لکھنؤ :(ایجنسی)
اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر ریاست میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی میدان کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکمراں جماعت بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران اے بی پی نیوز اور سی ووٹر کا ایک سروے سامنے آیا ہے۔ اس سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یوگی حکومت سے ناراض ہیں اور انہیں بدلنا چاہتے ہیں؟ جواب میں 48 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ حکومت سے ناراض ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔
اے بی پی نیوز اور سی ووٹر کے ڈیلی سروے میں بی جے پی کو دھچکا لگتا نظر آ رہا ہے۔ 17 دسمبر کے سروے کے مطابق 48 فیصد لوگوں نے یوگی حکومت سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جبکہ 9 دسمبر، 15 دسمبر اور 16 دسمبر کے سروے میں عوام کی ناراضگی کا گراف 47 فیصد رہا۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوگی حکومت کے تئیں عوام کی ناراضگی بڑھ گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی 17 دسمبر کے سروے میں 27 فیصد لوگ ایسے ہیں جو یوگی حکومت سے ناراض ہیں، لیکن وہ حکومت نہیں بدلنا چاہتے۔ 9 دسمبر کو ایسے لوگوں کا تناسب 30 فیصد تھا، جب کہ 15-16 دسمبر کے سروے کے مطابق 28 فیصد لوگوں نے یوپی کی موجودہ حکومت سے ناراضگی ظاہر کی تھی، لیکن وہ اسے تبدیل کرنے کے حق میں نہیں تھے۔
اے بی پی نیوز-سی ووٹر کے 17 دسمبر کے سروے میں 25 فیصد لوگ ایسے ہیں جو نہ تو یوگی حکومت سے ناراض ہیں اور نہ ہی حکومت بدلنا چاہتے ہیں۔ 15 اور 16 دسمبر کے سروے میں بھی ایسے افراد کی شرح 25 فیصد تھی۔ 9 دسمبر کے سروے کے مطابق 23 فیصد لوگ نہ تو حکومت سے ناراض تھے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنا چاہتے تھے۔اے بی پی نیوز – سی ووٹر کے اس سروے میں کل 12 ہزار 385 لوگوں نے حصہ لیا۔
وہیں لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے استعفیٰ کو لے کر اتر پردیش سے لے کر دہلی تک سیاست گرم ہو گئی ہے۔ یوپی پولس کی ایس آئی ٹی کی جانچ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن مسلسل اجے مشرا ٹینی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تاہم، ابھی تک اجے مشرا ٹینی مرکزی کابینہ میں موجود ہیں، جس کی وجہ سے بی جے پی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔










