احمد آباد (ایجنسی)
گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے لیکن کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ گجرات حکومت کی مدت نومبر 2022 میں ختم ہونے والی ہے ، لیکن بحث ہے کہ بی جے پی دسمبر کے بجائے 10 ماہ قبل فروری میں انتخابات کرا سکتی ہے۔ اسی وقت اترپردیش میں بھی انتخاب ہونےہیں۔ پارٹی یوپی اور گجرات میں ساتھ انتخاب کرانےکی تیاری کررہی ہے ۔
دینک بھاسکر کی خبرہے کہ بی جے پی ذرائع سے موصولہ معلومات کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی بمپر جیت کے بعد بی جے پی نے اگلے اسمبلی انتخابات میں عوام کا مزاج جاننے کے لیے ایک نجی سروے کروایا تھا۔ اس میں موجودہ سیاسی حالات میں جلد ہی انتخابات کرانے کی بات سامنے آئی ہے ۔
آپ کو وقت ملا تو بی جے پی کو نقصان !
بی جے پی کے ایک اندرونی سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ موجودہ صورتحال میں کانگریس کے پاس اب بھی تنظیم ، ہم آہنگی اور سرگرمی کا فقدان ہے۔ اتنا ہی نہیں، کانگریس اندرونی خلفشار سے بھی دوچار ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی گجرات میں آگئی ہے اور بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کے مقابلہ میں اس کی کارگردگی بھی بہتر رہی ہے ۔
ایسی صورت حال میں اگر انتخابات دسمبر 2022 میں ہوتے ہیں تو عام آدمی پارٹی کو کچھ بڑے رہنماؤں کو اپنے پالے میں لےکرتنظیم کو مضبوط کرنے کا کافی وقت مل جائےگا، ایسے میں اسمبلی انتخاب میں بی جےپی کو کانگریس کے ساتھ -ساتھ عام آدمی پارٹی کا بھی سامنا کرنا پڑےگا۔ ابھی آپ کے پاس انتخاب لڑنے کے لیے کوئی بڑا چہرہ بھی نہیں ہے۔ اس طرح موجودہ حالت میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے جلد انتخاب ہوتےہیں تو بی جے پی کو اس کازیادہ فائدہ مل سکتا ہے ۔
بتادیں کہ گجرات میں اگست میں روپانی سرکار کے 4سال پورے ہونے پر ریاست میں جگہ – جگہ پروگرام ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک کے بعد ایک ترقیاتی کاموں کا افتتاح بھی ہورہے ہیں۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں پی ایم مودی ،امت شاہ اور وجے روپانی کےذریعہ درجنوں افتتاح کئے جاچکے ہیں۔
اس کے علاوہ مہنگائی بھتہ بڑھانے اور سرکاری دفاتر میں خالی پڑی آسامیوں کو پر کرنے کی کوشش بھی حال ہی کے دنوںمیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی قیادت جگہ جگہ پروگرام منعقد کرکے تنظیم کو مضبوط کررہی ہے۔ یہی سب باتیںاس بحث کو اور پختہ کرتی ہیں کہ بی جے پی گجرات کے انتخاب جلد سے جلد کرانا چاہتی ہے۔










