نئی دہلی : (ایجنسی)
افغانستان کی صورت حال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے سابق وزراء کے نٹور سنگھ ، یشونت سنہا اور منی شنکر ایئر سمیت مشہور ہستیوں کے ایک گروپ نےبدھ کو سرکار سے طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کو اس ملک کی پیش رفت کا انتخابی فائدے کے واسطے بھارتیہ سماج کو فرقہ وارانہ طور پر پولرائزکرنے کے لیے استعمال نہیں کرنے دینے کی اپیل کی۔
اس گرو پ نے ’انڈین فرینڈ آف افغانستان ‘کے بینر تلے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاکہ افغان امن، قومی مفاہمت اور قومی تعمیر نو کی راہ پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو ایسے میں ہندوستانی ان کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور افغانستان کے خودار، محب وطن اور بہادر لوگوں نے ہر حملہ آور فوج کو شکست دی ہے اوروہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئےہیں ۔
اس بیان پر سابق وزرائے خارجہ نٹورسنگھ اوریشونت سنہا ،سابق سفارت کار اور کانگریس رہنما منی شنکر ایئر ، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر جولیوریبریو، سابق آئی اے ایس افسر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ ، افغان تجزیہ کار وید پرتاپ ویدک ، سینئر صحافی سعید نقوی ، سابق سفارت کار کے سی سنگھ ، سماجی کارکن سندیپ پانڈے، سابق راجیہ سبھا رکن ماجد مینن اور فورم فار نیو ساؤتھ ایشیا کے بانی سدھیندر کلکرنی کے دستخط ہیں ۔
اس گروپ نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ بھارت طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے۔ انہوں نے کہا ، ’ہم دوحہ میں حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باضابطہ تسلیم اور طالبان کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ان شخصیات نے بیان میں کہا کہ افغانوں کو پناہ دینے میں مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے جو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان صحافیوں ، فنکاروں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کے لیے عارضی رہائش کی اجازت دے جو اپنے ملک کے حالات سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔









