احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سیریل دھماکہ کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 38 مجرموں کی سزائے موت اور 11 دیگر مجرموں کی عمر قید کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے تمام مجرموں کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے خصوصی عدالت کے 2022 کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ دھماکوں کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ عدالت کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو 5 لاکھ روپے اور معمولی زخمی ہونے والوں کو ایک لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔ یہ تمام ادائیگیاں 31 مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
2008 میں احمد آباد اور سورت کو بنایا گیا تھا نشانہ
26 جولائی 2008 کو احمد آباد کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے کئی بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کے دو روز بعد سورت شہر سے بھی متعدد زندہ بم برآمد کیے گئے تھے، جنہیں بروقت ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔
پولیس کی تحقیقات میں 100 سے زائد افراد کو ملزم نامزد کیا گیا، جبکہ 78 افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ فروری 2022 میں خصوصی عدالت نے 49 افراد کو قصوروار قرار دیا تھا، جبکہ 28 ملزمان کو شواہد کی عدم موجودگی میں بری کر دیا گیا تھا۔
معاملے میں ای میل، سازش اور 2002 فسادات کا بھی ذکر
مقدمے کی کارروائی کے دوران استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دھماکوں سے قبل بھیجی گئی ای میلز میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی اور انہیں 2002 کے گودھرا کے بعد ہونے والے فسادات کا بدلہ قرار دیا گیا تھا۔
خصوصی عدالت نے ایک سرکاری گواہ (Approver) کو معافی دی تھی، جبکہ چار دیگر سرکاری گواہوں نے بعد میں اپنے بیانات واپس لے لیے تھے، جس کے باوجود انہیں مجرم قرار دیا گیا۔
یہ مقدمہ بھارت کے بڑے دہشت گردی کے مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ان دھماکوں میں پہلی مرتبہ اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔








