رانچی : (ایجنسی)
21 دسمبر کو، جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت نے ہجومی تشدد کی روک تھام کے لیے اسمبلی میں انسداد ہجومی تشدد اور ماب لنچنگ بل-2021 پاس کیا۔اس بل کا مقصد ریاست میں آئینی حقوق کا تحفظ اور ہجومی تشدد کو روکنا ہے۔ جھارکھنڈ ایسا بل پاس کرنے والی چوتھی ریاست ہے۔ اس سے پہلے راجستھان، مغربی بنگال اور منی پور میں اینٹی ماب لنچنگ بل پاس ہو چکے ہیں۔ اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد اسے منظوری کے لیے گورنر کے پاس بھیجا گیا ہے۔
بل کیا کہتا ہے؟
اینٹی ماب لنچنگ بل ریاست کے پارلیمانی امور کے وزیر عالمگیر عالم نے اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بل کا مقصد لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا، آئینی حقوق کا تحفظ کرنا اور ہجومی تشدد کو روکنا ہے۔
بل میں ماب لنچنگ میں ملوث افراد کے خلاف تین سال سے لے کر عمر قید جیل اور 25 لاکھ روپے تک کے جرمانے کا التزام ہے۔ بل میں ماب لنچنگ کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کا بھی التزام ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بل میں متاثرین، ان کے خاندان کے افراد یا ان کی مدد کرنے والے لوگوںکو اگرکسی کے ذریعہ ڈرا یا دھمکی دی جاتی ہے اور دشمنی کا رویہ اختیار کیاجاتا ہے تو اس کے لیے بھی سزا کاالتزام کیا گیاہے ۔
پرتشدد پوسٹ شیئر کرنے پر کیا کارروائی ہوگی؟
اگر کوئی شخص ایسے پیغامات یا ویڈیو شیئر کرتا ہے جس سے ماب لنچنگ ہونے کے امکانات بنتے ہوںتو پولیس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ ایسے لوگوں کےخلاف ایف آئی آر درج کروائیں۔
اگر ایسا کوئی شخص کےذریعہ کسی طرح کے کسی کرائم کو انجام دیا جاتا ہے اور اس سے متاثرہ زخمی ہوتا ہے توملزم کو تین سال کی جیل اور ایک سے تین لاکھ روپے کے جرمانے کا التزام ہے ۔
اسی طرح اگر ماب لنچنگ کے شکار شخص کو سنگین چوٹپہنچتی ہے ، تواس صورت حال میں ملزم کے خلاف دس سال یا عمر قیدکی سزا اور تین سے پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانہ کا التزام ہے ۔
ہجوم نے قتل کیا تو سزا کا کیا التزام ہے؟
اگر ماب لنچنگ میں کسی شخص کی موت ہو جاتی ہے تو ملزم کو عمر قید کی سزا کے ساتھ پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔
اگر متاثرہ نچلی عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے تو وہ اس حکم کے خلاف 60 دنوں کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے، لیکن اگر اپیل کرنے والے کے پاس دیر ہونے کا مناسب وجہ ہے تو60 دنوںکے بعد بھی ہائی کورٹ متاثرہ کی اپیل کو قبول کرے گیؤ
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے اسمبلی میں یہ بل پاس ہونے کےبعد کہاکہ حکومت نے یہ بل ریاست میں امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے لائی ہے۔ بعض اوقات کچھ سماج دشمن عناصر اپنی حرکات سے باز نہیں آتے اور عام شہریوں کو کافی پریشانی میں ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے ریاست کے اندر بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کے لیے یہ قانون بنایا ہے۔
ریاست جھارکھنڈ کی اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے کہا کہ یہ بل جلد بازی میں اور ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ بی جے پی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔ بی جے پی ممبران اسمبلی کے واک آؤٹ کے درمیان ایوان نے بل کو منظوری دے دی۔










