لکھنؤ : (ایجنسی)
اتر پردیش میں اگلے سال کی شروعات میں اسمبلی انتخاب ہونے ہیں ۔ انتخاب کے کچھ ہی مہینے پہلے یوگی سرکار نے اپنی کابینہ میں توسیع کی ہے ۔ اس توسیع میں بی جے پی نے سوشل انجینئرنگ کو دھیان میں رکھتےہوئے جتن پرساد سمیت 7 لوگوں کو کابینہ میں جگہ دی ہے ۔ جس میں 3 وزیر او بی سی کمیونٹی سے اور دو ایس سی اور ایک ایس ٹی سے آتے ہیں ۔ وہیں پیترو پکش(آبائی نظام) میں اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے سی ایم یوگی نے ایک اور افسانہ کو توڑ اہے۔
بتادیں کہ سناتن دھرم کےعقیدے کے مطابق ’پیترو پکش‘ میں کوئی بھی اچھا کام نہیں کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں غور کریں تو سال 2017 میں پیترو پکش شروع ہونے سے پہلے ہی مودی سرکار نے بھی اپنی کابینہ میں توسیع کرلی تھی۔ اس وقت 6 ستمبر کو پیترو پکش شروع ہورہا تھا اور سرکار نے 3 ستمبر کو ہی کابینہ توسیع کرلی تھی ۔ وہیں گجرات کے نئے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے بھی پیترو پکش سے پہلے ہی 16 ستمبر کو اپنی کابینہ کی توسیع کی ۔
واضح رہے کہ اس سال 20 ستمبر سے پیترو پکش شروع ہوا ہے ، لیکن یوگی سرکار نے اسی پکش میں اپنی کابینہ کی توسیع کرکے اس استھا کو توڑ دیا ہے ۔ اس کے پہلے بھی یوگی آدتیہ ناتھ کچھ اور افسانوں کوتوڑ چکے ہیں۔ جن میں سی ایم یوگی اپنے دورحکومت میں کئی بار نوئیڈا جاچکے ہیں، جبکہ یو پی کی سیاست میں یہ مانا جاتا ہے کہ پردیش کا جو بھی وزیر اعلیٰ نوئیڈا جاتا ہے، اسے اگلے الیکشن میں کرسی گنوانی پڑتی ہے ۔ مایاوتی اور اکھلیش یادو نے اس پر عمل بھی کیا۔ حالانکہ 2017 میں نوئیڈا پہنچ کر سی ایم یوگی نے اس افسانوی بات کو توڑا اور تب سے لےکر آج تک وہ کئی بار نوئیڈا جاچکے ہیں ۔
جہاں یوگی سرکار نے کابینہ میں ریاست کے او بی سی ، برہمن اورایس سی ؍ ایس ٹی کمیونٹی پر زور دیا، وہیں مغربی یوپی کے بااثر جاٹ برادری کو اس توسیع میں شامل نہیں کیا گیا۔ وہ بھی جب مرکز کے زرعی قوانین کی مخالفت مغربی یوپی میں زیادہ نظر آرہی ہے۔
سابق بیوروکریٹ اور حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے ایک کے شرما کو یوپی کابینہ میں جگہ نہیں مل پائی۔ وزیر اعظم دفتر (پی ایم او ) میں کام کرچکے شرما کو لےکر پارٹی کے کچھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ انہیں بنیادی طور پر تنظیمی کردار دیاگیا ہے ۔
اب اگر ہم یوگی حکومت کی کابینہ کے بارے میں بات کریں تو ان کی کابینہ میں 84 فیصد وزراء ایسے ہیںجو گریجویٹ یا اس سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ۔ اے ڈی آر ( ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس) کی رپورٹ پر غور کریں تو جائیداد کے معاملے میں یوگی سرکار کے 80 فیصد وزیر کروڑ پتی ہیں۔ اس کے علاوہ 45 فیصد وزیر ایسے ہیں جن پر سنگین دفعات میں معاملے درج ہیں۔
یوگی کابینہ کے 80 فیصد وزیر کروڑ پتی ہیں، ایسے وزراء کی تعداد 35 ہے۔ بتادیںکہ یہ اعداد و شمار 2017 کے اسمبلی انتخابات کے دوران دائر کردہ حلف نامے پر مبنی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بریلی کے ایم ایل اے چھتر پال سنگھ کا نام کروڑ پتی وزراء کی لسٹ میں تو ہے لیکن ان کے نام پر ایک بھی 4 پہیہ گاڑی درج نہیں ہے، ان کے نام صرف ایک بائک ہے ۔
اس کے علاوہ بی جے پی میں 246 ایم ایل اے ہیں جو کروڑ پتی ہیں۔ وہیں سب سے کم جائیداد جون پور صدر سے ایم ایل اے گریش یادو کے نام ہے ۔ ان کے پاس 13 لاکھ روپے ہے ۔ وارانسی کے شیوا پور سے ایم ایل اے انل راج بھر اس معاملے میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں ، ان کے پاس 35 لاکھ کی جائیداد ہے ۔
اتوار کو یوگی کابینہ کے نئے چہروں میں سب سے زیادہ اثاثے کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے جتن پرساد کے پاس ہے ۔ بتادیں کہ جیتن پرساد کے پاس 12 کروڑ روپے اثاثے کے طور پر ہے ۔ ان میں پلٹو رام اور دنیش کھٹک کے اوپر فوجداری کے مقدمات درج ہیں ۔
ایس پی سربراہ اور یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اسے یوگی کابینہ میں شامل کئے گئے سات نئے چہروں پر دھوکہ کہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یوپی کی بی جے پی سرکار نے ساڑھے چار سال جن لوگوں کا حق مارا آج ان کو سرکار میں نمائندگی دینے کا ناٹک کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی ناٹک کا اختتامی سین شروع ہوگیا ہے۔










