نئی دہلی : (ایجنسی)
گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے ہفتہ کو اچانک استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد سے ریاست میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ دراصل ، اب تک اس بات کی کوئی بحث نہیں تھی کہ بی جے پی کے اندر ون خانہ کچھ اس طرح کی سرگرمیاں چل رہی ہیں، لیکن اگلے کچھ سالوںمیں جس طرح سے کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور اس سے پہلے بی جے پی کی زیر قیادت ریاستوں میں وزیراعلیٰ عہدہ کو لے کر ہیرا پھیری کی جارہی ہے اس سے کئی سیاسی اشارے واضح ہورہے ہیں۔
ہفتہ کو استعفیٰ دینے کے بعد وجے روپانی نے کہا ، ’’میرا ماننا ہے کہ اب گجرات کی ترقی کا یہ سفر وزیر اعظم کی قیادت میں نئے جوش اورنئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘ گاندھی نگر میں وجے روپانی نے کہاکہ میں گجرات کے سی ایم کے طورپر خدمت کرنے کا موقع دینے کے لیے بی جے پی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میرےدور حکومت میں مجھے پی ایم مودی کی قیادت میں ریاست کی ترقی سےجڑنے کا موقع ملا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اتراکھنڈ اور کرناٹک میں وزرائے اعلیٰ بدلے گئے تھے۔ سب سےپہلے اتراکھنڈ میں بی جے پی نے ترویندر سنگھ راوت کوسی ایم عہدہ سے ہٹایا ۔ اس کے بعد تیرتھ سنگھ راوت کو کرسی سونپی گئی، لیکن تیرتھ سنگھ راوت کچھ مہینے ہی وزیراعلیٰ کے عہدہ پر رہ پائے۔ اپنے کئی بے تکا بیانات کی وجہ سے وہ سرخیوں میں بنے رہے، جس کےبعد انہیں استعفیٰ دیناپڑا،حالانکہ اس کے پیچھے راوت نے آئینی وجوہات کاحوالہ دیا۔ راوت نے کہاکہ وہ اسمبلی کےرکن نہیں ہیں اور اب ریاست میں ضمنی انتخات نہیں کرائےجاسکتےہیں کیونکہ اگلے سال ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ۔ وہیں راوت کو ہٹاکر پشکر سنگھ دھامی کو سی ایم بنایا گیا۔ اب ترویندر سنگھ راوت نے گزشتہ دنوں پارٹی کے ہائی کمان سے پوچھا تھاکہ انہیں کیوں ہٹایا گیا۔
اتراکھنڈ کے بعد بی جے پی نے کرناٹک میں بی ایس یدی یورپا کو عہدے سے ہٹا کر ریاست کی کمان بسوراج بومئی کو سونپی ہے۔یہاں تک کہ بومئی کابینہ میں یدی یورپا کے بیٹے کو بھی جگہ نہیں ملی ہے ۔ اس کے بعد سے کئی طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں۔ اسمبلی انتخاب سے پہلے اس طرح سے وزیر اعلیٰ عہدہ کو لےکر پھیر بدل کرنا کئی سیاسی اشارے کررہے ہیں۔ اگلےسال ایک ساتھ پانچ ریاستوں میں پنجاب، منی پور، گوا، یوپی اور اتراکھنڈمیں انتخاب ہونے ہیں۔ وہیں گجرات اور کرناٹک میں بھی آئندہ سال کےآخر میں انتخابات ہونےہیں۔
ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا کہ گجرات کے وزیراعلیٰ نے اچانک استعفیٰ کیوں دیا۔ روپانی نے بھی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ وہیں اب سیاسی ماہرین اس ردو بدل کو آئندہ آنے والے وقت کے انتخابات سےجوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ بی جے پی کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان لیڈروں کی قیادت میں پارٹی کو آئندہ انتخابات جیتنے میں پریشانیاں آسکتی ہیں۔










