نئی دہلی : (ایجنسی)
جس 2002 کے گجرات فساد کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل کردہ ایس آئی ٹی نے تمام ملزمین کو کلین چٹ دے دی تھی، اس معاملے میں پھر سے سماعت شروع ہوئی ہے۔ یہ سماعت ذکیہ جعفری اور ’سٹیزن فار جسٹس اینڈپیس‘ نام کی تنظیم کے ذریعہ سپریم کورٹ میں رجوع کرنے پر ہورہی ہے ۔ ذکیہ جعفری نے گجرات فساد میں اس وقتکے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور دیگر ملزمین کو ایس آئی ٹی کی جانب سے دی گئی کلین چٹ کے خلاف عرضی دائر کی ہے ۔ ذکیہ جعفری کانگریس رکن پارلیمنٹ مرحوم احسان جعفری کی بیوی ہیں ۔ احسان کی احمد آباد میں گلبرگ سوسائٹی میں قتل کردیا گیا تھا۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ میں بدھ کو مسلسل دوسرے دن سماعت ہوئی۔ ذکیہ کی طرف سے پیش وکیل کپل سبل نے ایس آئی ٹی جانچ اور اس کی کلوزر رپورٹ پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہاکہ 2002 کے گجرات فساد کےدوران تشدد پھلانے میں پولیس کی ملی بھگت کے ساتھ انتظامیہ کی غیر فعالیت اورسازش بھی شامل تھی۔ حالانکہ انہوں نے ذاتی طور کسی کا نام نہیں لیا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ ایس آئی ٹی نے فروری 2012 میں فسادات میں مودی کے ملوث ہونے سے بری ہونے کے بعد کلوزر رپورٹ داخل کی تھی۔ اسے دسمبر 2013 میں ٹرائل کورٹ نے قبول کیا تھا۔ گجرات ہائی کورٹ نے اکتوبر 2017 میں اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا اور اس کے بعد متاثرہ ذکیہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ کےذریعہ تشکیل ایس آئی ٹی نے فسادات میں مودی کے ملوث ہونے کے قصور وار سے آزاد کرنے کے بعد فروری 2012 میں ایک کلوزر رپورٹ دائر کی تھی۔ اسے ٹرائل کورٹ نے دسمبر 2013 میں قبول کرلیا تھا۔ گجرات ہائی کورٹ نے اکتوبر 2017 میں فیصلہ کو برقرار رکھا تھا اور تب متاثر ہ ذکیہ جعفری نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔
اسی معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی ہے ۔ وکیل کپل سبل نے جسٹس اے ایم کھانولکر ، دنیش مہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی بنچ کے سامنے منگل کو کہا تھا کہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم ( ایس آئی ٹی) نے اہم ثبوتوںکو نظر انداز کردیا تھا اور کلوزر رپورٹ داخل کردی تھی۔ سبل نے بدھ کو کہاکہ ’ نرودا پاٹیا( نسل کشی) معاملے میں ایک اسٹنگ آپریشن پر اعتماد کیا گیا تھا اورکسی کو بھی اس کی صداقت پر شک نہیں تھا اورصرف ایس آئی ٹی نے اسے نہیں دیکھا۔ پولیس وائرلیس پیغامات پر بھی غور نہیں کیا گیا ۔
’لائیو لاء‘ کی رپورٹ کے مطابق سبل نے کہا کہ سابق صحافی آشیش کھیتان نے بجرنگ دل سے وابستہ بابو بجرنگی کا اسٹنگ آپریشن کیا تھا، جن پر نرودا پاٹیا معاملے میں ہجوم کی قیادت کرنے کا الزام تھا۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ کیمرے پر بجرنگی نے تشدد میں اپنے رول اور پولیس اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے کردار کا اعتراف کیا تھا۔
واضح رہے کہ احتجاجی درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابرمتی ایکسپریس قتل عام کی لاشوں کو ایک نجی شخص کے حوالے کرنا ایک بڑی سازش کا حصہ تھا اور یہ احمد آباد میں لاشوں کی مبینہ ’پریڈ‘ تھی۔ اس کو ریاست بھر میں تشدد اور ہلاکتوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سبل نے کہا، ’’لاشوں کو جے دیپ پٹیل کو کیوں سونپا گیا یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جے دیپ پٹیل کوئی افسر نہیں تھا۔ وہ وی ایچ پی کے عہدیدار تھے۔ لاشوں کو ایک سرکاری دستاویز پر حوالے کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نتیجہ کیا نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کسی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ اس عمل میں ایسا کیا ہوا کہ جب صبح ساڑھے تین بجے یا چار بجے لاشیں ٹرک کے ذریعے پہنچیں، تب تک 3000 لوگ وہاں جمع ہو چکے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا، کس نے فون کیا، لوگوں کو کیسے پتہ چلا کہ جے دیپ پٹیل لاش لے کر جا رہے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جب 3000 لوگ جمع تھے تو دفعہ 144 کیوں نہیں لگائی گئی، 28 فروری کو رات ایک بجے تک کرفیو کیوں نہیں لگایا گیاتھا؟
سبل نے دو وزراء کے پولیس کنٹرول روم میں ہونے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نےکہا کہ ایک الزام لگایا گیا ہے کہ آئی کے جڈیجہ اس وقت کے شہری ترقی کے وزیر اور آشوک بھٹ قانون وزیر و سابق وزیر صحت کنٹرول روم تھے ۔ ایس آئی ٹی نے ملزمین سے پوچھا کہ کیا وہ وہاں تھے یا نہیں۔ ایک نے کہاکہ میں وہاں نہیں تھا۔ دوسرے نے کہاکہ میں وہاں 2-3گھنٹے کنٹرول روم میں تھا لیکن میں نے کوئی ہدایت نہیں دی۔ اور ایس آئی ٹی نے اسےتسلیم کرلیا اور یہ معاملہ ختم ہوگیا۔ یہاں تک کہ مقامی پولیس بھی ایسا نہیں کرے گی۔ جس میں ایس آئی ٹی نے ملزم سے وضاحت مانگی ہےاور وہ قبول کرلیا گیا ہے؟ ایک شہری ترقی وزیر کا پولیس کنٹرول روم میں کیاکام ہے؟ کسی کو اس کی جانچ کرنی ہوگی۔
انہوں نے اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ اور ڈی جی پی کے بیانات میں تضاد کی بھی نشاندہی کی۔ اس پر جسٹس کھانولکر نے کہا، ’اس رپورٹ میں دونوں پہلوؤں کو نوٹ کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔‘ اس کے بعد سبل نے پوچھا کہ لیکن اس پر کیا تفتیش ہوئی؟
سبل نے کہا، ’ایس آئی ٹی نے اس بات کی جانچ نہیں کی ہے کہ فائر بریگیڈ نے ایک کال کا بھی جواب کیوں نہیں دیا!‘ اس پر جسٹس کھانولکر نے پوچھا، ’فائر بریگیڈ سے کسی نےایس آئی ٹی کے پاس بیان درج کیا ہوگا۔‘ تو سبل نے جواب دیا،نہیں۔ میں یہی کہا رہا ہوں۔‘
اس دوران، سبل کے ایک تبصرہ پر، سپریم کورٹ نے کہا، ’یہ کوئی عام انکوائری نہیں ہے، بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ ایس آئی ٹی جانچ ہے۔ آپ کے پاس یہ کہنے کا حق ایک مدعا ہو سکتا ہے کہ کچھ اس نے نہیں کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا،اس پر سبل نے کہاکہ میں کہہ رہا ہوں کہ ہر ریاست میں جانچ ایجنسیاں ملزمین کی مدد کررہی ہیں ۔










