نئی دہلی : (ایجنسی)
دارالحکومت دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کا برا حال ہے۔ اسپتال میں مریضوں کو عام اینٹی بایوٹک دوائیں بھی دستیاب نہیں ہیں، یہی نہیں اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کوبیڈ تو دور کی بات اسٹریچر تک نہیں مل پارہے ہیں ، ایسے میں مریض وارڈ کے باہر ہی زمین پر پڑے رہنے کو مجبور ہیں ۔
صفدرجنگ اسپتال کے وارڈ نمبر 26 میں منگل کو ایک بورڈ پر لکھا گیا کہ یہ دوائیں اور چیزیں یہاں دستیاب نہیں ہیں۔ اس میںنیچے 9ادویات کے نام لکھے گئے ہیں ۔ ان میں Augmentin,Pitazجیسی عام سی اینٹی بایوٹیک دوائیں تک دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ میگنیکس اور ملٹی وٹامن بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اس سے کچھ دن پہلے چسپاں بورڈ پر لکھا گیا تھا کہ وارڈ میں مریضوں کے لیے ڈی این ایس کی بوتل تک دستیاب نہیں ہے۔اتنا ہی نہیں زندگی بچانے والی کئی ضروری ادویات کی عدم دستیابی کے بارے میں معلومات بھی بورڈ پر لکھ کر دی گئی تھیں، ایسے میں اسپتال میں آنے والے مریضوں کو باہر سے ادویات خریدنی پڑتی ہیں۔
اسپتال کے میڈیسن وارڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔ یہاںایک بیڈ پر کئی کئی مریض بھرتی کئے جاتے ہیں ۔ کچھ مریضوں کو تو اسٹریچر بھی دستیاب نہیں ہو پاتا اور وہ فرش پر لیٹے رہتے ہیں ۔ وہیں پر ڈاکٹر اور نرس ان کا علاج کرتےہیں۔ اسپتال کی ایک نرس اسپتال کے میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے وارڈ کے باہر زمین پر پڑے ان مریضوں کا بی پی چیک کرتی آئی وی کے ذریعہ گلوکوز اور دوائیں دیتی نظر آئیں۔ دہلی کے رہنےوالے 54 سالہ کلدیپ کےبیٹے نے بتایا کہ منگل کو وہ اپنے والد کو اسپتال لےکر آئے۔ وہاں ان کی طبیعت بگڑ گئی۔
اس کے بعد اسے وارڈ نمبر 11 کے باہر فرش پر ہی چھوڑ دیا گیا۔ تقریباًایک گھنٹے تک کوئی اسے دیکھنے بھی نہیں آیا۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل کے ذریعہ یہ معاملہ ٹوئٹر کے ذریعہ وزیر صحت کو ٹویٹ کرنے کے بعد افسران کے نوٹس میں آیا تو مریض کو بیڈ مل سکا۔ اس پورے معاملے پر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔










