیں کسی اور لیڈر کی ضرورت پیش آئے۔کیا ان کے اندر ٹیلینٹ کی کمی ہے،کیا وہ آئینی طور پر پابند ہیں کہ غیروں کو ہی اپنا ہی امیر منتخب کریں؟آخر اس ناعاقبت اندیش لیڈر کے پاس کیا دلیل تھی جس کی روشنی میں انھوں نے ہندی مسلمانوں کو پاکستان جانے کو مشورہ دیا؟کیا موجودہ ہندوستان کی تعمیر اور آزادی میں مسلمانوں کا حصہ کسی دوسری قوم سے کم ہے؟ضرورت ہے کہ مسلمان اس بات کو سمجھیں کہ ان کی سیاسی قیادت دینی ،شرعی،سیاسی اور سماجی طور پر کس قدر ضروری ہے۔؟علامہ اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا:

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN