چنڈی گڑھ ؍فیروز پور(ایجنسی)
وزیر اعظم مودی کی منسوخ شدہ ریلی میں صرف 5000 لوگ موجود تھے۔ پنجاب کے تمام صحافیوں اور وہاں کے معروف اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے۔ یہ خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
دی ٹریبیون کے سینئر صحافی وشو بھارتی کی خبرکو اس اخبار نے اپنے پرنٹ ایڈیشن اور آن لائن میں شائع کی ہے۔ستیہ ہندی پراس ترجمہ شائع ہوا ہے۔دی ٹریبیون کی خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پردیش کی ریاستی بی جے پی یونٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ پانچ لاکھ لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کی فیروز پور ریلی میں شرکت کریں گے، لیکن یہ بمشکل 5000 لوگ جمع کر سکی، جو اس بھگوا پارٹی کے لئے بڑی شرمندگی ثابت ہوئی۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ریاست بھر سے لوگوںکو فیروز پور میں ریلی کےمقام تک پہنچانے کےلیے 3,200بسوںکاانتظام کیا تھا۔ ریاستی قیادت نے پارٹی کے ہر کارکن کو بسیں الاٹ کی تھیں۔ کچھ حلقوں کو تقریباً 60 بسیں الاٹ کی گئی تھیں۔ تاہم، وزیر اعظم کی ریلی سے پہلے یہاں اور وہاں کے کسان رہنماؤں کے ردعمل کو محسوس کرتے ہوئے، پارٹی نے ان بسوں کی تعداد کو کم کرنا شروع کر دیا جو سروس میں ڈالی جانی تھیں۔ اسے اس حد تک گھٹا دیا گیا کہ جلسہ گاہ پر پارکنگ کا انتظام صرف 500 بسوں تک محدود ہو گیا۔
اخبار کے مطابق کسان تنظیمیں کئی دنوں سے سخت احتجاج کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ انہوں نے گاؤں کے گردواروں سے اعلان کیا تھا کہ لوگ ریلی میں شرکت نہ کریں۔ سردی کی لہر اور بارش نے بھی بی جے پی کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ جس کے نتیجے میں بدھ کی صبح بھی اس کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ بی جے پی اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے مطابق بسوں کو بھرنے کے لیے کافی تعداد میں بھیڑ نہیں جمع کرسکی۔ بی جے پی کسان مورچہ کے ایک سینئر لیڈر نے کہاکہ یہاں تک کہ پارٹی لیڈروں کو بھی لیبر چوک سے زیادہ مدد نہیں مل پائی ہے۔ ( بتادیں کہ پنجاب میںجگہ – جگہ لیبر چوک ہے ،جہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگ آکر کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہاں سے لوگ انہیں اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ سیاسی پارٹی کی ریلیوں میں بھیڑجمع کرنے کے لیے بھی لیبر چوک بہت مدد گار ہے )

دی ٹریبیون کے مطابق بی جے پی نے اس کے بعد دعویٰ کیا کہ بسوںکو پروگرام کی جگہ تک پہنچانے سےروک دیا گیا،حالانکہ ذارئع کا بھی کہنا ہے کہ بسوںکوحقیقت میں روک دیاگیا تھا، لیکن یہ تعداد پارٹی کے 3,000بسوںکو روکنے کے دعوے کے آس پاس کہیں نہیں تھیں۔ ریلی کے لیے رکھی گئی 65,000کرسیوں میں سے 30,000کو الٹا رکھا گیا تھا۔ تقریباً 5,000کرسیوں پر لوگ بیٹھے تھے ۔
خبرمیں کہا گیا ہے کہ رد کی گئی ریلی نے پارٹی میں حاشیہ پر کر دئے گئے لیڈروں کو ریلی کےاہم منتظمین سے سوال کاموقع دے دیاہے ۔ ریلی کے انچاج بی جے پی جنرل سکریٹری جیون گپتا سے باربار بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا فون نہیں اٹھا۔ گزشتہ ہفتے ریاستی بی جے پی کے سربراہ اشونی شرما نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی اس ریلی کے لیے پانچ لاکھ افراد کو جمع کرے گی اور یہ پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلیوں میں سے ایک ہوگی۔
ستیہ ہندی کے شو نے بدھ کی رات ڈاکٹر مکیش کمار کے پروگرام ستیہ ہندی میں حقیقت بتائی، پنجاب کے سینئر صحافی راجیو بھاسکر اور چندر سوتا ڈوگرا نے بھی اس کی نشاندہی کی تھی۔ بھاسکر نے کہا تھا کہ اگر بھیڑ نہیں آئی تو بی جے پی کیا کرے گی۔ انہوں نے ریلی کو منسوخ کرنے کے لیے جھوٹے حقائق کا سہارا لیا۔ اس پروگرام میں سینئر صحافی انیل تیاگی نے بھی شرکت کی اور انہوں نے بھی ان دلائل سے اتفاق کیا۔ بھاسکر نے کہا کہ بھیڑ کی کمی کی اطلاع کے بعد ہی پوری پیش رفت بدل گئی۔ لیکن سب سے بڑا سوال وزیر اعظم کے اس متنازعہ بیان پر ہے کہ وزیر اعظم کا بیان صرف نیوز ایجنسی اے این آئی کو ہی کیوں ملا؟ وہیں ہر قدم پر صحافی پی ایم کے قافلے کے ارد گرد تھے۔ باقی میڈیا کو یہ بیان کیوں نہیں آیا؟ اس سوال سے جواب یہ نکلتا ہے کہ وزیراعظم کا بیان دانستہ طور پر دیا گیاتھا۔ اس کے بعد بی جے پی کے دیگر چھوٹے بڑے لیڈروں نے ذمہ داری دے کر اپنا فرض پورا کیا۔ پنجاب میں وزیراعظم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔










