لکھنؤ: (ایجنسی)
مودی حکومت کی مہربانی گوتم اڈانی کے اڈانی گروپ پرجم کر ہورہی ہے۔ اب اس گروپ کو گنگا ایکسپریس وے کا 80 فیصد حصے کوپورا کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس کے لیے مرکز کی جانب سے منظوری کا خط جاری کردیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، 594 کلومیٹر کی لمبائی میں سے اڈانی کی کمپنی بدایوں سے پریاگ راج تک 464 کلومیٹر کی تعمیر کرے گی۔
ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (اے ای ایل) کو گنگا ایکسپریس وے کے تین اہم حصوں کے عمل در آمد کولے کر اترپردیش ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے منظوری کا خط موصول ہوا ہے۔اس پروجیکٹ کی لاگت 17,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)کے تحت ملک میں کسی نجی کمپنی کو دیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا ایکسپریس وے منصوبہ ہے۔ اڈانی گروپ کو یوپی ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے منظوری کا خط ملا۔
اتر پردیش میں گنگا ایکسپریس وے دراصل میرٹھ کو پریاگ راج سے جوڑے گا۔ یہ ہندوستان کا سب سے لمبا ایکسپریس وے ہوگا جسے ڈیزائن، تعمیر، فنانس، آپریٹ اور ٹرانسفر(ڈی بی ایف او ٹی) کی بنیاد پر لاگو کیا جائے گا۔ اڈانی انٹرپرائزز نے کہا کہ وہ اترپردیش میں تین حصوں میں چھ لین والا ایکسپریس وے بنائے گا، جس کو آٹھ لین تک بڑھایا جاسکےگا۔ رعایت کی مدت 30 سال ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 594 کلومیٹر کی کل لمبائی میں سے، اڈانی انٹرپرائزز بدایوں سے پریاگ راج تک 464 کلومیٹر کی تعمیر کرے گی۔ یہ ایکسپریس وے منصوبے کا 80 فیصد ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اپوزیشن مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ مودی حکومت تین چار صنعتکاروں کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ نشانے پر گوتم اڈانی رہتے ہیں۔ اس کے بعد بھی حکومت نے انہیں ایک اہم پروجیکٹ دیا ہے۔
اس وقت اڈانی گروپ کے پاس 13 ایسے منصوبے ہیں جن کے تحت پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی سڑکیں بن رہی ہیں۔ ان کی قیمت 35 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ پروجیکٹ ملک کی نو ریاستوں میں چل رہے ہیں۔ ان میں چھتیس گڑھ، ایم پی، تلنگانہ، یوپی، کیرالہ، گجرات، مغربی بنگال، اڈیشہ اور آندھرا پردیش شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ تین صوبوں کو چھوڑ کر باقی اپوزیشن کی حکومتیں ہیں۔










