غزہ :
جنگ بندی کے لیے عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں مختلف اہداف پر بمباری کی جس میں کئی شہری شہید ہوگئے،حالانکہ حماس نے اشارہ دیا ہے کہ ایک دو دن میں فائر بندی کا امکان ہے ، ادھر اسرائیل کی طرف سے بھی عندیہ ملا ہے کہ نتن یاہو کا بینہ کے اجلاس میں سیز فائر پر مشاورت کریں گے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک کے 130 ارکان نے صدر جو بائیڈن سے اسرائیل و حماس کے درمیان تشدد کے فوری خاتمہ کی اپیل کی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر مارک ریگوو کاکہناہے کہ ان کے ملک کی طرف سے سیز فائر صرف چند مخصوص شرطوں پر ممکن ہے ۔ دراصل حماس کی طرف سے لگاتار راکٹ حملوں کی وجہ سے اسرائیل پر اپنے شہریوں کو لے کوزبردست دباؤ ہے ۔ اس جنگ سے اب تک دسیوں ملین ڈالر کا نقصان ہوچکاہے۔ دوسری طرف عرب مزدوروں نے ہڑتال کررکھی ہے جس میں صفائی عملہ، پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں اور تعمیرات شعبہ سے وابستہ مزدور ہیں ۔ اس ہڑتال سے تعمیراتی صنعت کو 4 کروڑ ڈالر کانقصان ہوا ہے ۔ معلوم ہو اہے کہ حماس نے دو اسرائیلی ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی لگاتار بمباری کے باوجود حماس کی فوجی صلاحیت مزاحمت کررہی ہے ۔ جرمن نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کو بھی مذاکرات میں شامل کیاجا نا چاہئے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرزکے مطابق حماس کے سیاسی ونگ کے عہدیدار موسیٰ ابو مرزوق نے لبنان کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ جنگ بندی سے متعلق جاری کوششیں کامیاب ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے ایک یا دو دن کے اندر جنگ بندی کی امید ہے اور جنگ بندی باہمی معاہدے کی بنیاد پر ہوگی۔
اسرائیلی پبلک ریڈیو پر جب انٹیلی جنس وزیر ایلی کوہن سے سوال کیا گیا کہ جمعہ کے روز سے جنگ بندی کا آغاز ہو جائے گا، تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر یقیناً دباؤ کا سامنا ہے، لیکن آپریشن تب ہی ختم ہوگا جب اسرائیلی حکومت فیصلہ کر لے گی کہ اس نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
مصر کے ایک عہدیدار کے مطابق ثالثوں کی مداخلت کے بعد دونوں فریقین نے جنگ بندی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر زور دیا ہے کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ کے نمائندے ٹور وینزلینڈ نے حماس کے رہنما اسماعیلی ہانیہ سے قطر میں ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جنگ بندی کا کہا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ فضائی حملے کیے تھے تاہم گزشتہ روز کے مقابلے میں حملوں کی تعداد اور شدت میں کمی آئی ہے۔10 مئی کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے 228 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جس نے غزہ میں انسانی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق غزہ سے ہونے والے فضائی حملوں میں اس کے 12 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔










