نئی دہلی (آرکے بیورو)براڈ کاسٹ بل پریس کی آزادی کو محدود کردے گا حالانکہ میڈیا پہلے ہی بہت سی پابندیوں کو جھیل رہا ہے مگر یہ بل سنسر شپ کا کام کرے گا اس سے ہماری جمہوریت کمزور ہوگی ۔اس لئے بل کو فوری واپس لیا جائےان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کی ماہانہ پریس کانفرس میں کیا گیا-
جماعت کے نائب امیر انجینئیر محمد سلیم نے معروف سوشل ایکٹوسٹ ہرش مندر کے یہاں چھاپوں پر سخت تشویش ظاہر کی اورکہا کہ تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعہ یہ مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کا حصہ ہے-انہوں نے اتراکھنڈ میں کامن سول کوڈ نافذ کرنے کے ارادے کو انتخابی ہتھکنڈہ قرار دیا-
جامع مسجد بنارس عرف مسجد گیان واپی کے حالیہ قضیہ پر جماعت کے موقف کا اظہار کرتے ہوئے نائب امیر ملک معٹصم خان نے کہا کہ مسجد کے برابر میں مندر پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں -انہوں نے بتایا کہ مسجد کے خلاف چوبیس پٹیشن دائر کی گئی ہیں
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہہ خانے میں کبھی پوجا نہیں ہوئی جیسا کہ ہندوفریق کی طرف سے کہا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جیوڈیشری اور ایڈمنسٹریشن کا رویہ انصاف کے تقاضے کو پورا نہیں کرتا ۔انہوں نے ان دونوں اداروں کے رویہ اور نیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ اس طرزعمل سے انصاف پسندوں کو تشویش ہے اور یہ ہمیں پریشان کررہا ہے ۔ملک معتصم نے سوال کیا کہ کیا عدلیہ پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر فیصلے کرے گی ۔انہوں نے ععبادت گاہ ایکٹ کی پابندی کرنے پر زور دیا-عدلیہ کے رول پر تنقید اور پھر اسی پر دستک دینے کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آخر ہم اور کہاں جائیں۔
ملک معتصم نے روزنامہ خبریں کے اس سوال پر کہ آخر سب کچھ عوام کریں گے تو آپ کیا کریں گے انہوں نے کہا کہ عوام ہی سب کچھ ہیں ابھی بھی انصاف پسند شہریوں سے امید ہے خاص طور سے ہندو بھائیوں سے کہُ وہ موجودہ حالات پر احتجاج کریں ور بیداری لائیں ۔عدلیہ کے فیصلوں اور ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات پر نوجوانوں میں بے چینی پر انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو صبرو تحمل کی تلقین کررہے ہیں مگر صبرو برداشت کی بھی حد ہوتی ہے،ہماری کوشش ہے کہ ان کو سمجھائیں کیونکہ قانون کی بالادستی سب سے اہم ہے۔








