غزہ:
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے آج بدھ کے روز نویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق اس نے تازہ ترین کارروائی میں غزہ پٹی کی جنوب میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے 40 زیر زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اسی طرح فوج نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد ضیف کو دو مرتبہ ہلاک کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کے 52 جنگی طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب غزہ کی پٹی میں خان یونس، رفح اور دیر البلح میں حماس کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔ اس دوران میں رفح اور خان یونس میں حماس کے دو کمانڈروں کے گھروں کو تباہ کر دیا گیا۔ ان کے نام بالترتیب عطاء اللہ ابو السبح اور اسامہ الطبش ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے فوج کے سینئر ذمہ داران کے حوالے سے بتایا تھا کہ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ گھنٹوں کے دوران میں حماس تنظیم کے سینئر ارکان کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کی منظوری دے دے۔ ان ارکان میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد ضیف شامل ہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملوں میں اسکولوں کو بھی نہیں چھوڑا۔اسرائیل نے ایک ہفتے کے دوران غزہ پر حملوں میں پچاس اسکولوں کو تباہ کردیا۔بچوں کی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 41 ہزار 800 سے زائد بچے متاثر ہوئے۔یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے راکٹ حملوں میں اسرائیل میں بھی تین اسکولوں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیل کو بھی یومیہ 37 ملین ڈالر کا معاشی نقصان

دوسری جانب اسرائیلی اخبار یدیؤتھ آہرونتھ نے بتایا ہے کہ موجودہ اسرائیلی و فلسطین مسلح تنازعے میں اسرائیل ہر روز تقریباً 37 ملین ڈالر کا براہ راست اپنا معاشی نقصان کر رہا ہے ۔اسرائیلی اخبار کے مطابق حالیہ غزہ پر بمباری کے پہلے آٹھ دن کے دوران اسرائیل کو 2014 میں غزہ کی پٹی پر 50 روزہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کے برابر معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق 4000 سے زیادہ اسرائیلیوں نے اپنے گھروں ، فرنیچر ، گاڑیوں اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے کے لئے درخواست دی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کے آس پاس کے علاقے میں اسرائیلی فیکٹریاں ، گودام ، کمپنیاں ، دکانیں اور زرعی منصوبے فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھا چکے ہیں۔
فرانس نے اقوام متحد ہ میں جنگ بندی کی قرار داد پیش کی

وہیں فرانس نے مصر اور اردن کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک قرارداد پیش کی ہے۔ فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں اوران کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں جنگ بندی کے لیے اس قرارداد سے اتفاق کیا ہے۔مصری صدر افریقہ کے بارے میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں ان دنوں پیرس کے دورے پر ہیں۔ پیرس میں ایلزے محل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ تینوں ممالک نے تین سادہ عناصر سے اتفاق کیا ہے:لڑائی بند ہونی چاہیے،جنگ بندی کا وقت آگیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس معاملہ پرغور کرنا چاہیے۔‘‘فرانس گذشتہ کئی روز سے فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ مصر کی مصالحتی کوششوں کا حامی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ابھی تک غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک سادہ اعلامیے کی منظوری میں بھی ناکام رہی ہے۔ اسرائیل کا پشتیبان امریکہ تنازع کے خاتمے کے لیے چین، ناروے اور تونس کے جنگ بندی سے متعلق مجوزہ بیانات کو مسترد کرچکا ہے دریں اثناء اقوام متحدہ میں چینی سفیر ژانگ جَن نے بتایا ہے کہ ’سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں ارکان نے فرانسیسی سفیر کی تجویز پرغور کیا ہے۔ چین یقینی طور پربحران کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے اورمشرقِ اوسط میں امن کی بحالی چاہتا ہے۔‘










