اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

امریکہ میں ذرائع ابلاغ کی آزادی

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
امریکہ میں ذرائع ابلاغ کی آزادی
68
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ڈاکٹر سلیم خان

صدر جو بائیڈن نے خارجہ پالیسی پر اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ آزاد پریس جمہوریت کی صحت کے لیے لازم ہے ۔دنیا بھر میں فی الحال جمہوریت کا غلبہ ہے اس کے باوجود حاکم و محکوم کے درمیان تقسیم کاریوں ہے کہ اقتدار کی کرسی پر فائزلوگوں کا کام اپنے من کی بات بولنا ہے ۔ عوام جواس کرسی کو اپنے کندھے پر لاد کر چلتے ہیں ان کا فرض منصبی چپ چاپ سرجھکا کر سننا ہے۔ سماج میں جب تک ان حدود و قیود کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے اس ضابطۂ اخلاق کی پابندی کی جاتی ہے امن و امان قائم رہتا ہے لیکن اگر کوئی بھولا بھٹکا سلگتا سوال کردے تو عالم پناہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ رعونت کا یہ عالم ہے کہ حکمرانوں کو وہ سوالات بھی تلخ لگتے ہیں جن کا تعلق مفادِ عامہ سے ہو اور عوام کواس کی تلخی کا احساس بھی نہ ہو ۔ ناراض ہونے کے لیے کسی حکمراں کا مودی یا ٹرمپ ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ بائیڈن جیسا پختہ کار اور نرم خو نظر آنے والے بھی اپنا آپہ کھودیتے ہیں۔ امریکی صدر صرف اپنے من کی بات پر اکتفاء نہیں کرسکتا کیونکہ اس پر صحافیوں سے گفت و شنید لازمی ہے۔ اس مجبوری نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے کئی پہلو اجاگر کیے اور بالآخر جو بائیڈن کے چہرے پر پڑی خوبصورت نقاب کو بھی تار تار کردیا ۔

قصہ یہ ہے کہ قصر ابیض میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں قدامت پسند جماعت کے ہمنوا چینل ’فاکس نیوز‘ کے نمائندے نے امریکی صدر سے مہنگائی سے متعلق سوال کیا کہ ’کیا وسط مدتی انتخاب سے قبل ملک میں موجود مہنگائی سیاسی بوجھ ہے؟‘یہ ایک نہایت سادہ سوال ہے جس میں بظاہر کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔ اس کے باوجود جو بائیڈن نازک طبع پر یہ استفسار اتنا گراں گزرا کہ وہ بھول گئے مائیکروفون چل رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی سے متعلق سنجیدہ سوال کو مذاق میں ٹالتے ہوئے کہا کہ ’مہنگائی بڑا اثاثہ ہے‘، مزید مہنگائی، پھر ہلکی آواز میں صحافی کو بیوقوف کتے کا بچہ کہہ کر گالی دےدی ۔ اس تضحیک کو دنیا کی عظیم ترین جمہوریت میں بڑے آرام سے برداشت کرلیا گیا ۔ سوال کرنے والے صحافی پیٹر ڈوسی سے جب اس کی بابت دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ ’شور کے باعث میں سن نہیں سکا کہ صدر جو بائیڈن نے کیا کہا‘۔بعد ازاں ڈوسی پیٹر نے فاکس پر دیئے گئے انٹرویو میں اس واقعے سے متعلق پوچھے جانے پرخاموشی اختیار کرلی اور اسے ٹالتے ہوئے بے نیازی سے بولے اب تک کسی نے اس بارے میں حقیقت کو جانچنے کی کوشش نہیں کی ۔ یہ تو امریکہ کے آزاد میڈیا کا حال ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کے اعتراف میں کوئی عار یا پریشانی محسوس نہیں کی بلکہ پروگرام کے جاری کردہ اپنے ٹرانسکرپٹ میں اس گفتگو کو شامل کرلیا۔اس طرح اب یہ مذموم واقعہ امریکہ کی سرکاری تاریخ کا روشن باب بن گیا ہے۔وطن عزیز میں مغرب کی مرعوبیت کا یہ عالم ہے کہ اس کا عیب بھی لوگوں کو خوبی لگتا ہے۔ یہی معاملہ شمالی کوریا اور یا کسی مسلم ملک میں رونما ہوگیا ہوتا تو مشرق و مغرب میں اس پر نہ جانے کتنا ہنگامہ برپا ہوجاتا۔امریکہ کے اندر ذرائع ابلاغ کی آزادی کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل (جولائی ۲۰۲۰) میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس وقت جو بائیڈن نے صدارت کے امیدوار کی حیثیت سے اپنی مہم کے دوران مسلمانوں سے کچھ وعدے کرنے کی جرأت کردی تھی۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر مسلمانوں ہندوستان کی طرح کثیر تعداد میں نہیں ہیں کہ انتخابات پر کسی نہ کسی حد تک اثر اندا ز ہوسکیں ۔ وہاں پر مسلمانوں کی آبادی صرف 35 لاکھ یعنی مجموعی آبادی کا تقریباً 1.1 فیصد ہیں۔ اس لیے عام طور پر انتخابات میں کوئی جماعت مسلمان رائے دہندگان کوقابلِ التفات نہیں سمجھتی مگر جو بائیڈن کا معاملہ کچھ مختلف تھا۔ انہوں نے مسلمانوں پر توجہ دی تو وائس آف امریکہ اردو (نشریات ) میں بیٹھے مسلمان خوش ہوگئے اور انہوں نے جوش میں آکر اس خبرکو نشر کردیا۔ وی اور اے اردو نے اعلان کیا کہ ‘امریکہ کی کچھ اہم ریاستوں میں مسلمان ووٹرز کی تعداد آئندہ انتخاب میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، 2016 ؍انتخاب میں امریکی صدر 11 ہزار سے کم ووٹس کے ساتھ مشی گن میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ اس ریاست میں 15 لاکھ مسلمان ووٹرز ہیں’۔

