اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اقتدار بچانے اور چھیننے تک محدودانتخابی مقابلے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اقتدار بچانے اور چھیننے تک محدودانتخابی مقابلے
61
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: عبد السلام عاصم

”۔۔۔اگر آخری لمحے میں کوئی دھوکے کی چال کامیاب نہیں ہوئی تو یوپی میں اِس بار فلاں پارٹی کہ حکومت کا بننا طے ہے“۔آج کل کچھ سیاسی نشستوں میں اِس طرح کی باتیں اکثر سنائی دیتی ہیں۔نام نہاد انتخابی پنڈتوں کی ایسی پیش قیاسیوں پر غور کرنے سے بس یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر یہ دعویٰ ہے تو اِس میں کوئی دم نہیں ہے اور اگر دفاعی لائن ہے تو انتہائی غیر مربوط اور کمزور۔ ایسی ہوائی باتوں سے البتہ یہ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ بظاہر مذہبی غلبے والی سیاست کے زیر اثر ماحول میں ایک دو آزمائشی مرحلے سے کامیاب گزرنے کے باوجود مجموعی طور پر ملک کی جمہوری سیاست انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ اور اس کیلئے حکمراں اور اپوزیشن پارٹیاں دونوں کم و بیش مساوی طور پر ذمہ دار ہیں۔

پچھلی چند دہائیوں کے الیکشن رُخی سیاسی اعمال صاف بتاتے ہیں کہ اب حکومتوں کو بس اقتدار بچانے سے اور اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی باری کا اصرار منوانے سے دلچسپی باقی رہ گئی ہے۔ دونوں کو اقتدار کی دہلیز تک اپنے اس مشن کا سفر ووٹروں کے کندھوں پر سوار ہو کر طے کرنا ہے اور راستے میں ایک دوسرے سے لنگڑی بازی کا گھناونا سیاسی کھیل بھی کھیلنا ہے۔ اس بے ہنگم مشق میں جن کندھوں کو آزمایا جا رہا ہے وہ اب دن بہ دن کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن دونوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ بیشتر اخبارات کی کمائی بھی اب چونکہ اخبار خریدنے والے عوام سے نہیں بلکہ اشتہار بیچنے والے خواص سے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ رات دن انہی کی مزاج پرسی میں لگے رہتے ہیں۔ عام قاری کیلئے اخبارات نے مختلف دلچسپیوں کے دن مقرر کر رکھے ہیں جن سے وہ بیچارے کم از کم ابھی تو باہر نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

یہ منظر بدلے گا تو ضرور مگر کب بدلے گا اس بابت قطعیت سے سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

غرض پسند سیاست دانوں کا پیٹ سیاسی، سماجی اور اقتصادی بدعنوانی سے تو ہمیشہ بھرتا رہا ہے لیکن جی نہ بھرنے کی وجہ سے وہ اس کاروبار کے نت نئے محاذ کھولتے رہتے ہیں۔ نیا محاذ ہندو اور ہندوتو کے فرق کی سیاسی تشریح و تعبیر سے کھولا گیا ہے۔ ووٹوں کیلئے اپنا ظاہری وضع قطع تک بدل کر گھومنے پھرنے کے بعد اب کانگریس کے رہنما راہل گاندھی یہ کہنے لگے ہیں کہ ہندستان ہندوؤں کا ملک ہے ہندوتوادیوں کا نہیں۔ اُن کے اِس اعلان پر کسی حلقے کی جانب سے لبیک کا اعلان تو ابھی تک اخباری سُرخیوں کی زینت نہیں بن سکا ہے لیکن کچھ لوگ غیر ہندوؤں کو اپنے مفاد کیلئے یہ کہہ کر گمراہ ضرور کرنے لگے ہیں کہ دیکھا! سیکولر بندہ کیسا اصل رنگ میں آ گیا۔ مخالف کیمپ نے بھی ان کے اس موقف کا نوٹس لیا ہے اور مغربی بنگال بی جے پی کے صدر ایس مجمدار نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ ہماری کامیابی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہندو کہہ رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ صرف انتخابات تک ہی چلے گا۔ اس دوران وہ جنیو بھی پہنیں گے اورمندربھی جائیں گے لیکن جب انتخابات ختم ہو جائیں گے تو پھر وہ سیاحتی ساحلوں پر نظر آئیں گے۔

کانگریس کی ویسے بھی 2019 کے عام انتخابات کے بعد کی سیاست پر سافٹ ہندوتوا کا الزام ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کانگریس نے اقلیت کے رُخ پر فرقہ وارانہ سیاست کا اپنا پرانا طریقہ بدل کر جو نیا اکثریت رُخی راستہ اپنایا ہے اُس پر وہ ازخود نہیں چل رہی ہے بلکہ اُسے چلایا بہ الفاظ دیگر پھنسایا جا رہا ہے۔یہ اندازہ کتنا صحیح اور کتنا غلط ہے، اس کا بھی اندازہ سنئیر کانگریسی رہنما سلمان خورشید سے منسوب ایک اخباری رپورٹ سے لگایا جا سکتاہے جس میں انہوں نے کانگریس پر پر سافٹ ہندوتوا کے الزام سے متعلق ایک سوال کار است جواب دینے کے بجائے ہندوتوا اور ہندو مذہب دونوں کو ایک پلڑے میں رکھا تھا۔

قارئین حیران نہ ہوں۔نام نہاد سیکولر اور غیر سیکولر لیڈروں کے حوالے سے یہ ساری باتیں بس محدود انتخابی مفادات رُخی باتیں ہیں۔ ویسے بھی تہذیب کے علمی ارتقا سے دور رہنے کی وجہ سے ہمارے یہاں اب قیادت کی سطح پر بیشتر حلقوں میں واقعاً نہ کوئی سیکولر بچاہے نہ کوئی دین دار۔صرف محدود مفادات کی سیاست کے تجار بچے ہیں جو انتخابی سیاست کے کاروبار میں کامیابی اور ناکامی دونوں سے نفع کشید کرتے ہیں۔ اس لئے ہارنے والا کبھی دھندہ نہیں بدلتا۔ البتہ منافع بخش کاروبار کا زیادہ /کم منافع دونوں میں بٹ جاتاہے۔ عوام الناس بشمول رائے دہندگان جب تک قطار سے کاونٹر تک پہنچتے ہیں انہیں پتہ چلتا ہے کہ قطار میں شامل کالابازاری کرنے والوں نے ساری خریداری کر لی۔ ان کیلئے لئے بس خالی کاونٹر کھلا پڑا ہے۔ اب جو خریدنا ہے وہ وفاداری بیچ کر خریدنا ہوگا اور احسانمند ہونے کا ثبوت دے کر گھر لوٹنا ہو گا۔

ابھی کچھ روز قبل کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذہب کے نام پر تشدد کرنے والے ڈھونگی ہوتے ہیں۔ وہ بنگلہ دیش میں مذہبی تشدد کے جواب میں تریپورہ میں مذہبی تشدد پر اظہار خیال کر رہے تھے۔اپنے مذمتی بیان میں وہ بہر حال یہ کہنا بھول گئے کہ اس ڈھونگ کا سہارا لینا ہی وہ موقع پرستانہ سیاست ہے جس سے ہمارے ہر عہد کی قومی اور علاقائی سیاست عبارت ہے اورسابقہ دور میں کانگریس نے ہی اس طرزِ سیاست کی بالواسطہ بنیاد رکھی تھی، موجودہ حکومت اس پر اپنے طریقے سے تعمیر کا کام کر رہی ہے۔

یہ منظر نامہ ہماری بدقسمتی سے ہمارے نام نہاد بزرگوں کا خلق کردہ ہے۔ کل تک ہمسائے کے یہاں اِس کی شدت دیکھ کر ہم افسوس تو کرتے تھے لیکن انسدادی رُخ پر کبھی ایسی کوئی مربوط کوشش نہیں کی گئی کہ جو ہمیں ماضی کے اپنے ہی غلطیوں سے سبق لے کر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی۔ جاپان سے یورپ تک اپنی اصلاح آپ کرنے کی مثالیں موجود تھیں لیکن ہمارے بزرگوں نے اُنہیں اپنے بچوں کے نصابات کا حصہ نہیں بننے دیا۔ کہیں اُنہیں ماضی گرفتہ رکھا تو کہیں اُن کے اندر ماضی گزیدہ ہونے کے ا حساس کو اتنی تقویت دی کی ہر طرف اذہان کے کھیت میں بس نفرت کی کاشت ہونے لگی۔

اس پس منظر میں یوپی کا انتخابی میدان جس طرح تیار کیا جارہا ہے اُس میں اندیشوں کی کاٹ امکانات سے کرنے کے بجائے ہر طرف وسوسوں کابازار گرم کر رکھا گیا ہے۔ اور اُن سے نجات کیلئے وہی پرانا کھیل نئے فریم ورک میں کھیلا جا رہا ہے۔ گاوں دیہات میں پہلے غریب ووٹروں کو براہ راست کرنسی نوٹوں کے ذریعہ خریدا جاتا تھا اور اکا دکا گرفت دکھا کر باقی سب کے گناہ دھو دئیے جاتے تھے۔ اب سائنٹیفک، برقی، ڈیجیٹل آلات کی بھوک اور کشش دونوں کو کیش کیا جا رہا ہے۔نعروں اور ترقی کے خواب دکھا اگر کسی قوم کی قسمت کو بدلا جا سکتا تو حقیقی اور سائنسی علم کی ترقی یافتہ اقوام کو ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN