اردو
हिन्दी
مئی 1, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

حکیم اجمل خاں: طبی تحقیق، اصلاحات اور قومی خدمات کا درخشاں باب

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
16
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

  تحریر:ڈاکٹر عذرا انجم
(میڈیکل آفیسر یونانی حکومت دہلی )
حکیم اجمل خان (1868-1927) برصغیر کی تاریخ میں ایک منفرد اور درخشندہ مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک عظیم طبیب، محقق، ماہرِ تعلیم، سماجی مصلح، سیاستدان، اور شاعر تھے۔ انہیں نہ صرف یونانی طب کی احیا و ترقی کا علمبردار مانا جاتا ہے، بلکہ وہ جدید سائنسی تحقیقات کو روایتی طب میں شامل کرنے کے زبردست داعی بھی تھے۔ ان کی علمی بصیرت، طبی مہارت، اور قومی خدمات نے انہیں "مسیح الملک” کا خطاب دلوایا، جو ان کے طبی کمالات اور قومی جذبے کا ایک روشن ثبوت ہے۔
*حکیم اجمل خان کا خاندانی پس منظر اور ابتدائی تعلیم*
حکیم اجمل خان ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو صدیوں سے یونانی طب کے ماہرین پر مشتمل تھا۔ ان کے آبا و اجداد ترکستان کے علاقے کاشغر سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور مغلیہ دربار میں شاہی معالج کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کے دادا حکیم شریف خان اور والد حکیم غلام محی الدین اپنی زمانے کے ممتاز طبیبوں میں شمار کیے جاتے تھے۔حکیم اجمل خان نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کی، جہاں عربی، فارسی، اور یونانی طب کے بنیادی اصولوں سے آشنا ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے طب کی رسمی تعلیم مدرسہ طبیہ میں مکمل کی، جہاں انہوں نے روایتی طب کو نہایت گہرائی سے سیکھا اور عملی تجربہ حاصل کیا