اس خبر کے ساتھ وی او اے کی اردو ویب سائٹ پر ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں جوبائیڈن ایک غیرمنافع بخش امگیج ایکشن کی جانب سے منعقدہ تقریب میں مسلمان ووٹرز سے خطاب کر تے نظرآرہے تھے۔ اس ویڈیو میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ‘پہلے ہی دن’ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ مسلمان مخالف اقدامات کو ختم کردیں گے ساتھ ہی مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ ‘اسلاموفوبیا’ کو شکست دینے کے لیے انہیں ووٹ دیں۔ اس بیان میں بظاہر کوئی متنازع بات نہیں ہے اس کے باوجود تقریباً ایک ہفتے بعد ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے اس ویڈیو کو وائس آف امریکہ بھی چلانے والے ادارے امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) کے مدیر اعلیٰ مائیکل پیک کو روانہ کردیا۔ مائیکل پیک اس اعتراض کو نظر انداز بھی کرسکتے تھے لیکن ایسا کرنے سےسابق عالم پناہ کی ناراضی کا خطرہ تھا ۔ اس لیے انہوں نے فوری طور پر اس بات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا کہ کیسے اور کیوں یہ ویڈیو نشر کی گئی۔

امریکہ کے معاشرے میں جہاں آزادیٔ اظہار پر فخر کیا جاتا ہے اس خبر کو امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دے کر نشریہ کے لیے ذمہ دار عملہ کو جوابدہ ٹھہرانے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا ۔ مذکورہ خبر سے پریشانی کی ایک وجہ اس ویڈیو میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2 سب سے بڑی حریف، ڈیموکریٹک کانگریس وومن منی سوٹا کی الہان عمر اور مشی گن کی راشد طلیب کا نظر آنا تھا۔ امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا نے وی او اے کے ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس پر شیئر کیے جانے والے اس مواد کو بھی ہٹا دیا اور وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے زاویہ سے کارروائی پر غور وخوض شروع ہو گیا ۔ اس وقت امریکی میڈیا میں ‘کچھ وی او اے اردو کے ملازمین’ سے اس مواد کے نشر ہونے پر تحقیقات کی خبر آئی اور مائیکل پیک نے اس کا بلاواسطہ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر ج لوگ و ذمہ دار پائے جائیں گے ان سے ‘تیز اور منصفانہ طریقے’ پر نمٹا جائے گا۔ اس طرح کی دھونس اور دھمکی اگر صحافت کی ا ٓزادی ہے تو صحافتی غلامی کس چڑیا کا نام ہے ؟

امریکہ چونکہ دنیا کی سب سے عظیم جمہوریت ہے اس لیے بہت سے لوگوں کو یہ خوش فہمی ہوگی کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کے معاملے میں اگر نمبر ایک نہ سہی تو کم ازکم پہلے پانچ میں ضرور ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ پریس کی آزادی کے سلسلے میں جو فہرست مرتب کی جاتی ہے اس میں فی امریکہ 2020 کے اندر عالمی سطح پر 180 ممالک میں 45 ویں نمبر پر تھا۔ اس گراوٹ میں سابق صد ر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کو ‘بددیانت’ قرار دےدیا تھا۔ یویارک ٹائمز جیسے مؤقر اخبار کی بابت ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘غلیظ لب و لہجے میں میری غلط کوریج کرتے ہیں۔’ یہ سلسلہ ان کی مدت کار کے دوران جاری و ساری رہا۔ سن 2018 میں تو صدر ٹرمپ نے میڈیا کی رپورٹس کو ’جعلی خبریں‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف تمخسر اڑایا بلکہ صحافیوں پر زبانی حملے کرتے ہوئے انھیں ’ لوگوں کا دشمن قرار دے دیا تھا۔‘

اس تبصرے پر خوب بوال مچا اور ٹرمپ کے خلاف امریکہ کےتقریباً تین سو میڈیا اداروں نے ناراض ہوکر آزادی صحافت کی مہم چھیڑ دی تھی ۔ اس بابت بوسٹن گلوب کہ صدر ٹرمپ کی’تضحیک آمیز جنگ‘ کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان کیا تھا ۔بوسٹن گلوب کو ابتدا میں میڈیا کے 100 اداروں سے مثبت ردعمل ملا تھا لیکن آگے چل کر یہ تعداد 350 پر پہنچ گئی۔ اس تحریک میں امریکہ کے نمایاں قومی اخبارات سے چھوٹے اخبارات تک شامل تھے ہیں۔ بوسٹن گلوب نے اپنے اداریے لکھا تھا کہ آزاد میڈیا دو سو برسوں سے اہم امریکی ستون رہا ہے۔ اس وقت ایک سروے سامنے آیا جس کے مطابق 65 فیصد عوام یہ سمجھتے تھے کہ میڈیاکو جمہوریت کا اہم حصہ رہنا چاہیے لیکن ریپبلکن جماعت کے لوگوں کی کیفیت اس سے مختلف تھی۔ اس کے 51 فیصد ووٹر یہ سمجھتے تھےکہ’ میڈیا جمہوریت کا اہم حصہ نہیں بلکہ لوگوں کا دشمن ہے۔

میڈیا نے صحافتی آزادی کی مہم ٹرمپ کے بیانات کے نتیجے میں امریکی میڈیا پر دباؤ میں اضافہ کے سبب شروع کیا تھا۔ نجی ٹی وی چینل سی این این نے اس کی تصدیق میں ایک فوٹیج بنائی تھی جس میں صدر ٹرمپ کے حامی فلوریڈا کے جلسے کو کور کرنے والے صحافیوں پر تضحیک آمیز فقرے کستے ہوئے نظر آتے تھے۔اس کے باوجود ٹرمپ کے 52 فیصد حامیوں کو اس بات پرکوئی تشویش نہیں تھی کہ صدر ٹرمپ کی تنقید کے نتیجے میں صحافی تشدد کا شکارہوسکتے ہیں ۔ ایسا ہونا فطری بات ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں ایم ایس این بی سی سے وابستہ صحافی میکا برینزسكی کو ‘پاگل میکا’ اور ان کے ساتھی میزبان جو سکار برو کو ‘پاگل جو’ کہہ دیا تھا ۔ امریکہ میں پریس کے خلاف جنون کا یہ عالم تھا کہ قصر ابیض کی ترجمان اپنے صدر کے بیان کی حمایت میں کہہ دیا ‘مجھے لگتا ہے کہ امریکی لوگوں نے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو مضبوط، سمارٹ اور لڑنے والا ہے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی حیرت کی بات ہے کیونکہ وہ آگ کے خلاف آگ سے لڑتے ہیں۔’ دنیا کی عظیم ترین جمہوریت میں اگر صحافیوں کی یہ حالت ہے تو ہندوستان کی مسکین جمہوریت کے اندر گودی میڈیا کے وجود پر کسی کوحیرت نہیں ہونی چاہیے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN