سری نگر : (ایجنسی)
وادی کشمیر میںبوکھلائے دہشت بے گناہوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔کشمیر میں 90 کی دہائی کے خوف زدہ دنوں کی واپسی کی آہٹ ہو رہی ہے ۔ کچھ ہندو پریوار وادی چھوڑ کر جانے بھی لگے ہیں۔ حالات بے حد کشیدہ ہیں۔ وادی میں کام کرنے والے ایک ہندو ملازم نے کہاکہ اس کا پریوار اسے جموں واپس آنے کی تاکید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیر مسلمانوں کی حفاظت کے لیے حالات ٹھیک نہیں ہیں اور ہمیں کچھ وقت کے لیے نکل جانا چاہئے ۔ ایک کشمیر پنڈت اسکول ٹیچر نے کہاکہ ہم نے اپنا سامان باندھ لیا ہے ۔ ہم واپس جموں جارہے ہیں ۔
یہاں ہماری حفاظت کون کرے گا؟ کشمیر پنڈت سنگھرش سمیتی کے سنجے ٹکو نے کہاکہ 1990 کا دور وادی میں واپس آگیا ہے ۔ صرف بھگوان ہی ہمیں بچائیں گے ۔ وہیں جمعرات کو پرنسپل سپیندر کے گھر پر تمام مذاہب کے لوگ جمع ہوئے ۔ انہوں نے دہشت گرد ی کے خلاف جم کر نعرے بازی بھی کی۔
دوسری طرف دہشت گردی کے پھر سر اٹھانے کے بعد سیاحوں کے قدم بھی رکنے لگے ہیں ۔ کشمیر میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران 3 لاکھ سیاحوں آئے تھے ۔ ہر دن 3 سے 4 ہزار سیاح یہاں پہنچ رہے تھے ۔ مگر دہشت گردوں کے ذریعہ قتل وغارت کا دور چھوڑ نے کےبعد 30 فیصد سیاحوں نے بکنگ رد کرائی ہے ۔
سری نگر میں ایک ٹریول ایجنسی چلانے والے محمد شریف کا کہنا ہے کہ کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس سال اب تک تقریباً 3 3 لاکھ سیاح کشمیر آچکے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو نئی دہلی میں کشمیر کے حالات کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی میٹنگ بھی لی۔
کشمیر کی سڑکوں پر ڈر کا ماحول ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اگلا نشانہ کون ہے۔ سیکورٹی بڑھادی گئی ہے ۔ ایک سرکاری اسپتال کے ایک ملازم نے کہاکہ ہمارے اسپتالوں اور دفاتر میں غیرمسلم ملازم ہے، ہم نہیں جانتے کہ انہیں کیا بتایا جائے، انہیں کیسے یقین دلائی جائے ۔
عیدگاہ علاقے میں مارے گئے ٹیچر دیپک کےایک رشتہ دار نے بتایا کہ اس نے واقعہ سے پہلے ہی بیوی آرادھنا سے فون پر بات کی تھی۔ نوراتر ی کی مبارکباد دینے کے ساتھ ہی اس نے بتایا تھا کہ اس نے برت بھی رکھا ہے ۔ آرادھنا نے روتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی کشمیر نہیں جانا چاہئے ۔ دہشت گرد وہاں کسی کو بھی مار سکتے ہیں ۔
کشمیر میںکچھ عرصہ سے فضا میں بہت مثبت صورت حال تھی۔ ایک ٹور آپریٹر نے بتایا کہ سنیما گھر کے افتتاح اور نائٹ لائف کو پھر سے شروع کرنے کی بات تھی، لیکن اب سب کچھ مشکل لگ رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ انہیں سیاحوں سے کوئی کال آر ہے ہیں ۔ زیادہ تر سیاح بکنگ رد کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں ۔
ایک سیکورٹی ماہر کے مطابق عسکریت پسند سیکورٹی فورسز کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہیں، اس لئے وہ سافٹ ٹارگیٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ قتل ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کشمیر سیاحوں کی آمد سے گلزار تھا۔ درجنوں مرکزی وزیر روز کشمیر آرہے تھے۔ مختلف منصوبوںکاافتتاح کررہے تھے ۔ وزیر داخلہ امت شاہ کے اس مہینے کے آخری میں آنے کی امید ہے ۔
حالیہ واقعات سے خوف زدہ بھوپیش کمار کا کہنا ہےکہ ہم اترپردیش سے یہاں روزی – روٹی کمانے کے لیے آئے ہیں ۔ ہم کسی سیاسی پارٹی سے جڑے نہیں ہیں۔ حال میں بہار کے ایک مزدور کےقتل کےبعد ہمارے من میں ڈر بیٹھ گیا ہے ۔ بھوپیش نے کہاکہ ہم واپس بھی نہیں جاسکتے ہیں۔ بھوپیش گزشتہ چار سال سے کشمیر میں رہ رہے ہیں۔
دیپک کے چچا زاد بھائی نے کہاکہ طلبا اور ان کے پریوار کو دیپک کے لئے آواز اٹھانی چاہئے۔ دہشت گردی کی ہر ممکن مخالفت ہونی چاہئے۔ اگر وادی کے لوگ دیپک کے حق میں کھڑے ہوں گے تو ہی لوگ وادی نہیں چھوڑیں گے ۔ ادھر کشمیر کے ڈی جے پی دلباغ سنگھ نے کہاکہ نہتے شہریوں کا قتل کشمیر میں صدیوں پرانے روایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے ۔










