نئی دہلی : (ایجنسی)
سنیکت کسان مورچہ کی پہلی آل انڈیادو روزہ کانفرنس جمعرات کو سنگھو بارڈر پر شروع ہوئی۔ گزشتہ نو مہینے سے نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے ، ایم ایس پی کی گارنٹی کے لیے قانون سمیت دوسری مانگوں کی حمایت میں دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا احتجاج چل رہا ہے ۔ آندولن کو نئی رفتار دینے کے لیے منعقد پروگرام میں 22 ریاستوں کے نمائندے شامل ہوئے۔ اس دوران گنا قیمت میں اضافہ کو کسانوں کی توہین قرار دیتے ہوئے سرکار کو اس حوالے سے حکومت کومیمورینڈم بھیجا گیا۔ اس میں 25 ستمبر کو بھارت بند کرنے کی ’کال ‘ کرنے پر بھی غور کیا گیا ۔
تین سیشن میں منعقد کانفرنس کا دوسرا سیشن مزدوروں پر عائد کئے گئے 4 لیٹر کوڈز پر پر مبنی تھا ۔ اسے رد کرنے سمیت دوسرے مسائل پرٹریڈ یونینز کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ پہلے دن کانفرنس میں 2500 سے زائد نمائندوں نے حصہ لیا۔ اس تاریخی کانفرنس میں 300 سے زائد کسان اور زرعی مزدور یونینوں ، 18 آل انڈیا ٹریڈ یونینز ، 9 خواتین تنظیموں، 17 طلبا اور نوجوان تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے مندوبین نے شرکت کی۔
بھارتیہ کسان یونین (غیر سیاسی) کے قومی ترجمان چودھری راکیش ٹکیت نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ مندوبین کا استقبال کرتے ہوئے ٹکیت نے کسانوں کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کے تمام مطالبات پورے ہونے تک پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔ تحریک کے دوران جان گنوان والے کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تعزیت کااظہار کیا ۔ کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر آشیش متل نے مسودہ تجاویز رکھا۔اس میں ملک بھرمیں چل رہے جد وجہد کو تیز کرنے اور توسیع دینے کی اپیل کی گئی۔
پہلا سیشن نئے تین زرعی قوانین پر مبنی تھا اور دوسرے سیشن میں صنعتی مزدوروں سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تیسرے سیشن میں زرعی مزدوروں ، گرامین اور قبائلیوں سے متعلق مسائل پر توجہ دی گئی۔ ہر سیشن میں 15 مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کسانوں کے عزم کو تقویت بخشی۔
اس دوران رہنماؤں نے بتایا کہ تینوں زرعی قوانین کیوں اور کیسے کارپوریٹ کے موافق ہیں اور ان قوانین میں ترمیم کے بجائے منسوخ کرنے پر کیوں زور دیا جا رہاہے ۔ دو دورزہ کانفرنس کے دوسرے دن کسانوں کی مانگوں پر اس پر نئے سرے بحث ہوئی ۔








