تل ابیب :
اسرائیل میں انتخابات سے کچھ مہینے پہلے دسمبر 2020 میں بنجامن نیتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی سے کہاتھا،’’ لوگ دیکھ رہےہیں کہ کون ان کے لیے ویکسین لایا ہے اور کون انہیں کورونا بحران سے نکال رہاہے ۔‘‘ مگر ایسا ہو ا نہیں، نیتن یاہو کی پارٹی سب سے زیادہ سیٹیں تو جیتنے میںکامیاب رہی لیکن سرکار نہیں بنا پائی۔ اب نفتالی بینٹ اور ییر لپید اتحادبنا چکے ہیں اور جلد ہی نیتن یاہو کے 12 سالوں کے اقتدام کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ پچھلے ایک دہائی سے زیادہ وقت سے ملک کی سیاست پر کنٹرول کررہےبی بی نیتن یاہو ’ ہار‘ کیسے گئے؟
دی کوئنٹ ہندی نے لکھا ہے کہ اسرائیل میں گزشتہ دوسالوں میں چار انتخابات ہو چکے ہیں۔ ہر بار نیتن یاہو کسی نہ کسی طرح وزیر اعظم بننے میں کامیاب رہے ، گزشتہ 12 سالوں میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا جب نیتن یاہو کی اقتدار اتنی کمزور نظر آئی ہو ۔ جتنی وہ آج ہے ۔
نیتن یاہوپورا زورلگا رہے ہیں کہ بینٹ لپید مخلوط حکومت نہ بن پائے۔ ایسا کرنے کے پیچھے سیاست کے ساتھ ساتھ سزا کاڈر ہے۔ نیتن یاہو پر بدعنوانی کے مقدمے چل رہے ہیں، وہ ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں اور کہاہے کہ مقدمات کو متاثر نہیں کریں گے۔ وبائی بحران سے پہلے سمجھا جار ہا تھاکہ ان معاملوں کی وجہ سے نیتن یاہو کی اقتدار چھن سکتی ہے ، لیکن صحت کے بحران اور ویکسینیشن سے اچھے سے دوچار ہونے کے بعد ان کے انتخابات بہتر ہوگئے تھے۔ پھر بھی وہ ہار گئے۔ تکنیکی لحاظ سے وہ جیتے ہی ہیں لیکن پھر بھی سرکار نہ بنا پانا یاہو کی سیاسی ہار ہے، یہ نیتن یاہو دور کاخاتمہ ہوسکتاہے ۔
بنجامن نیتن یاہو کی پوری انتخابی مہم ویکسینیشن پر مبنی تھی۔ اسرائیل نے فائزر سے یہ ویکسین خریدی تھی اور نیتن یاہو کو ایسا دکھایا کہ صرف وہ ہی یہ ڈیل کر سکتے تھے ، مارچ میں اسرائیل کی کل آبادی تقریباً 50 فیصد حصے کو ویکسین کی دونوں ڈوز مل چکی تھی۔










