نئی دہلی : (ایجنسی)
پارلیمنٹ کےایوان بالا ( راجیہ سبھا ) میں بھارت کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو پارلیمنٹ کا رکن نامزد کرنے کو چیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے سامنے ایک درخواشت دائر کی گئی ہے ۔
درخواست میں مدعا علیہ (گگوئی ) کے خلاف اسٹیٹس وارنٹ جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے ، جس میں انہیں یہ دکھانے کے لیے کہا گیا ہے کہ کس حقوق ،قابلیت اور ٹائٹل کی بنیاد پر وہ آئین کے آرٹیکل 80 (1) (A) پیراگراف ( 3) کے تحت نامزدگی کے ذریعہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کرسکتےہیں ۔ آئین کے مطابق جانچ کےبعد انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت سے ہٹا دیاجائے ۔
درخواست میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس گگوئی کی نامزدگی کے بارے میں نوٹیفکیشن جیسا کہ سرکاری گزٹ آف انڈیا – غیر معمولی – حصہ دوم – سیکشن 3 – سب سیکشن (ii) میں مورخہ 16 مارچ 2020 کو شائع کیا گیا ہے اور نوٹیفکیشن کو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951کی دفعہ 71 کےمطابق شائع کیا گیا ہے۔ اسے سرکاری گزٹ آف انڈیامیں غیر معمولی – حصہ دوم – سیکشن 3-سب سیکشن (ii) کو رد کیاجا سکتاہے ۔
سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی ایوان بالا میں نامزد رکن پارلیمنٹ (راجیہ سبھا ) ہیں۔ انہیں بھارت کے سرکاری گزٹ میں شائع ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ 16مارچ 2020 کو صدرجمہوریہ ہند کے ذریعہ نامزد کیا گیا تھا ۔
سابق چیف جسٹس گگوئی نے اکتوبر 2018 میں بطور سی جے آئی تقرری کے بعد 46 ویں چیف جسٹس آف انڈیا کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ 17 نومبر 2019 کو ریٹائر ہوئے۔