ڈاکٹر عذرا انجم


*یونانی طب میں حکیم اجمل خان کی تحقیق اور اصلاحات*
حکیم اجمل خان اس بات پر گہرا یقین رکھتے تھے کہ طب محض روایتی نظریات اور نسخوں پر منحصر نہیں رہنی چاہیے، بلکہ جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں اس میں بہتری لانا ضروری ہے۔ انہوں نے یونانی طب میں متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں سائنسی بنیادوں پر ادویات کے اجزاء کی تحقیق، جدید تشخیصی طریقوں کا اطلاق، اور طبّی علوم کو سائنسی اصولوں کے مطابق ترتیب دینا شامل تھا۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ یونانی اور آیورویدک طب میں گزشتہ صدیوں سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ مغربی طب مسلسل ترقی کر رہی تھی۔ انہوں نے مغربی طب کے بعض اصولوں، خاص طور پر جراحی (سرجری) اور ادویات کی کیمیائی تحقیق کو یونانی طب میں شامل کرنے پر زور دیا۔
*مدرسہ طبیہ کی بنیاد اور طبی تعلیم میں اصلاحات*
1908 میں، حکیم اجمل خان نے مدرسہ طبیہ کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ترقی دے کر "آیورویدک اور یونانی طبیہ کالج” بنایا گیا۔ یہ ادارہ نہ صرف طبی تعلیم کا ایک ممتاز مرکز بن گیا بلکہ اس نے یونانی اور آیورویدک طب کی جدید تحقیق اور ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
مدرسہ طبیہ میں تدریسی نصاب کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، جہاں روایتی طبی اصولوں کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی تحقیق کو بھی شامل کیا گیا۔ یہاں تجرباتی تحقیقات کے لیے خصوصی لیبارٹریز قائم کی گئیں، جہاں یونانی اور آیورویدک ادویات کے کیمیائی تجزیے کیے جاتے
*ہندوستانی دواخانہ: روایتی ادویات میں جدیدیت کا آغاز
1915 میں، حکیم اجمل خان نے "ہندوستانی دواخانہ” قائم کیا، جس کا مقصد یونانی اور آیورویدک ادویات کو جدید سائنسی معیار کے مطابق تیار کرنا تھا۔ اس دواخانے میں روایتی جڑی بوٹیوں پر تحقیق کی جاتی اور ان کے فعال اجزاء کو جدید طریقوں سے کشید کیا جاتا تھا۔
یہاں ایک تحقیقی کمیٹی قائم کی گئی، جس میں ماہرینِ کیمیا، نباتات، اور دواسازی شامل تھے۔ اس کمیٹی کا کام یونانی اور آیورویدک ادویات کا سائنسی تجزیہ اور ان کی افادیت کو ثابت کرنا تھا۔
*یونانی طب میں تحقیقاتی اداروں کا قیام
1926 میں، حکیم اجمل خان نے "مجلس تحقیقات علمی” (ریسرچ کمیٹی) قائم کی، تاکہ یونانی طب کو جدید سائنسی تحقیق کے ذریعے مزید ترقی دی جا سکے۔ اس کمیٹی میں شامل افراد نے یونانی ادویات پر کیمیائی اور طبی تحقیق کی، جن کے مثبت نتائج بعد میں کئی جدید تحقیقات کی بنیاد بنے۔ان کے دور میں کیے گئے تحقیقی کاموں کے نتیجے میں کئی یونانی ادویات کو جدید طب میں شامل کیا گیا، جن میں "راوولفیا سرپینٹینا” (اسرول) بطور خاص قابل ذکر ہے۔ یہ دوا بعد میں جدید میڈیکل سائنس میں ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال کی جانے لگی۔
*حکیم اجمل خان کا سیاسی اور سماجی کردار*
حکیم اجمل خان صرف طبیب اور محقق ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ممتاز قومی رہنما بھی تھے۔ وہ گاندھی جی اور ڈاکٹر انصاری کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں سرگرم رہے اور کئی قومی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ خلافت تحریک کے سرگرم رہنما تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے پلیٹ فارمز پر بھی کام کرتے رہے۔انہوں نے قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی قابلِ قدر خدمات انجام دیں اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے۔ ان کی شخصیت میں حکمت، بصیرت، اور قیادت کے وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک عظیم رہنما میں ہونے چاہئیں۔*یونانی طب پر حکیم اجمل خان کے علمی اثرات*
حکیم اجمل خان نے یونانی طب میں جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں تحقیق اور تدریس کو فروغ دیا۔ ان کے کاموں کی وجہ سے یونانی طب کو ایک نیا وقار ملا اور اسے جدید طب کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے دروازے کھلے۔ان کی طبی اور تحقیقی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے 1969 میں "سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن” (CCRUM) قائم کی گئی، جس کا مقصد یونانی طب پر سائنسی تحقیق اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ 1978 میں اس ادارے کو مزید ترقی دی گئی اور مختلف تحقیقی منصوبے شروع کیے گئے، جن میں طبی جڑی بوٹیوں کی سائنسی تحقیق، معیاری دواسازی، اور روایتی ادویات کو جدید طب میں شامل کرنے کے منصوبے شامل تھے۔
*نتیجہ*
حکیم اجمل خان بیسویں صدی کی ایک درخشندہ شخصیت تھے، جو بیک وقت طبیب، محقق، سماجی مصلح، ماہرِ تعلیم، سیاستدان، اور شاعر تھے۔ انہوں نے یونانی طب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے انتھک محنت کی اور اس میں سائنسی تحقیق کو شامل کرنے کی راہ ہموار کی۔انہوں نے طبی تعلیم، ادویات کی تیاری، اور طبی تحقیق کے شعبوں میں قابلِ قدر اصلاحات متعارف کرائیں، جن کی بدولت یونانی طب آج بھی برصغیر میں ایک مستند اور مؤثر طریقہ علاج کے طور پر رائج ہے۔ ان کی تحقیقی بصیرت اور طبی مہارت آج بھی طبّی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے، اور ان کے علمی ورثے کو جدید تحقیق کے ذریعے مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکیم اجمل خان کی شخصیت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر روایتی علوم کو جدید تحقیق کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تو نہ صرف ان کی بقا ممکن ہے، بلکہ وہ ترقی کی نئی منازل بھی طے کر سکتے ہیں۔ ان کا علمی و طبی ورثہ آج بھی اہل تحقیق کے لیے مشعلِ راہ ہے اور طبّی دنیا میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN